کراچی پولیس نے ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں آتشزدگی کے نتیجے میں 12 افراد کی ہلاکت پر ہوٹل کے مالک اور اس کی انتظامیہ کو مقدمے میں نامزد کرلیا۔

سینئر سپریٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) جنوبی ثاقب اسماعیل میمن کا کہنا تھا کہ ہوٹل میں آتشزدگی کی خلاف ہوٹل کے مالکان اور انتظامیہ ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔

پولیس نے ہوٹل مالکان اور انتظامیہ کے خلاف مجرمانہ غفلت، لاپرواہی اور ایمرجنسی کی صورت میں سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد نہ کرنے پر صدر تھانے میں مقدمہ درج کرلیا۔

مزید پڑھیں: ریجنٹ پلازہ آتشزدگی، تحقیقاتی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش

خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو واقعے کے تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی تھی جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔

سینئر پولیس افسر نے تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ہوٹل کی انتظامیہ نہ صرف سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد سے قاصر رہی بلکہ ریسکیو حکام کو بھی بروقت خبر نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ 5 دسمبر کو شارع فیصل پر واقع ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں آگ لگنے کے واقعے میں جھلسنے اور دم گھٹنے سے خواتین و بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ہوٹل میں آتشزدگی کا واقعہ رات گئے پیش آیا تھا، آگ ہوٹل کے گراؤنڈ فلور پر واقع کچن میں لگی تھی، جس نے آہستہ آہستہ ہوٹل کی 6 منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہوٹل میں مقیم سیکڑوں افراد محصور ہوگئے تھے۔

آگ لگنے کے بعد ہوٹل میں مقیم کئی افراد نے کھڑکیوں سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی تھی، چیف فائر آفیسر تحسین صدیقی کے مطابق ہوٹل میں سینٹرل ایئر کنڈیشنڈ سسٹم چلنے اور دھواں جمع ہونے کے باعث دم گھٹنے کی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'آگ لگنے کے باوجود نہ فائر الارم بجا نہ ہنگامی راستے تھے'

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آگ لگنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو فون کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو ہدایات دی تھیں کہ آگ لگنے کے واقعے کی تحقیق کے لیے محکمہ داخلہ، لیبر اور کے ایم سی کے اہلکاروں پر مشتمل ٹیم تشکیل دے کر علاقے کو کلیئر کرانے کی رپورٹ پیش کی جائے۔

سید مراد علی شاہ نے محکمہ سول ڈیفنس کو بھی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ بتایا جائے آگ بجھانے کے انتظامات تھے یا نہیں؟

تاہم ہوٹل ریجنٹ پلازہ کے حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ آتشزدگی کے واقعے کی اطلاع کے بعد فائر بریگیڈ نے پہنچنے میں تاخیر کی اور جب تک آگ بجھانے کا سامان موقع پر پہنچا آگ لگے ایک گھنٹہ گزر چکا تھا۔

ہوٹل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہوٹل میں قانون کے مطابق آگ کے بچاؤ کے تمام انتظامات موجود تھے۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق نجی کمپنی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایک سال قبل معائنے کے بعد مالکان کو ہوٹل کے غیرمحفوظ اور خستہ حال بجلی کے نظام کے حوالے سے خبردار کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی: ریجنٹ پلازہ میں آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 12 ہوگئی

برقی تحفظ اور آڈٹ اسیسمنٹ کے نجی ادارے الیکٹریکل انسپیکٹر پاکستان (ای آئی پی) جسے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کی جانب سے ملحقہ اداروں کے دوروں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، نے اپنی ایک سال پرانی رپورٹ میں ہوٹل مینجمنٹ میں سنگین خرابیوں کی نشاندہی کی تھی۔

ای آئی پی کے انجینئر ولی محمد راہموں کا کہنا تھا کہ کے سی سی آئی کو سونپی جانے والی ذمہ داری کے مطابق ہم نگرانی کا کام سرانجام دیتے ہیں، گذشتہ سال ہم نے 2 ہوٹلوں کا معائنہ کیا تھا جن میں سے ایک ریجنٹ پلازہ ہوٹل جبکہ دوسرا وزیراعلیٰ ہاؤس کے نزدیک واقع ہوٹل ہے اور ان دونوں ہی ہوٹلز کا برقی نظام خستہ حالی کا شکار تھا۔