ماہر بیوٹیشن مسرت مصباح نے گوری رنگت کی کریم کے استعمال کے خلاف آواز اٹھائی — فائل فوٹو: ڈان
ماہر بیوٹیشن مسرت مصباح نے گوری رنگت کی کریم کے استعمال کے خلاف آواز اٹھائی — فائل فوٹو: ڈان

ہیلتھ اور بیوٹی ماہرین نے گورا کرنے کی کریم کے استعمال کے کئی نقصانات بناتے ہوئے حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی پریس کلب میں منعقدہ کانفرنس میں ماہرین کے حوالے سے ڈان اخبار نے رپورٹ کیا کہ ایسی کریم میں سٹیرائیڈز اور زہریلی دھاتیں شامل کی جاتی ہیں۔

ان ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشرے کی بدلتی سوچ اور گوری رنگت کو ترجیح دینے کے باعث کئی لڑکیاں اور لڑکے ایسی کریم استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

تیزاب گردی کی شکار خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی ماہر بیوٹیشن مسرت مصباح کا کہنا تھا کہ 'یہ معاملہ ایک خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے، جس نے وبائی بیماری کی شکل اختیار کرلی، اب ہمیں ایسی لڑکیاں بھی نظر آتی جن کا تعلق پاکستان کے شمالی علاقوں سے اور قدرتی طور پر ان کا رنگ صاف ہے لیکن وہ ان کریمز کا استعمال کرکے اپنی جلد کو خراب کررہی ہیں'۔

اپنے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے مسرت مصباح نے کہا کہ انہیں ان خطرناک کریم کے بارے میں چند سال قبل معلوم ہوا، جب انہوں نے چند لڑکیوں کی جلد پر اس کے ضمنی اثرات دیکھے جو اپنی جلی ہوئی جلد کا علاج کروا رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ان لڑکیوں کی جلد کی صورتحال نہایت خراب ہوچکی تھی، اس کی زیادہ تر وجہ شادی کرنے کا دباؤ ہے، جس کے باعث وہ ایسی خطرناک کریم کا استعمال کررہی ہیں'۔

مسرت مصباح کے مطابق پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) نے اس مسائل پر بات کی، تاہم کارروائی پر عمل درآمد ابھی باقی ہے۔

تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مضر مرکبات جیسے مرکری جلد میں داخل ہونے کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ دل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، اور اگر لڑکی حاملہ ہو تو یہ اس کے بچے کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو ان کریمز کا استعمال کرنے سے قبل ان کے بارے میں تمام معلومات حاصل ہونی چاہیے۔

حالیہ ایک بین الاقوامی رپورٹ میں پاکستان کی بنائی ہوئی کئی گوری رنگت کی غیر معیاری کریمز کو بے نقاب کیا گیا، جس کی وجہ سے ملک کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا، اس حوالے سے مسرت مصباح نے کہا کہ یہ ایک سنگین جرم ہے جبکہ اس سے نمٹنا ضروری ہے۔

پی ایس کیو سی اے کے پرائیوٹ رکن ابرار حسین نے کہا کہ جلد کو گورا بنانے والی کریمز میں اعلیٰ سطح پر مرکری، لیڈ، آرسینک اور ہائیڈروکیونون شامل ہوتا ہے، (ان مواد پر بین الاقوامی سطح پر میک اپ کے سامان میں پابندی لگائی جاچکی ہے)۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے کبھی بھی ان مسائل پر کوئی نوٹس نہیں لیا، اور نہ ہی ملک میں ایسی نقصان دہ میک اپ کاسمیٹکس کو بیچنے کے خلاف کوئی قانون ہے۔

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف سکن کیئر ڈیزیز کی ڈاکٹر مہوش نورانی نے کہا کہ وہ روزانہ 12 سے 15 ایسے کیسز دیکھتی ہیں جن کے مریضوں کی ان کریموں کے استعمال کے باعث جلد کافی حد تک خراب ہوچکی ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 'ان کریموں کے استعمال سے ویسے نتائج تو ضرور مل جاتے ہیں جو چاہیے، لیکن بہت کم عرصے تک کے لیے، آہستہ آہستہ ان کی جلد کافی حساس بن جاتی ہے اور دانے ہونا شروع ہوجاتے، کچھ معاملات میں چہرے پر بال بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں'۔

پی ایس کیو سی اے کی ڈاکٹر طاہرہ کا کہنا تھا کہ اتھارٹی نے حال ہی میں ان گوری رنگت کی کریمز کے معیار کو ترتیب دیا ہے، لیکن متعلقہ وزارت سے اس بات کے اجازت نامے کا انتظار ہے کہ جانچ پڑتال کی فہرست میں انہیں شامل کیا جائے یا نہیں۔