افغان مہاجرین کی وطن واپسی کیلئے پالیسی کی منظوری

اپ ڈیٹ 07 فروری 2017

ای میل

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور اصل ویزا کے بغیر پاکستان میں داخلے سے متعلق پالیسی کو منظور کرلیا گیا۔

منظور شدہ پالیسی کے تحت رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کو 31 دسمبر 2017 تک کی توسیع فراہم کردی گئی۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں وفاقی کابینہ نے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی پاکستان میں قیام کی مدت میں 3 ماہ کی توسیع کرتے ہوئے انہیں 31 مارچ 2017 تک ملک میں رہنے کی اجازت دی تھی۔

قبل ازیں حکومت کی جانب سے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ کے حامل افغان مہاجرین کی پاکستان میں قیام کی تاریخ میں 31 دسمبر 2016 تک توسیع کی گئی تھی۔

حکومت نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد ملک میں موجود تمام افغان باشندوں کی 31 دسمبر 2015 تک واپسی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اس کے بعد سے ان کے قیام میں چوتھی بار توسیع کی جاچکی ہے۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریف کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے جبکہ وزارت داخلہ کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں کہ وہ رجسٹریشن کا عمل جلد سے جلد مکمل کریں۔

مذکورہ پالیسی میں پاک-افغان سرحد پر پاکستان کے امیگریشن قوانین کے سختی سے اطلاق کا حکم دیا گیا اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں کہ ویزا کے بغیر کسی کو بھی پاکستان میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال، غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور سرحد پر سخت نگرانی بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل پہلے ہی تیز ہوچکا ہے۔

افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل میں تیزی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب انہیں افغانستان جانے کے لیے دستاویزات دکھانی پڑتی ہیں۔

علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی جانب سے رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے مہاجرین کے لیے امدادی رقم کو 200 ڈالر سے بڑھا کر 400 ڈالر فی کس کردیا گیا ہے۔

گذشتہ سال کے آخر میں اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ہائی کمشنر (یو این ایچ سی آر) جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں 3لاکھ 80 ہزار سے زائد رجسٹرڈ افغان مہاجرین پاکستان سے واپس اپنے وطن لوٹے تھے۔

سرحدی کشیدگی کے متاثرین کے لیے بنکرز کی تعمیر

کابینہ اجلاس میں پاک-بھارت کشیدگی کے نتیجے میں سرحد پر فائرنگ کے تبادلے سے متاثر ہونے والے علاقوں کے افراد کو سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

فیصلے کے مطابق ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ 50 بنکرز تعمیر کیے جائیں گے تاکہ کراس بارڈ فائرنگ کے نتیجے میں علاقے میں رہائش پذیر افراد کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جاسکیں۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ان واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو 5 لاکھ جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے افراد کو ڈیڑھ لاکھ روپے ہرجانہ دیا جائے گا۔