اسلام آباد: وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے اعلیٰ نسل کا نایاب گھوڑا ’سی ون تھرٹی‘ طیارے کے ذریعہ امیر قطر کو تحفے میں بھجوانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم پاک فضائیہ نے خصوصی طیارے کے ذریعے گھوڑا بھیجنے کی خبر کی تردید کردی۔

ڈان نیوز کو حاصل ہونے والی دستاویز کے مطابق وزیراعظم کے خصوصی احکامات کی روشنی میں نایاب نسل کا گھوڑا ’سی ون تھرٹی‘ طیارے کے ذریعے یکم فروری کو امیر قطر کو بھجوایا جائے گا۔

دستاویز کے مطابق طیارہ امیر قطر کو تحفہ پہنچا کر 2 فروری کو وطن واپس لوٹے گا۔

وزارت خارجہ کی جانب سے متعلقہ حکام کو بھیجے جانے والی دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ طیارے کو پہلے 28 جنوری کو روانہ ہو کر 29 جنوری کو واپس آنا تھا، لیکن اب یہ یکم فروری کو روانہ ہوگا۔

دوسری جانب پاک فضائیہ کے ترجمان نے سی ون تھرٹی کے ذریعے گھوڑا بھیجنے کی اطلاعات مسترد کردی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سی ون تھرٹی کے ذریعے گھوڑا قطر بھیجنے سے متعلق اطلاعات بے بنیاد ہیں اور پاک فضائیہ اس حوالے سے خبر کو مسترد کرتی ہے۔

گھوڑا قطری امیر کو پاکستان آمد پر دینا تھا

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات نے اس معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ ماہ قبل قطر کے امیر کو پاکستان کا دورہ کرنا تھا اور اس موقع پر انہیں گھوڑے کا تحفہ دیا جانا تھا۔

سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ 'سی130 طیارے کے ذریعے گھوڑا قطر بھجوانے کی خبر بے بنیاد ہے جس کی ہم تردید کرتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز کو جعلی دستاویز کی بنیاد پر کوئی بھی خبر نشر کرنے سے قبل اس کی تصدیق کرلینی چاہیے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان کے حوالے سے بین الاقوامی نوعیت کی خبر بغیر تصدیق چلانے سے گریز کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ قطری امیر نے گذشتہ ماہ پاکستان کے دورے پر آنا تھا، تاہم پاناما لیکس کیس کے باعث ان کا دورہ منسوخ ہوگیا تھا۔

پاناما کیس کی سماعت کے دوران قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم بن جابر الثانی کے دو خطوط بھی سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما کیس: قطری شہزادے کا ایک اور خط پیش کردیا گیا

سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کے سامنے قطری شہزادے کا پہلا خط نومبر 2016 میں پیش کیا گیا تھا۔

خط میں قطری شہزادے کا کہنا تھا کہ ’میرے والد اور نواز شریف کے والد کے درمیان طویل عرصے سے کاروباری تعلقات تھے، میرے بڑے بھائی شریف فیملی اور ہمارے کاروبار کے منتظم تھے۔‘

خط کے مطابق ’1980 میں نواز شریف کے والد نے قطر کی الثانی فیملی کے رئیل اسٹیٹ بزنس میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش ظاہر کی، میرے خیال میں 12 ملین درہم نواز شریف کے والد نے ہمارے کاروبار میں لگائے، جو انھوں نے دبئی میں اپنے بزنس کو فروخت کرکے حاصل کیے تھے۔‘

مزید پڑھیں: قطری شہزادے کا خط اور وزیراعظم کا موقف مختلف: سپریم کورٹ

بعد ازاں 22 دسمبر 2016 کو لکھا گیا قطری شہزادے کا ایک اور خط بھی دستاویزات کا حصہ بنایا گیا ہے، شہزادہ جاسم کے مطابق انھوں نے اپنے پہلے خط پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں دوسرا خط تحریر کیا۔

قطری شہزادوں کو پاکستان میں تلور کے شکار کا لائسنس سمیت ایل این جی و دیگر منصوبوں کے لائسنس بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔