مردم شماری مارچ 2017 میں کروانے کا حکم

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2016

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2 ماہ میں مردم شماری مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ تحریری طورپر یقین دہانی کرائے کہ مردم شماری 15 مارچ سے شروع 15 مئی کو ختم ہوگی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مردم شماری میں تاخیر کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے مارچ اپریل 2017 میں مردم شماری کی سمری پیش کردی گئی ہے، جس کے تحت مردم شماری مرحلہ وار کروائی جائے گی اور ہر صوبے میں الگ الگ مرحلہ وار مردم شماری ہوگی، جس میں 3 ماہ لگیں گے۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے کہ مردم شماری کروانا آئینی ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھیں:مارچ-اپریل میں مردم شماری کی مشروط تاریخ مسترد

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ہمارے لیے یہ کیس بہت اہم ہے، ملک میں جمہوریت اور نظام کا دارومدار اسی پر ہے، اگر آپ حتمی تاریخ نہیں دیں گے تو پھر ہم وزیراعظم کو عدالت میں بلالیتے ہیں، ساتھ ہی انھوں نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اب آپ بتائیں وزیراعظم کب عدالت آسکتے ہیں، ہم پانچ ماہ سے یہ کیس سن رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب وزیراعظم کو عدالت میں بلانے کے علاوہ عدالت کے پاس کوئی چارہ نہیں، 7دسمبر تک حتمی تاریخ دیں ورنہ وزیراعظم کو عدالت میں بلائیں گے۔

عدالت نے حکم دیا کہ اٹارنی جنرل تحریری طور پر یقین دہانی کرائیں کہ مردم شماری 15مارچ سے شروع ہوکر 15 مئی تک ختم ہوجائے گی۔

معزز جج کا مزید کہنا تھا کہ مارچ 2016 میں یہ تمام مشق مکمل ہوجانی چاہیے تھی، 1998 میں آخری مردم شماری کی گئی تھی، 1998 اور موجودہ آبادی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سرحد پر کشیدگی مردم شماری کی راہ میں رکاوٹ

جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر کشیدگی کے باجود اگر الیکشن ہوسکتے ہیں تو مردم شماری کیوں نہیں ہوسکتی، حکومت اس معاملے میں دلچسپی لے ہی نہیں رہی، تمام سیاسی جماعتیں مل کر آئین میں یہ ترمیم کرلیں کہ ملک میں مردم شماری کی ضرورت ہی نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مردم شماری ملک میں ہرچیز کی منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے، حکومت اسے ہلکا لے رہی ہے، تاخیر سے مسائل کافی گھمبیر ہوں گے، جب تک دو لاکھ فوجی دستیاب نہ ہوئے تو الیکشن کمیشن کہے گا کہ 2018 کے الیکشن نہیں کرواسکتے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مردم شماری نہ کروا کر پورے ملک سے مذاق کیا جا رہا ہے، پورا ملک بغیر مردم شماری کے چل رہا ہے، مردم شماری ہوگی تو نئی حلقہ بندیاں ہوں گی۔

بعدازاں کیس کی سماعت 7 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

یاد رہے کہ مذکورہ کیس کی 18 نومبر کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے اگلے برس مارچ-اپریل میں مردم شماری کروانے کی مشروط تاریخ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت مردم شماری کروانے کی واضح اور غیر مشروط تاریخ دے۔

مزید پڑھیں: ملک میں مردم شماری موخر کرنے کا فیصلہ

دوسری جانب گذشتہ دنوں سینیٹ میں مردم شماری میں تاخیر پر پیش کی گئی تحریک پر بحث کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر محسن عزیز نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں مردم شماری ہر دس سال بعد ہوتی تھی، لیکن اب یہ 1998 سے زیر التوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری اقتصادی منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے اور کئی اقتصادی معاملات کا انحصار مردم شماری پر ہے۔

پی ٹی آئی سینیٹر نے مردم شماری میں تاخیر کو حکومت کی سب سے بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر مردم شماری کو فوجی جوانوں کی دستیابی سے جوڑا گیا تو یہ مزید کئی سال تک نہیں ہوسکی گی، حکومت نے 2016 میں مردم شماری کا وعدہ کیا تھا جسے اس نے پورا نہیں کیا'۔