ملک کے بیشتر علاقوں کو بجلی کی فراہمی متاثر

03 جنوری 2017

ای میل

لاہور: گدو تھرمل پاور پلانٹ کی تمام ٹربائنز بند ہو جانے کے باعث گدو سے دادو اور گدو سے شکار پور کے درمیان 500 کے وی کی بجلی لائنیں ٹرپ ہونے کی وجہ سے صوبہ سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے متعدد علاقوں میں بجلی کا 12 سے 16 گھنٹے کا بریک ڈاؤن ہوا۔

خیال رہے کہ یہ خرابی دھند اور آلودگی کے بڑھنے کے باعث ہوئی جس کے نتیجے میں قومی گرڈ کو 1200 میگاواٹ سے 1700 میگا واٹ کے درمیان شاٹ فال برداشت کرنا پڑا۔

خرابی کے باعث متاثر ہونے والے سندھ کے اضلاع میں گھوٹکی، دادو، کشمور، سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، سانگھڑ، شکارپور اور نوابشاہ جبکہ پنجاب کے اضلاع میں رحیم یار خان، راجن پور، بھاولپور، لیہ اور ملتان شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس صورت حال نے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے متعدد علاقوں کو بھی متاثر کیا۔

وزارت پانی و بجلی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مذکورہ خرابی کے باعث کراچی سے پشاور کے درمیان موجود 500 کے وی ٹرانسمیشن نظام متاثر ہوا جس نے کراچی سے دادو اور شکار پور سے پشاور کے درمیان اہم زونز کو متاثر کیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ (این ٹی ڈی سی ایل) کی ٹرانسمیشن لائنز گذشتہ روز شام میں بحال کردی گئیں تھی۔

تاہم این ٹی ڈی سی ایل کے حکام کا کہنا تھا کہ گدو اور دادو کے درمیان 500 کے وی کے لائن صبح تقریبا ساڑھے 5 بجے جبکہ گدو سے شکار پور کے درمیان 500 کے وی کی ٹرانسمیشن لائن بعد ازاں ٹرپ کرگئی تھی۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ 'اسی دوران دھند اور آلودگی کی وجہ سے گدو پاور پلانٹ کی تمام ٹربائنز ایک ایک کرنے بند ہونے لگیں جس سے سندھ اور پنجاب کے بیشتر علاقے بھی متاثر ہوئے، بعد ازاں کمپنی کی بجلی فراہم کرنے والی دیگر دو لائنیں، جن میں ایک 220 کے وی اور 132 کے وی کی تھی، کے متاثر ہونے سے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے متعدد علاقے بھی بجلی کی بندش کا شکار ہوئے'۔

این ٹی ڈی سی ایل کے حکام نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ پلانٹ کی ٹربائنز کو دوپہر 12 بجے سے 5 بجے کے درمیان عارضی طور پر بحال کردیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گدو پلانٹ میں آنے والی خرابی کی وجہ سے صوبہ پنجاب کے وسطی اور بالائی علاقے متاثر ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ نہروں کی بندش کی وجہ سے ہائیڈرو پاور جنریشن میں بڑی کمی کی صورت حال پہلے ہی مشکلات کا باعث تھی اور مذکورہ بریک ڈاون نے اس میں مزید اضافہ کردیا۔

تاہم گدو پاور پلانٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے این ٹی ڈی سی ایل کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ این ٹی ڈی سی ایل کی جانب سے آپریٹ اور برقرار کی جانے والی 500 کے وی کی لائن ٹرپ ہونے کی وجہ سے پلانٹ نے کام کرنا بند کیا۔

پلانٹ کے چیف ایگزیکٹو آفسر ایوب انصاری نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 'پیر کی صبح ہمارے پلانٹ کی تمام مشینین درست انداز میں کام کررہی تھی، لیکن این ٹی ڈی سی ایل کی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کرنے کے باعث انھوں نے کام بند کیا، جس کی وجہ سے ملک کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہوئی'۔

انھوں نے کہا کہ پلانٹ کی 8 ٹربائنز رات گئے تک کام کا مکمل آغاز کردیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وہ لوگ جو پاور پلانٹ میں کام کرتے ہیں اس صورت حال کا اندازہ کرسکتے ہیں جس سے ہم گزر رہے ہیں'۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ٹربائنز فوری طور پر کام کا آغاز نہیں کرسکتیں۔

ایوب انصاری کا کہنا تھا کہ 'ٹربائنز کو مکمل کام کا آغاز کرنے کیلئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے'۔

یہ رپورٹ 3 جنوری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی