سانحہ کوئٹہ: 'وفاقی و صوبائی وزراء داخلہ نے غلط بیانی کی'

اپ ڈیٹ 16 دسمبر 2016

کوئٹہ: سول ہسپتال دھماکے کے تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کشمکش کا شکار ہے، نیشنل سیکیورٹی پالیسی پر عمل نہیں کیا جارہا جبکہ قومی لائحہ عمل کے اہداف کی مانیٹرنگ بھی نہیں کی جاتی۔

سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل ایک رکنی انکوائری کمیشن کی رپورٹ جاری کردی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں وزرات داخلہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سانحہ کوئٹہ پر وفاقی و صوبائی وزراء داخلہ نے غلط بیانی کی، وزارت داخلہ کے حکام وزیر داخلہ کی خوشامد میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وزارت داخلہ کو اس کے کردار کا علم ہی نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے نیکٹا ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی، جبکہ ساڑھے 3 سال میں ادارے کا صرف ایک اجلاس بلایا گیا۔

کمیشن کے مطابق دھماکے کے بعد جائے وقوع کا فوری فرانزک تجزیہ بھی نہیں کیا گیا، جبکہ صوبے کے پولیس سربراہ بھی حملے کے بعد کیے جانے والے بنیادی اقدامات سے بھی لاعلم نکلے۔

یہ بھی پڑھیں: سول ہسپتال واقعہ سیکیورٹی اداروں کی ناکامی ہے:چیف جسٹس

رپورٹ میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دینے اوراداروں کوفعال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی سرحدوں پر موثر نگرانی نہ ہونے کے باعث دہشت گرد باآسانی ملک میں داخل ہو رہے ہیں۔

کمیشن نے مدارس کی مانیٹرنگ اور رجسٹریشن سمیت نیکٹا کو فعال کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ نیکٹا کے قانون کو دہشت گردی کے خلاف موثر طور پر استعمال کیا جائے، کالعدم تنظیموں کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اور دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیموں کو کالعدم قرار دیا جائے، جبکہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف نمائشی کارروائی کے بجائے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے ہسپتال میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات تھے اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے والے آلات بھی دستیاب نہیں تھے، جس کی وجہ سے کئی قیمتی جانوں کو بچایا نہیں جاسکا۔

مزید پڑھیں: سانحہ کوئٹہ کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن قائم

رپورٹ میں بلوچستان حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت میں اقربا پروری کا کلچر عام ہے، جبکہ 4 سیکریٹریز کو غیر قانونی طور پر تعینات کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 8 اگست کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بار کونسل کے صدر بلال انور کاسی کے قتل کے بعد سول ہسپتال کے گیٹ پر ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرنے والے دہشت گرد گروپ جماعت الاحرار نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا، بعد ازاں داعش نے بھی اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ کا ازخود نوٹس لے لیا

سول ہسپتال دھماکے میں زیادہ تر وکلاء ہلاک ہوئے، جائے وقوع پر موجود صحافی بھی دھماکے کی زد میں آئے اور نجی نیوز چینل آج ٹی وی اور ڈان نیوز کے کیمرہ مین دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

اہم سفارشات

  • نیشنل ایکشن پلان(نیپ) کو واضح، مکمل طور پر اور جامع نظام بنانا چاہئیے اور اس کا مسلسل جائزہ لیا جانا چاہئیے۔

  • نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم اتھارٹی(نیکٹا) کو فعال بنایا جائے۔

  • عوامی مقامات کو نفرت انگیزی، دہشت گردوں اور پروپیگنڈا سے بچانے کے لیے قانونسازی کرنے کی ضرورت ہے۔

  • انسداد دہشت گردی ایکٹ کو نافذ کرنے اور دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کو تاخیر کیے بغیر کالعدم قرار دینے کی ضرورت ہے۔

  • وفاقی اور بلوچستان حکومت کو ملزمان، مشکوک افراد، مجرموں اور دہشت گرد تنظیموں کی معلومات کا تبادلہ کرنا چاہئیے۔

  • فرانزک لیبارٹریز کو پولیس کے دائرہ اختیار کے بجائے ماہرین کے دائرہ اختیار لایا جائے اور ٹیسٹ کے نتائج کو مرکزی ڈیٹا بینک میں رکھا جائے جہاں سے تمام صوبائی حکومتیں نتائج حاصل کر سکیں۔

  • جائے وقوع کو ماہرانہ بنیادوں پر محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ جتنا جلدی ممکن ہوسکے وہاں سے ثبوت حاصل کرکے تصاویر حاصل کی جائیں۔

  • پروٹوکول یا اسٹینڈرڈ آپریٹنگ کے طریقہ کار کو ماہرین کی مدد سے تیار کیا جائے۔

  • اسپتال انتظامیہ، بلوچستان حکومت اور پولیس کی کوتاہیوں کو ختم کیا جائے۔

  • مدارس سمیت تمام تعلیمی اداروں کو رجسٹرڈ کیا جائے۔

  • پاکستان سے بیرون ملک جانے والے افراد کی مکمل مانیٹرنگ کی جائے۔

  • کسٹم حکام کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ کوئی بھی غیر ممنوعہ چیز ملک کے اندر داخل نہ ہوسکے۔

  • اگر میڈیا دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کے لیے نشریات چلائے تو قانون کے تحت اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

  • ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو جلد از جلد معاوضے کی رقم ادا کی جائے۔

تبصرے (0) بند ہیں