ایران : امریکی سینیٹ کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام پر پابندی میں 10 سال کے اضافے کی ووٹنگ کو ایرانی وزارتِ خارجہ نے 2015 میں عالمی طاقتوں سے ہونے والے تاریخی ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان بہرام غصیمی نے جاری ہونے والے بیان میں بتایا کہ ’امریکی کانگریس کی جانب سے پابندیوں میں توسیع معاہدےکی خلاف ورزی ہے، ہم معاہدے کی نگرانی کرنے والی ایرانی کمیٹی کو اس بارے میں آگاہ کریں گے‘۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس اراکین اور حکام نے ایران سینکشنز ایکٹ میں تجدید کی بات کی، جس سے اس جوہری معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جس کے تحت ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کیا ہے۔

ایران کی روحانی شخصیت اور سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے نومبر میں خبردار کیا تھا کہ منظوری میں ہونے والی کسی قسم کی بھی تاخیر معاہدے کو متاثر کرے گی اور جوابی کارروائی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکومت بین الاقوامی معاہدوں اور وعدوں کی ذمہ دار ہے، اور امریکی صدر نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے

واضح رہے کہ ایران سینکشنز ایکٹ کی تجدید نہ ہوئی تو یہ 31 دسمبر کو ختم ہوجائے گا، وائٹ ہاؤس کی جانب سے اب تک توسیع کی کوئی بات سامنے نہیں آئی لیکن وائٹ ہاؤس نے کانگریس کے فیصلے پرسنجیدہ اعتراض بھی نہیں کیا ہے۔

کچھ کانگریسی معاونین کا خیال تھا کہ صدر براک اوباما اس کی منظوری دے دیں گے۔

دوسری جانب نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

خیال رہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذکورہ جوہری معاہدہ کئی سال پر محیط مذاکرات کے بعد جولائی 2015 میں طے پایا تھا۔

معاہدے کے تحت واشنگٹن اور تہران میں یہ سمجھوتہ بھی طے پایا کہ اقوام متحدہ کے انسپکٹرز ایرانی ملٹری سائٹس پر انسپکشن کرسکیں گے اور اس معاہدے کے متبادل کے طور پر ایران پر لگائی گئی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی جبکہ اسے امداد کے لیے اربوں روپے حاصل ہو سکیں گے۔

معاہدے کے لیے ایران کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر لگائی جانے والی پابندی کو اٹھایا جائے۔

جبکہ مذاکرات سے منسلک سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ایران پر کم سے کم جوہری ہتھیار بنانے کی پابندی مہینوں نہیں سالوں تک جاری رہے گی۔