کراچی: قومی احتساب نیورو (نیب) نے رواں سال 2016 کے دوران صوبہ سندھ کی 7 کھرب روپے مالیت کی زمین کو واگزار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ دعویٰ ڈی جی نیب کراچی (ر) لیفٹننٹ کرنل سراج النعیم نے سندھ گورنر ہاؤس کراچی میں ایک منعقدہ سیمنار کے دوران کیا۔

نیب کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی نیب کراچی زون نے اپنے خطاب میں عالمی انسداد کرپشن دن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 9 دسمبر کا دن اقوام متحدہ کے کنونشن اگینسٹ کرپشن (یو این سی اے سی) پر میکسکو میں ہونے والے دستخط کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس پر 2003 میں پاکستان نے دستخط کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان 43 ممالک میں شامل ہے جنھوں نے اس پر دستخط کیے۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی ایک داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی منظم جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی بینک کے اعداد وشمار کے مطابق ہر سال 2.6 کھرب کی کرپشن ہوتی ہے۔

کراچی نیب کی کارکردگی کی نشاندہی کرتے ہوئے ڈی جی نیب کا کہنا تھا کہ 2016 میں 6613 شکایات وصول اور نمٹا دی گئیں، 126 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں حکومتی عہدیدار اور افسران شام تھے، 200 کے قریب تحقیقات مکمل کی گئیں اور ایک ارب 739 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔

ان کے کہنا تھا کہ نقد رقم کی وصولی کے علاوہ نیب کراچی نے غیر قانونی طور پر قبضہ اور الاٹ کی جانے والی 125000 ایکٹر اراضی بھی واگزار کرائی، جو سندھ حکومت کی ملکیت تھی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ زمین کی مالیت 7 کھرب روپے ہے۔

اس موقع پر گورنر سندھ کے پرنسپل سیکریٹری صالح فاروقی، ڈائریکٹر اور ڈین آئی بی اے کراچی ڈاکٹر فرخ اقبال، پروسیکیوٹر جنرل احتساب ڈاکٹر وقاص قدیر ڈار اور بیرسٹر شاہدہ جمالی نے خطاب کیا۔

خیال رہے کہ نیب نے گورنر ہاؤس کراچی میں 'احتساب کے فروغ میں ریاستی اداروں کا کردار' کے عنوان سے ایک سیمنار منعقد کیا تھا جس میں سینیٹر تنویر الحق تھانوی، چیئرمین اینٹی کرپشن غلام قادر تھبو، چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان سہیل مظفر اور جناح ہسپتال کے ڈاکٹر طارق محمود بھی شریک ہوئے۔