متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) کا کارکن وسیم عرف راجا، پاک کالونی پولیس کی حراست میں متنازعہ صورت حال میں ہلاک ہوگیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایم کیوایم کے کارکن نے خودکشی کی ہے تاہم ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا دعویٰ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یکسانیت نہیں ہے۔

ایس ایس پی کراچی ویسٹ ناصر آفتاب نے کہا کہ پولیس نے وسیم عرف راجا کو اتوار کے روز غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا اور پولیس کی حراست میں انھوں نے خود کشی کی۔

ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا انھوں نے حراست کے دوران کپڑے کے ذریعے خودکشی کی تھی۔

سینئر افسر کا کہنا تھا کہ اتوار کی رات کے آخری پہر میں پولیس کو لاک اپ سے خطرناک آوازیں سنائی دیں جس کے بعد وہ وہاں پہنچے تو وسیم نے اپنے آپ کو لوہے کی سلاخ سے لٹکایا ہوا تھا۔

ہسپتال ذرائع نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کا موقف ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہلاک کارکن کی گردن پر خودکشی کے کوئی نشانات نہیں ہیں' تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ تاحال جاری نہیں کی گئی۔

ایم کیو ایم لندن کے رہنما ندیم نصرت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ 'وسیم کاماورائے عدالت قتل' ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے 67 اراکین کو 'ماورا ئے قانون قتل' کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وسیم اورنگی ٹاؤن میں ان کی پارٹی کا رکن تھا جس کو حراست میں 'شہید' کیا گیا انھوں نے زور دیا کہ وزیراعلیٰ اور آئی جی سندھ اس پر فوری نوٹس لیں۔

ایس ایس آفتاب کا کہنا تھا کراچی ویسٹ زون کے ڈی آئی جی ذولفقار لاڑک نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پاک کالونی کے ایس ایچ او کو معطل کردیا ہے اور ایس پی اورنگی کی سربراہی میں 'شفاف انکوائری' کی ہدایت کردی ہے۔