بظاہر دیکھنے میں گھوڑا ایک خوبصورت، اطاعت شعار اور سدھرا ہوا جانور دکھائی دیتا ہے اور اس سے کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آسٹریلیا میں کسی بھی دوسرے جانور کی نسبت گھوڑوں نے سب سے زیادہ افراد کی جان لی۔

اس حوالے سے کی جانے والی تازہ ترین تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ آسٹریلیا میں گھوڑوں کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے والے افراد کی تعداد دیگر تمام خطرناک جانوروں کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

میلبرن یونیورسٹی کی ڈاکٹر رونیل ویلٹن نے اس حوالے سے تحقیق کی اور انہوں نے ہسپتالوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔

انہیں معلوم ہوا کہ سال 2000 سے لے کر 2013 تک گھوڑوں نے 74 افراد کو ہلاک کیا۔

تحقیق کے مطابق دوسرے نمبر پر مکھیاں اور دیگر ڈنک مارنے والے کیڑے مکوڑے رہے جن کی وجہ سے 27 افراد کی جان گئی۔

تیسرے نمبر پر سانپ رہے اور انہوں نے بھی اس عرصے کے دوران 27 افراد کی جان لی۔

اس کے علاوہ شارک مچھلیوں نے 26، کتوں نے 23 اور مگر مچھوں نے 19 افراد کو اپنا نشانہ بنایا۔

یہ تحقیق انٹرنل میڈسن جرنل میں شائع ہوئی اور اس میں یہ بات سامنے آئی کہ کیڑے مکوڑوں کی وجہ سے زیادہ افراد کی جانیں تو نہیں گئیں تاہم انہوں نے بڑی تعداد میں لوگوں کو ہسپتال کا چکر ضرور لگوایا۔

ڈاکٹر ویلٹن کہتی ہیں کہ سانپ سے خوفزدہ ہونا فطری بات ہے لیکن کتے کے کاٹنے یا گھوڑے کی پشت سے گر کر ہلاک ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔