سابق صدر آصف علی زرداری نے گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 'سرپرائز' کا اعلان کردیا کہ وہ اور ان کے صاحبزادے بلاول پارلیمنٹ کا حصہ بنیں گے۔

آصف زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ 'بلاول اور میں اب انتخاب لڑیں گے اور اسی پارلیمنٹ میں بیٹھیں گے'۔

ان کے اس بیان کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور شریک چیئرمین کو ضمنی انتخاب لڑانے کے لیے نواب شاہ اور لاڑکانہ کی نشست پر موجود پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی سے استعفیٰ لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری اور بلاول کا الیکشن لڑنے کا اعلان

لیکن پارلیمنٹ میں زرداری اور بلاول کی موجودگی کے بعد اپوزیشن کی حیثیت کس طرح تبدیل ہوگی؟

کیا ان کی موجودگی اس الزام کو دھو دے گی جو پیپلز پارٹی پر حقیقی اپوزیشن نہ ہونے کے حوالے سے عائد کیا جاتا ہے؟

کہیں یہ بیان پاکستان تحریک انصاف کو نیچا دکھانے کے لیے تو نہیں دیا گیا جو ہچکچاتے ہوئے دوبارہ پارلیمنٹ میں آئی ہے تاہم اب بھی ان کے رہنما عمران خان پارلیمنٹ میں نہیں آئے۔

یا پھر یہ اعلان بھی صرف الفاظ کا مجموعہ ہی ثابت ہوگا اور اس سے کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی؟ آئیے دیکھتے ہیں تجزیہ کار اور سیاستدان اس حوالے سے کیا رائے رکھتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے پلان کا انتظار ہے

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کے پلان کا انتظار کررہے ہیں اسکے بعد لائحہ عمل دیں گے، کوئی بھی الیکشن لڑ کر پارلیمنٹ میں آسکتا ہے۔

مقصد کیا ہے؟

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پیپلز پارٹی آصف زرداری کو پارلیمنٹ میں لانے کا مقصد واضح کرے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ پیپلزپارٹی واضح کرے کہ زرداری کو پارلیمنٹ میں لانے کاکیامقصد ہے؟

کچھ نیا نہیں ہوگا

پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطاب میں جو بھی باتیں کی گئیں وہ متوقع تھیں اس میں کچھ بھی نیا نہیں۔ صدر کے عہدے پر رہنے والا کوئی شخص کیوں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑے گا؟ اس کی منطق سمجھ نہیں آتی، میرا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی غلطی کررہی ہے۔

مایوسی میں اٹھایا گیا اقدام

مصنف اور صحافی زاہد حسین کہتے ہیں کہ یہ مایوسی میں اٹھایا گیا ایک اقدام ہے جس کا مقصد سیاست کے مرکزی اسٹیج پر واپس آنا ہے کیوں کہ قانون نافذ کرنے والوں کی جانب سے قریبی ساتھیوں کے خلاف کارروائیوں سے آصف زرداری پہلے ہی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے فیصلے سے سیاسی منظرنامے میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اس اقدام سے پیپلز پارٹی کے متزلزل حوصلے کو دوام ملے گا تاہم یہ بات واضح نہیں کہ آصف زرداری کی پارلیمنٹ میں آمد سے پیپلز پارٹی کو اپنا کھویا ہوا مقام واپس مل جائے گا۔

آئندہ انتخابات کی حکمت عملی

ڈان نیوز کے پروگرام 'ذرا ہٹ کے' کے شریک میزبان ضرار کھوڑو کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر یہ مثبت بات ہے کہ یہ لوگ پارلیمنٹ میں بیٹھیں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اقدام آنے والے انتخابات کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا مومینٹم بنانے کی حکمت عملی ہے۔ایک طریقے سے اس فیصلے سے پارلیمنٹ کی اہمیت میں اضافہ ہوگا اور خاص طور پر یہ بلاول بھٹو کے سیاسی کیریئر کے لیے فائدہ مند ہوگا اور انہیں پارلیمنٹ کا تجربہ حاصل ہوجائے گا۔

لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم خود پارلیمنٹ میں بہت کم آتے ہیں اور عمران خان کی اپنی شرکت اور پارلیمنٹ کے حوالے سے ان کے خیالات سب کے سامنے ہیں لہٰذا یہ خوش آئند ہے کہ کم سے کم ایک پارٹی کے سربراہ نے تو پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی بات کی۔

اس فیصلے سے پیپلز پارٹی کو کتنا فائدہ ہوگا یہ بحث طلب موضوع ہے، مجھے نہیں لگتا کہ پارلیمنٹ میں جانے سے پیپلزپارٹی کو پنجاب میں دوبارہ داخل ہونے میں مدد ملے گی، پنجاب میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے درمیان ہے مقابلہ ہوگا اور پیپلز پارٹی کو کوئی کردار نہیں ہوگا۔

سیاست میں کوئی چیز یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی لہٰذا پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان حکومت مخالف اتحاد کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔

کوئی حیران کن بات نہیں

صحافی ایار امیر نے چینل 92 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوام کا بڑا مجمع اکھٹا کیا کیوں کہ انہیں کوئی اعلان کرنا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔

غیر ضروری ہیجان

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم نے 92 نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ کہہ کر غیر ضروری ہیجان پیدا کیا گیا کہ قوم کو کوئی اچھی خبر یا سرپرائز ملنے والا ہے' لیکن یہ زرداری صاحب کے لیے اچھی خبر ہوگی لیکن 20 کروڑ عوام کے لیے نہیں۔