اسلام آباد: فنانس ڈویژن نے پاکستان میں نایاب پرندے ’تلور‘ اور ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کے انڈوومنٹ فنڈ کے لیے 25 کروڑ روپے جاری کردیئے۔

یہ رقم وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر جاری کی گئی۔

فنڈ کی منظوری وزیر اعظم نے اکتوبر میں دی تھی، جس کا مقصد ہجرت کرکے آنے والے پرندوں بالخصوص نایاب پرندے ’تلور‘ کی افزائش کو بڑھانا ہے۔

فنڈز ملک میں ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کی آبادی بڑھانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی شہزادوں کو پاکستان میں ‘تلور‘ کے شکار کی اجازت

وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے موسمیاتی تبدیلی فنڈز کے استعمال کو مربوط بنانے کے لیے صوبوں سے رابطہ کریں گے۔

ایک جانب حکومت تلور کے تحفظ اور اس کی آبادی بڑھانے کے لیے فنڈز جاری کر رہی ہے، تو دوسری جانب عرب معززین کو ان کے شکار کے لیے اجازت نامے جاری کیے جارہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے عالمی طور پر تحفظ شدہ تلور کے پنجاب اور بلوچستان میں شکار کے لیے 3 سعودی شہزادوں کو خصوصی اجازت نامے جاری کیے تھے۔

مزید پڑھیں: عرب شاہی خاندان کا پاکستان میں ’تلور‘ کا شکار جاری

یہ اجازت نامے حاصل کرنے والوں میں گورنر تبوک اور سعودی عرب کے سابق بادشاہ سعود بن عبدالعزیز السعود مرحوم کے دو بیٹے شامل تھے۔

قبل ازیں نومبر میں قطری شاہی خاندان کے افراد کو بھی تلور کے شکار کے لیے اجازت نامے جاری کیے گئے، جو ان دنوں شکار کے سلسلے میں پاکستان کے مختلف حصوں میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'تلور' کے شکار پر پابندی عائد

تلور کو ناصرف عالمی طور پر تحفظ حاصل ہے بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ کے ملکی قوانین کے تحت بھی ان کے شکار پر پابندی عائد ہے۔