سندھ حکومت نے آئی جی پولیس کو 'رخصت' پر بھیج دیا

اپ ڈیٹ 19 دسمبر 2016

ای میل

آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ—۔فائل فوٹو
آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ—۔فائل فوٹو

کراچی: صوبائی حکومت نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اللہ ڈنو (اے ڈی) خواجہ کو جبری رخصت پر بھیج دیا۔

اے ڈی خواجہ نے تصدیق کی کہ انھیں 15 روز کی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے انھیں ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اتوار 18 دسمبر کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سے ملاقات کی اور انھیں رخصت پر جانے کو کہا گیا۔

دوسری جانب ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ کو ہٹانے سے انکار کردیا ہے۔

مزید پڑھیں:آئی جی سندھ تبدیل، اے ڈی خواجہ تعینات

ذرائع کے مطابق اے ڈی خواجہ کو ہٹائے جانے کے پیچھے بہت سے عوامل ہیں، جن میں راؤ انوار کی ایس ایس پی ملیر تعیناتی سے متعلق پیپلز پارٹی کی خواہش اور صوبے میں پولیس تعیناتیوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق جب تک وفاقی اور سندھ حکومتوں کے درمیان 'اختلافات' ختم نہیں ہوجاتے، ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر کو قائمقام آئی جی کا چارج دے دیا گیا ہے۔

اے ڈی خواجہ کو رواں برس 12 مارچ کو آئی جی سندھ کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، ان سے قبل غلام حیدر جمالی اس عہدے پر فائز تھے۔

پولیس سروسز گروپ گریڈ 21 کے افسر اے ڈی خواجہ کا تعلق ٹنڈو محمد خان سے ہے جبکہ وہ سندھ پولیس میں کئی اہم عہدوں پر رہ چکے ہیں۔