ای میل

زیب النساء اسٹریٹ کا مایوس فنکار

ایاز احمد لغاری

ایسا نہیں کہ میں شہری زندگی سے واقف نہیں۔ صوبہءِ سندھ کے چوتھے بڑے شہر میں میرا جنم ہوا، پھر اعلیٰ تعلیم کی خاطر حیدرآباد نامی ہواؤں کے شہر میں خاک چھانی.

تاہم کراچی میرے لیے نیا تھا، اس وسیع و عریض، بکھرے، بے ترتیبی سے بھرپور، ملک کے بڑے سب سے بڑے شہر سے پالا اس وقت پڑا جب روزگار یہاں کھینچ لایا۔

شہر کی وسعت اس قدر ہے کہ اسے پورا دیکھنا کئی ماہ میں ممکن نہیں. برٹش دور کی عمارتوں، مارکیٹوں، بازاروں اور سمندر کی لہروں کے رومانوی مناظر دیکھنے کے لیے ہفتہ وار چھٹی پر شہر کی سڑکوں پر بنا کچھ سوچے نکل پڑتا ہوں۔

ایسے ہی ایک بار کشادہ سڑکوں کو عبور کرتے ہوئے، زیب النساء اسٹریٹ یا مارکیٹ پر آ پہنچا، یہاں گارمینٹس کی دکانیں، شاپنگ سینٹرز اور مالز موجود ہیں۔ بے منزل سفر کی راہوں پر چلنے کا بھی عجیب مزہ ہے، کیوں کہ ایسے میں آپ کا ذہن کسی کام کی پریشانی کا بوجھ اٹھائے نہیں پھرتا یا پھر منزل کی تلاش میں قدموں اور اعصاب کو مجبور نہیں بناتا۔

زیب النساء اسٹریٹ کے گرد گھومتے پھرتے، اچانک میری نظریں بیلٹوں، اور دیگر مردانہ گارمینٹس کے اسٹالوں سے پرے، ترتیب سے لٹکے ہوئے اسکیچز پر پڑیں۔

زیب النساء اسٹریٹ کے قریب پول پر لٹکےاسکیچز — تصویر ایاز احمد لغاری
زیب النساء اسٹریٹ کے قریب پول پر لٹکےاسکیچز — تصویر ایاز احمد لغاری

ایک فنکار اسکیچ بورڈ پر اسکیچنگ کر رہا ہے — تصویر ایاز احمد لغاری
ایک فنکار اسکیچ بورڈ پر اسکیچنگ کر رہا ہے — تصویر ایاز احمد لغاری

آرٹ سے اتنا آشنا تو نہیں مگر لگاؤ ضرور رکھتا ہوں۔ میرے نزدیک فنکار بھی کسی جادوگر سے کم نہیں ہوتے جو عام سے دکھنے والے میڈیمز سے مسحورکن فن کو تخلیق کر دیتے ہیں۔ مٹی کا ایک مجسمہ اپنی حالت سے نہ جانے کتنی کہانیاں بیان کر رہا ہوتا ہے۔ پینسل سے کھنچی لکیریں ایک منظر، ایک احساس کو اپنے اندر سمو لیتی ہیں۔

جمالیاتی کام کا انسان کے ساتھ رشتہ غاروں سے لے کر محلات تک قائم رہا اور آج بھی قائم و دائم ہے اور آج بھی ہر شخص کسی حد تک اپنے اندر کوئی نہ کوئی فنکارانہ صلاحیت اور فن سے لگاؤ رکھتا ہے۔

زیب النساء اسٹریٹ کے قریب میں نے ایک سگنل کے برابر میں ایک پول پر لٹکے ان اسکیچز کے سامنے دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا اپنی ناک پر عینک کا توازن بر قرار رکھتے ہوئے مسلسل بورڈ پر اسکیچنگ کر رہا ہے۔

لوگ اسے رنگین پینسلوں سے اسکیچنگ کرتا دیکھتے، ٹھہرتے اور پھر چلے جاتے۔ یہ فن کی طاقت ہی ہے کہ ایک شخص جو منزلوں کی راہ پکڑے چلتا ہے، وہ بھی ٹھہر کر چند لمحے فن سے محظوظ ہوتا ہے۔

آرٹسٹ دورانِ اسکیچ — تصویر ایاز احمد لغاری
آرٹسٹ دورانِ اسکیچ — تصویر ایاز احمد لغاری

آرٹسٹ دورانِ اسکیچ — تصویر ایاز احمد لغاری
آرٹسٹ دورانِ اسکیچ — تصویر ایاز احمد لغاری

ایک راہ گیر آ کر ٹھہرا، ’استاد تصویر بنوانی ہے۔ کتنے میں بنے گی؟‘‘

’اوپر والا سائز 2 ہزار اور نیچے والا سائز 6 ہزار،‘ وہ فنکار بولا۔

اور وہ راہ گیر بنا کچھ کہے آگے بڑھ گیا۔

میں نے تقریباً 20 منٹ تک وہاں کھڑے ہو کر انہیں اسکیچنگ کرتے دیکھا، پھر گفتگو کا آغاز کیا۔

’سر آپ کسی آرٹ گیلری میں کیوں ان کی نمائش نہیں کرتے؟’

جواب میں انہوں نے کہا کہ، ’آتے جاتے دنیا دیکھ رہی ہے، اس سے بڑی اور کیا نمائش ہوگی بھلا!’

'یہ بھی ٹھیک ہے، آپ کے فن کو دیکھ کر لوگ بڑی تعریفیں کرتے ہوں گے’

’ہاں کرتے ہیں، لیکن تعریفوں سے کچھ نہیں ہوتا!‘

'لیکن ایک فن کار کے لیے تو تعریف ہی سب سے اہم ہوتی ہے’

آرٹسٹ کا سامان — تصویر ایاز احمد لغاری
آرٹسٹ کا سامان — تصویر ایاز احمد لغاری

ایک اسکیچ — تصویر ایاز احمد لغاری
ایک اسکیچ — تصویر ایاز احمد لغاری

اس کے بعد ان کے اندر کا ایک آرٹسٹ باہر نکل ہی آیا جو شاید ایک عرصے سے گھٹن میں جی رہا تھا.

’میرے بھائی اسکول والے تعریفیں فیس کے طور پر نہیں لیتے، صبح دودھ والا تعریفیں دینے سے دودھ نہیں دیتا، وہ آرٹسٹس، وہ فن کار مر کھپ گئے. اس دنیا کے دستور کو حقیقت کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔'

میں دھیان سے ان کی باتیں اور ان کی فرسٹریشن کو سنتا رہا۔ اس دوران لوگوں کے وہاں ٹھہرنے اور اسکیچز کو دیکھ کر چلے جانے کا سلسلہ بھی جاری رہا، مگر انہوں نے اس تمام گفتگو کے دوران اپنی آنکھوں اور ہاتھوں کو ایک لمحے کے لیے بھی اسکیچ بورڈ سے نہیں ہٹایا۔

میں نے سوچا کہ شاید میری موجودگی اور باتوں سے ان کی فنکارانہ فوکس ٹوٹ رہا ہے، سو میں نے ان کی چند تصویریں کھینچیں، اور ان کا نام پوچھ کر اپنے بے منزل سفر پر واپس چل پڑا۔

لوگ اکثر چند لمحوں کے لیے فن کو دیکھنے ٹھہر جاتے ہیں — تصویر ایاز احمد لغاری
لوگ اکثر چند لمحوں کے لیے فن کو دیکھنے ٹھہر جاتے ہیں — تصویر ایاز احمد لغاری

انہوں نے تمام گفتگو کے دوران اپنی اسکیچنگ جاری رکھی — تصویر ایاز احمد لغاری
انہوں نے تمام گفتگو کے دوران اپنی اسکیچنگ جاری رکھی — تصویر ایاز احمد لغاری

انہوں نے اپنا نام ایم ظفر بتایا۔ وہ زیب النساء اسٹریٹ کے قریب اس ٹریفک سگنل پر صبح کے وقت آ جاتے ہیں اور پھر شام کو پورٹ گرینڈ کا رخ کر لیتے ہیں۔ ایک بات جو میں نے کبھی کسی آرٹسٹ کے منہ سے نہیں سنی، یا کوئی آرٹسٹ کبھی کہنے سے ڈرتا ہے، وہ بات ایم ظفر صاحب برملا کہتے ہیں کہ،

"میرا آرٹ صرف پیسوں کے لیے ہے۔ کیوں کہ پیسوں کے سوا دنیا میں زندہ نہیں رہا جا سکتا۔"

مجھے نہیں معلوم کہ امریکا یا لندن میں اسٹریٹ آرٹسٹ دن میں کتنے پیسے کما لیتے ہے اور کس طرح اپنی زندگی بسر کرتے ہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ کراچی کی اس سڑک کنارے بیٹھے آرٹسٹ جتنے بھرے ہوئے نہیں ہوں گے۔


لکھاری ڈان ڈاٹ کام کے اسٹاف ممبر ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔