عظیم آل راؤنڈرز، بدنصیب کپتان اور فرحان اختر

اپ ڈیٹ 09 جنوری 2017

ای میل

تصاویر اے ایف پی
تصاویر اے ایف پی

ڈان نے اپنے اردو قارئین کیلئے ہر تاریخ کورونما ہونے والے اہم واقعات(خصوصاً) کی فہرست پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس سلسلے میں 9جنوری کا احوال پیش ہے۔

9 جنوری 1996: عظیم بلے باز رکی پونٹنگ نے پہلی ون ڈے سنچری سکور کی تھی۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت رکی پونٹنگ 30 ون ڈے سنچریوں کے ساتھ آل ٹائم لسٹ میں سچن ٹنڈولکر کے بعد دوسرے نمبر پر تھے اور اب بھی یہ شرف انہی کو حاصل ہے۔

عظیم آسٹریلین بلے باز رکی پونٹنگ— فوٹو: اے ایف پی
عظیم آسٹریلین بلے باز رکی پونٹنگ— فوٹو: اے ایف پی

رمیش کالووتھارانا نے اسی میچ میں اپنے کیرئیر کی پہلی نصف سنچری اسکور کی تھی لیکن اس نصف سنچری کی خاص بات ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ یہاں سے پہلے 15 اوورز میں بگ ہٹنگ کا رواج شروع ہوا جس نے ون ڈے کرکٹ کا نقشہ ہی بدل دیا۔

مزید پڑھیں: کپتان کا آخری دن اور تاریخی فتح

جے سوریا اور کالووتھرنا کی جوڑی کے اس بے خوف انداز نے ہی سری لنکا کو 1996 کا ورلڈ کپ جیتنے میں بھی مدد فراہم کی بلکہ اگر کہا جائے کہ یہ بیٹنگ فارمولہ ہی سری لنکا کا بے بی آف کرکٹ سے ایک بڑی طاقت بننے کا ٹرننگ پوائنٹ تھا تو بے جا نہ ہو گا۔

9 جنوری 1968: ویسٹ انڈیز کے ایک بد نصیب کپتان جمی ایڈمز کا یوم پیدائش ہے۔ جمی ایڈمز مناسب بلے باز تھے لیکن برائن لارا کی جگہ جب انہیں کپتان بنایا گیا تو ویسٹ انڈیز کی طرف سے مسلسل 7 شکستیں ان کے حصے میں آئیں۔

وہ واحد کپتان تھے جن کے نام کے ساتھ منفی ریکارڈ جڑا کیونکہ ویسٹ انڈیز اس سے پہلے کبھی مسلسل اتنے ٹیسٹ میچز نہیں ہارا تھا۔ سب سے زیادہ مسلسل 21 شکستیں بنگلہ دیش کے نام درج ہیں۔

9 جنوری 1996: کھیل کے دو عظیم ستارے اور دو بڑے آل راونڈرز شان پولاک اور جاک کیلس کا ون ڈے ڈیبیو ہوا تھا۔

کیلس نے ون ڈے میں 11 ہزار سے زیادہ رنز بنائے اور 273 وکٹیں بھی حاصل کیں جبکہ شان پولاک نے ساڑھے تین ہزار سے زائد رنز بنانے کے علاوہ 393 ون ڈے وکٹیں بھی حاصل کیں۔ انہوں نے اس پہلے ہی میچ میں مین آف دی میچ کا ایوارڈ جیت کر عالمی منظر نامے پر اپنی آمد کا اعلان کیا تھا۔

ان کی سب سے بڑی خوبی ان کی کفایتی باؤلنگ تھی اور 303 میچز کھیلنے کے باوجود بھی ان کا اکانومی ریٹ 3.67 کا رہا جو ان کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انوکھے باؤلنگ سٹائل کے مالک سپنر پال ایڈمز کا بھی یہ پہلا ون ڈے میچ تھا۔ اسی میچ میں انگلینڈ کے نیل اسمتھ کا ڈیبیو ہوا تھا لیکن ان کا کیریئر صرف 7 میچز تک محدود رہا۔

9 جنوری 1871: انگلش کھلاڑی چارلس کارٹ رائٹ پیدا ہوئے تھے۔ وہ کبھی بھی ٹیسٹ کرکٹ نا کھیل سکے لیکن کرکٹ کے سبھی مورخین اس بات سے متفق ہیں کہ وہ بہت تیز باؤلنگ کرتے تھے۔ بعض کے مطابق آج کے زمانے کے باؤلرز سے بھی ان کی باولنگ اسپیڈ زیادہ تھی لیکن تب سپیڈ گن کی سہولت موجود نہ تھی اس لیے ان کی اسپیڈ کبھی ریکارڈ نہ ہو سکی ٓ۔

بالی وڈ اداکار فرحان اختر
بالی وڈ اداکار فرحان اختر

9 جنوری 1974: انڈین اداکار فرحان اختر کا یوم پیدائش ہے۔ فرحان اختر مشہور شاعر جاوید اختر کے بیٹے ہیں اور وہ جاوید اختر کی پہلی بیوی و اسکرین رائٹر ہنی ایرانی کے بطن سے پیدا ہوئے۔ جاوید اختر کے صرف دو بچے ہیں اور دونوں ہی بچے ان کی پہلی بیگم سے ہوئے جنہیں انہوں نے طلاق دے دی تھی۔ ان کی موجودہ بیگم شبانہ اعظمی سے کوئی اولاد نہیں ہے۔

ان کے پردادا فضل حق خیر آبادی ایک بہت بڑے عالم اور 1857 کی جنگ آزادی کے اہم کرداروں میں سے ایک تھے۔ انہیں اسی جرم کی پاداش میں انگریز سرکار نے عمر قید کی سزا بھی سنائی تھی اور بعد میں انہیں جزائر انڈیمان بھیج دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 300 سال کا فرق، 8 جنوری 2 عظیم محققین کا دن

9 جنوری 1978: اٹلی اور میلان کے مشہور مڈفیلیڈر جنیرو گٹاسو کی سالگرہ ہے۔ میلان کے لئے انہوں نے 335 میچز کھیلے اور وہ اے سی میلان کے کپتان بھی رہے۔ یاد رہے اے سی میلان فٹبال کے چند بڑے کلبز میں سے ایک ہے۔ اٹلی کے لئے بھی گٹاسو نے 73 انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ 2006 میں اٹلی کی ورلڈ کپ فاتح ٹیم کے بھی وہ رکن تھے جبکہ 2007 کے فیفا کلب ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کا بھی وہ حصہ رہے۔

9 جنوری 1985: اسپین کے رائٹ بیک جونا فران کی سالگرہ ہے۔ جونا فران سپین کی نیشنل ٹیم کے لئے کھیلتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ ریال میڈرڈ جیسے بڑے کلب کی بھی نمائندگی کر چکے ہیں جبکہ آج کل وہ اٹلیٹکو میڈرڈ کی طرف سے کھیلتے ہیں۔

گزشتہ سال فٹبال کے سب سے بڑے کلب مقابلے یورپیئن چمپئینز لیگ کے فائنل میں انہوں نے اٹلیکو میڈرڈ کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا لیکن فتح نے ریال میڈرڈ کے قدم چومے تھے۔

9 جنوری 1916: گیلی پولی کی جنگ کا اختتام ہوا۔ یہ وہ جنگی مہم تھی جس نے عثمانی خلافت کو جنگ عظیم اول میں بری طرح نقصان پہنچایا۔ یہ جنگ برطانیہ اور اس کے اتحادی انڈیا، آسٹریلیا بمقابلہ عثمانی ایمپائر اور اس کے اتحادی جرمنی اور آسٹریا کے درمیان لڑی گئی تھی۔

8 مہینوں سے زیادہ جاری رہنی والی اس لڑائی میں طرفین کے 5 لاکھ سے زیادہ آدمی کام آئے مورخین میں سے اکثریت اس جنگ کی فاتح عثمانی خلافت کو بتاتی ہے جبکہ بعض کے نزدیک یہ جنگ غیر فیصلہ کن رہی۔