جنرل قمر جاوید باجوہ نئے آرمی چیف مقرر

اپ ڈیٹ 26 نومبر 2016

ای میل

قمر جاوید  باجوہ 29 نومبر سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے — فوٹو: ٹوئٹر
قمر جاوید باجوہ 29 نومبر سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے — فوٹو: ٹوئٹر

اسلام آباد: کئی ہفتوں سے جاری قیاس آرائیوں و افواہوں کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے بالآخر چیف آف آرمی اسٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے لیے دو سینئر آرمی افسران کا انتخاب کرلیا۔

صدر ممنون حسین نے وزیراعظم نواز شریف کی تجویز پر لیفٹننٹ جنرل زبیر محمود حیات اور لیفٹننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو جنرل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی، ترقی کے بعد لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جبکہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو نیا آرمی چیف مقرر کیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو فور اسٹار جنرلز کے رینک پر ترقی دے دی گئی ہے، جس کا اطلاق 28 نومبر بروز پیر سے ہوگا۔

دونوں جنرل 29 نومبر بروز منگل سے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے اور اسی دن موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف ریٹائرڈ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہوگا؟

لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات تھے، یہ وہی عہدہ ہے جو آرمی چیف بننے سے قبل جنرل راحیل شریف کے پاس تھا۔

قمر جاوید باجوہ آرمی کی سب سے بڑی 10 ویں کور کو کمانڈ کرچکے ہیں جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔

قمر جاوید باجوہ — فوٹو: ٹوئٹر
قمر جاوید باجوہ — فوٹو: ٹوئٹر

جنرل قمر باجوہ کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (ٹورنٹو)، نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی مونٹیری (کیلی فورنیا)، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔

نئے مقرر کیے گئے فوجی سربراہ کو کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے، بطور میجر جنرل انہوں نے فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی کی۔

انہوں نے 10 ویں کور میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر بھی بطور جی ایس او خدمات انجام دی ہیں۔

کشمیر اور شمالی علاقوں میں تعیناتی کا وسیع تجربہ رکھنے کے باوجود کہا جاتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ دہشت گردی کو پاکستان کے لیے ہندوستان سے بھی بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کرچکے ہیں جو وہاں ڈویژن کمانڈر تھے۔

وہ ماضی میں انفینٹری اسکول کوئٹہ میں کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو توجہ حاصل کرنے کا شوق نہیں اور وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔

ان کے ماتحت کام کرنے والے ایک افسر کے مطابق وہ انتہائی پیشہ ور افسر ہیں،ساتھ ہی بہت نرم دل بھی ہیں جبکہ ان کو غیر سیاسی اور انتہائی غیر جانبدار سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے 16 بلوچ رجمنٹ میں 24 اکتوبر 1980 کو کمیشن حاصل کیا، یہ وہی رجمنٹ ہے جہاں سے ماضی میں تین آرمی چیف آئے ہیں اور ان میں جنرل یحیٰ خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل کیانی شامل ہیں۔

دوسری جانب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کیے گئے لیفٹننٹ جنرل زبیر حیات کا تعلق آرٹلری سے ہے اور وہ حاضر سروس چیف آف جنرل اسٹاف ہیں، تھری اسٹار جنرل کی حیثیت سے ماضی میں وہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں جو کہ این سی اے کا سیکریٹریٹ ہے۔

جنرل زبیر نے 24 اکتوبر 1980 میں آرٹلری رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، وہ فورٹ سل اوکلوہوما (امریکا)، کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کیمبرلے (برطانیہ) اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔

اس کے علاوہ وہ بہاولپور کے کور کمانڈر بھی رہ چکے ہیں لہٰذا وہ چیئرمین جوانٹ چیفس آف اسٹاف کے عہدے کیلئے آئیڈیل انتخاب ہیں، جس کے پاس جوہری فورسز اور اثاثوں کا مکمل اختیار ہوتا ہے۔

چیف آف جنرل اسٹاف اور ڈی جی ایس پی ڈی کے عہدے پر رہنے کی وجہ سے انہیں وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ قریب سے کام کرنے کا موقع ملا ہے۔

جب وہ میجر جنرل کے عہدے پر تھے تو جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) سیالکوٹ کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے اور بعد میں اسٹاف ڈیوٹیز (ای ڈی) ڈائریکٹوریٹ کی سربراہی کی جس کے اہلکاروں کے بارے میں آرمی میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ 'یہ کاغذ کے شیر ہیں'۔

ڈائریکٹوریٹ میں تعیناتی اور آرمی چیف کے پرنسپل اسٹاف آفیسر کے عہدے پر پوسٹنگ کی وجہ سے وہ جنرل کیانی کے قریب آگئے تھے اور انہیں جنرل کیانی کا شاگرد سمجھا جاتا تھا، تاہم انہوں نے کبھی جنگ زدہ علاقے میں خدمات انجام نہیں دیں۔

لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ کام کرنے کے جنونی ہیں جبکہ ان کا حافظہ بھی بہت تیز ہے۔

جنرل زبیر سیکنڈ جنریشن آفیسر ہیں اور ان کے والد بھی پاک فوج سے میجر جنرل کے عہدے پر ریٹائرہوئے تھے جبکہ ان کے دو بھائی بھی جنرل ہیں، ان میں سے ایک پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عمر حیات اور دوسرے انٹر سروس انٹیلی جنس کے ڈی جی اینالسس میجر جنرل احمد محمود حیات ہیں۔

اعلیٰ افسران کے تقرر کا طریقہ

چیف آف آرمی اسٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی نامزدگیوں کا باضابطہ آغاز جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کی جانب سے، وزارت دفاع کے ذریعے وزیر اعظم کو سینئر ترین آرمی افسران کی فہرست بھیجے جانے سے ہوتا ہے، لیکن اس میں کوئی سفارشات شامل نہیں ہوتیں۔

اس کے بعد وزیر اعظم نے کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل رخصت ہونے والے آرمی چیف سے اس حوالے سے غیر رسمی مشاورت کی۔

یہ بھی پڑھیں: جنرل راحیل کی لیگیسی

بعد ازاں صدر وزیر اعظم کی تجویز پر آرمی چیف کا تقرر کرتے ہیں، اسی لیے صدر کو فورسز کا کمانڈر انچیف بھی کہا جاتا ہے۔

جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ

یاد رہے کہ پاک فوج کے سربراہ کی حیثیت سے 3 سال کی توسیع قبول کرنے والے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے 2013 میں جب اعلان کیا کہ وہ دوسری بار مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے، تو اس وقت جنرل راحیل شریف آرمی چیف کی دوڑ میں پسندیدہ تصور نہیں کیے جارہے تھے۔

جنرل راحیل شریف عظیم حکمت عملی ترتیب دینے والے یا مفکر بھلے نہ ہوں مگر انہوں نے ایسے سخت فیصلے ضرور کیے جن سے دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔

جنرل راحیل شریف نے ایک انتہائی پروفیشنل فوجی کے طور پر اپنے عہدے سے پورے وقار سے سبکدوشی کے ساتھ اپنے ادارے کا وقار بلند کیا۔

ایسا کہا جاسکتا ہے کہ ہماری تاریخ میں ایسا کوئی دوسرا آرمی چیف نہیں گزرا ہوگا جس نے اس قدر عزت اور مقبولیت حاصل کی ہوگی۔

جنرل راحیل شریف کو ان کے جس فیصلے نے سب سے زیادہ مقبول کیا وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف جون 2014 میں شروع کیا جانے والا آپریشن ’ضرب عضب‘ ہے۔

یقیناً شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے کامیاب اختتام کا سہرا جنرل راحیل شریف کو جاتا ہے، جس علاقے کے بارے میں بین الاقوامی دہشت گردی کا بنیادی مرکز اور ہر قسم کے عسکری گروہوں، جن میں القاعدہ سے لے کر پاکستانی اور افغان طالبان شامل ہیں، کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا، اس علاقے میں جنرل راحیل شریف کے کمان حاصل کیے جانے کے بعد جلد ہی فوج حرکت میں آئی۔

انہوں ان لوگوں کے تمام خدشات غلط ثابت کیے جو ان خطرناک علاقوں میں جانے سے خبردار کر رہے تھے اور وہاں موجود باغیوں سے مصالحتی راہ اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔

مختلف ادوار میں رہنے والے آرمی چیفس