'کراچی سرکلر ریلوے سمیت 3 منصوبے سی پیک میں شامل'

اپ ڈیٹ 29 دسمبر 2016

ای میل

وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال بیجنگ میں جے سی سی کے اجلاس میں شریک ہیں — فوٹو بشکریہ سی پیک ویب سائٹ
وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال بیجنگ میں جے سی سی کے اجلاس میں شریک ہیں — فوٹو بشکریہ سی پیک ویب سائٹ

کراچی/ بیجنگ : چینی حکام نے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں سندھ کے تین ترقیاتی منصوبوں کو شامل کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔

وزیراعلیٰ سندھ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق چینی حکام نے کراچی سرکلر ریلوے، کیٹی بندر اور خصوصی اقتصادی زونز کے پروجیکٹس کو سی پیک میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اس بات کا فیصلہ بیجنگ میں سی پیک کے حوالے سے ہونے والے پاک چائنا مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) کے چھٹے اجلاس کے موقع پر کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اپنی کابینہ کے ارکان کے ساتھ شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی سرکلر ریلوے کی سی پیک میں شمولیت کیلئے اقدامات کی ہدایت

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاک چین مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) کے بیجنگ میں ہونے والے اجلاس میں سی پیک کے تحت زیر تعمیر منصوبوں پر ہونے والی پیشرفت کا جائز لیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی وزیر احسن اقبال نے پاکستانی وفد کی قیادت کی جبکہ وفد کے دیگر ارکان میں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حفیظ الرحمان شامل ہیں جبکہ صوبائی وزیر صنعت شیخ علاؤ الدین پنجاب کی نمائندگی کررہے ہیں۔

چین کے ترقی اور اصلاحات کے قومی کمیشن کے نائب چیئرمین چینی وفد کی قیادت کررہے ہیں۔

بیجنگ میں ہونے والے جے سی سی اجلاس میں شریک پاکستانی وفد — فوٹو بشکریہ سی پیک ویب سائٹ
بیجنگ میں ہونے والے جے سی سی اجلاس میں شریک پاکستانی وفد — فوٹو بشکریہ سی پیک ویب سائٹ

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے پیش کی جانے والی تفصیلات کے بعد جے سی سی نے مذکورہ منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا اور سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ آئندہ تین ماہ میں ان منصوبوں کی فیزیبلٹی رپورٹ پیش کی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر تجارت سید ناصر شاہ کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ وقت میں ان پروجیکٹس کی فیزیبلٹی رپورٹس تیار کریں۔

یہ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ چینی حکومت سی پیک کے تحت ان تینوں منصوبوں کی تکمیل کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرے گی۔

مزید پڑھیں: سی پیک : کراچی - پشاور ریلوے ٹریک سگنل فری ہوگا

سرکاری عہدے داروں کے مطابق یہ رقم سی پیک کے مغربی روٹس سے منسلک تین اضافی سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کی جانی تھی۔

واضح رہے کہ 22 دسمبر کو وزیراعظم نواز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی تھی کہ سندھ حکومت کی خواہش کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے اور کیٹی بندرگاہ منصوبے کو سی پیک کا حصہ بنانے کا معاملہ جے سی سی کے اجلاس میں اٹھایا جائے۔

کراچی سرکلر ریلوے کے لیے مراد علی شاہ کی وکالت

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی سرکلر ریلوے کی بھرپور وکالت کی اور کہا کہ کراچی دنیا کے گنجان آباد ترین شہروں میں سے ایک ہے جس کی آبادی تقریباً دو کروڑ 51 لاکھ کے قریب ہے جو کہ ٹوکیو، گوانگ ژو، سیئول، نئی دہلی، ممبئی، نیویارک، میکسیکو سٹی، ساؤ پاؤلو، منیلا اور جکارتہ سے زیادہ ہے۔


کراچی کی آبادی 2030 تک 3 کروڑ 43 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے: مرادی علی شاہ


انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی 2030 تک 3 کروڑ 43 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے لہٰذا اگر اس شہر میں سرمایہ کاری کی جائے تو منافع کے بہترین مواقع موجود ہیں۔


مراد علی شاہ کیوں سمجھتے ہیں کہ کراچی سرکلر ریلوے کی ضرورت ہے:

  • شہر میں یومیہ سفر کرنے والے افراد کی تعداد 7 لاکھ کے قریب ہے
  • کراچی میں 39 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیاں موجود ہیں
  • 6ہزار 457 بسیں 192 روٹس پر چلتی ہیں
  • 2 ہزار 715 کنٹریکٹ کیرجز شہر میں چل رہے ہیں
  • 85 فیصد بسیں دو سال سے پرانی ہیں جو زیادہ فیول استعمال کرتی ہیں اور ان کی سروسز ناقص ہیں
  • شہر میں رجسٹرڈ کل وہیکلز میں سے 47.3 فیصد تعداد موٹر سائیکلز کی ہے، 36.5 فیصد پرائیوٹ گاڑیاں ہیں
  • 4.5 فیصد پبلک ٹرانسپورٹ اور 1.7 فیصد کانٹریکٹ کیرجز ہیں
  • 42 فیصد لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کرتے ہیں، 21 فیصد ذاتی گاڑیوں میں، 19 فیصد موٹر سائیکل پر 10 فیصد کانٹریکٹ کیرجز پر اور 8 فیصد پک اینڈ ڈراپ وین کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

مراد علی شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ 42 فیصد مسافروں کا بوجھ پبلک ٹرانسپورٹ کو اٹھانا پڑتا ہے جبکہ نجی گاڑیاں صرف 21 فیصد مسافروں کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل موثر ماس ٹرانزٹ سسٹم میں ہے جس میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی، بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم اور لائٹ ریل ٹرانزٹ سسٹم شامل ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ کراچی سرکلر ریلوے پہلی بار 1964 میں شروع کیا گیا تھا 1984 تک یہ ٹرانسپورٹ کا موثر ذریعہ بنا رہا۔

سرمایہ کاری نہ ہونے اور دیگر وجوہات کی بناء پر اس کی افادیت کم ہوتی گئی اور مسافروں کی تعداد کم ہوگئی جبکہ بالآخر اسے 1999 میں بند کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے کی منظوری نیشنل اکنامک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی دے چکی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے ساتھ مل کر منصوبے کی فیزیبلٹی اسٹڈی مکمل کرلی گئی ہے جبکہ منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا بھی جائزہ مکمل کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے لیے یوٹیلٹی سروسز کو دوسرے مقام پر منتقل کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ کے الیکٹرک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس منصوبے کے لیے بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی کہ یہ پروجیکٹ وفاقی اور صوبائی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ جاپان نے کراچی سرکلر ریلوے کی لاگت تقریباً 2.6 ارب ڈالر بتائی تھی اور سرمایہ کاری کا خاکہ بھی تیار کیا تھا جس کے تحت 85 فیصد قرض کی بنیاد پر سرمایہ کاری جبکہ 15 فیصد صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے سرمایہ کاری کی جانی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبے میں سرمایہ کاری پر منافع کی متوقع شرح 13.8 فیصد ہے جبکہ اس منصوبے سے معاشی فوائد حاصل ہوں گے، وہیکل آپریشن کوسٹ اور ٹریول ٹائم کوسٹ میں کمی آئے گی۔

مراد علی شاہ نے سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ کراچی سرکلر ریلوے میں سرمایہ کاری کے لیے وفاقی اور سندھ حکومت کا ساتھ دیں۔

انہوں نے منصوبے کو سی پیک میں شامل کرنے کے لیے چینی تعاون کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ وزیراعظم نواز شریف اس کی شمولیت کی منظوری دے چکے ہیں اور خود مختار ضمانت بھی دے چکے ہیں۔

جے سی سی نے کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک میں شامل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ وہ تین ماہ میں فیزیبلٹی رپورٹ پیش کرے۔

کیٹی بندر کے لیے سندھ حکومت کا منصوبہ

مراد علی شاہ نے جے سی سی کو بتایا کہ کیٹی بندر منصوبہ ایسے مقام پر ہے کہ وہ تھر کول پروجیکٹ کے لیے پاور پارک کا کردار ادا کرسکتا ہے کیوں کہ یہ کوئلے کی کان اور کراچی سے بھی قریب ہے۔


مراد علی شاہ کیٹی بندر منصوبے کو کیوں اہم سمجھتے ہیں:

  • کیٹی بندر کراچی سے 160 کلو میٹر دور ہے اور بذریعہ سڑک منسلک ہے
  • کراچی لاہور موٹروے سے اس کو منسلک کرنا آسان ہے
  • آبادی کم ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی اثرات کم ہوں گے
  • منصوبے سے 50 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچے گا
  • ہنر مند افراد کی دستیابی
  • پانی اور کوئلے کو ٹھنڈا کرنے کی سہولت
  • پاور پارک اور دیگر ضروریات کے لیے جگہ کی دستیابی
  • نئی جیٹی کی تعمیر سے کوئلہ برآمد کرنے کی صلاحیت بڑھے گی جبکہ اسے مکمل بندرگاہ بھی بنایا جاسکتا ہے

مراد علی شاہ نے بتایا کہ تھر کول فیلڈ کو خصوصی اقتصادی زون قرار دیا جاچکا ہے اور جو پروجیکٹس اسے سپورٹ کررہے ہیں انہیں متعدد معاشی فوائد حاصل ہورہے ہیں۔

اپنے اسٹریٹجک پلان سے کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نئی جیٹی کی تعمیر سے تھر کے کوئلے کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ممکن ہوجائے گا، بجلی پیدا کرنے کی لاگت کم ہوگی اور مناسب قیمتوں پر بجلی کی فراہمی سے ملک کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاور پارک کی پیداواری استعداد 10 ہزار میگا واٹ ہوگی جبکہ ٹرانسمیشن لائن کیٹی بندر کو جامشورو اور مٹیاری گرڈ سے منسلک کرے گی۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ اسلام کوٹ سے کیٹی بندر تک کوئلے کی ترسیل کے لیے 235 کلو میٹر طویل ریلوے لائن بچھائی جائے گی جبکہ کیٹی بندر کو نوری آباد سے ملانے کے لیے 190 کلو میٹر طویل سڑک بھی تعمیر کی جائے گی۔

انہوں نے جے سی سی سے درخواست کی کہ منصوبے کی اصولی منظوری دی جائے جیسا کہ نومبر میں ہونے والے ٹرانسپورٹ انفرا اسٹرکچر جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں طے کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ورکنگ گروپ کے آئندہ اجلاس میں بینکاری کے قابل فیزیبلٹی رپورٹ پیش کردی جائے گی۔

جے سی سی نے کیٹی بندر پاور پارک اور بندرگاہ منصوبے کو سی پیک میں شامل کرتے ہوئے فیزیبلٹی اسٹڈی کرانے کا فیصلہ کیا۔

ہر صوبے کے لیے ایک اقتصادی زون

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسپیشل اکنامک زون اتھارٹی سندھ نے تجویز پیش کی ہے کہ ٹھٹھہ میں دھابیجی اور کیٹی بندر اسپیشل اکنامک زونز قائم کیے جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ دھابیجی ایک ہزار ایکڑ کے رقبے پر محیط ہے جبکہ یہ کراچی سے 55 کلو میٹر کے فاصلے پر سی پیک این 5 یا ایم 9 کے مشرق میں واقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیٹی بندر کا اسپیشل اکنامک زون 3 ہزار ایکڑ کے رقبے پر محیط ہے جبکہ یہ کراچی سے 153 کلو میٹر کی مسافت پر ہے جبکہ اس علاقے کی صنعتی صلاحیتوں کا اندازہ پورٹ کی تعمیر کے بعد لگایا جاسکے گا۔

مراد علی شاہ نے جے سی سی اجلاس کو بتایا کہ دونوں مجوزہ اکنامک زونز کی زمینوں کی جانچ مکمل ہوچکی ہے جبکہ جلد ہی کمرشل فیزیبلٹی اور ماسٹر پلان تیار کرلیا جائے گا۔

جے سی سی نے فیصلہ کیا کہ ہر صوبے میں ایک خصوصی اقتصادی زون ہوگا اور سندھ میں دھابیجی اسپیشل اکنامک زون قائم کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر برائے انڈسٹریز منظور وسان نے جے سی سی پر زور دیا کہ خیرپور اسپیشل اکنامک زون کو بھی سی پیک میں شامل کیا جائے تاہم یہ فیصلہ کیا گیا کہ سندھ میں صرف ایک اقتصادی زون تعمیر کیا جائے گا۔

جے سی سی نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ وہ تفصیلی پلان اور فیزیبلٹی رپورٹ پر کام کرے تاکہ منصوبے کی باضابطہ منظوری دی جاسکے۔