حادثے کا شکار ہونے والا ٹرالر—۔ڈان نیوز
حادثے کا شکار ہونے والا ٹرالر—۔ڈان نیوز

کراچی کے علاقے قیوم آباد میں کے پی ٹی انٹرچینج سے ایک تیز رفتار ٹرالر نیچے آگرا، جس کے نتیجے میں خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔

واقعے کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ٹریفک آصف اعجاز شیخ نے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عینی شاہدین کے مطابق حادثے کی وجہ تیز رفتاری ہے، تاہم بظاہر شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹرالر کے 2 بائیں ٹائر پھٹنے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔

تاہم انھوں نے بتایا کہ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کورنگی کو حادثے کی مزید تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:'ترقیاتی کام اور تجاوزات، ٹریفک حادثات کے ذمہ دار'

اس سوال پر کہ پابندی کے باوجود دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک سڑکوں پر کیوں نظر آتی ہے؟ ڈی آئی جی اعجاز شیخ نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا ٹرالر 10 وہیلر اور 20 فٹ لمبا تھا، جو ہیوی ٹریفک کے ذمرے میں نہیں آتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 14 وہیلر اور اس سے زائد کی ٹریفک شہر میں رات 11 سے صبح 6 بجے تک داخل ہوسکتی ہے جبکہ ہیوی ٹریفک کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر 3 روٹس مخصوص کیے گئے ہیں، جن میں نیشنل ہائی وے، سپر ہائی وے اور سہراب گوٹھ شامل ہیں۔

ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر ان گاڑیوں کے چالان ہوتے ہیں لیکن جس وقت حادثہ ہوا، وہ رَش کا ٹائم تھا۔

دوسری جانب ٹرالر کا ڈرائیور واقعے کے بعد سے مفرور ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کو ڈرائیور کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: ٹریفک حادثات میں متعدد طلبہ کی ہلاکتوں پر احتجاج

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران شہر میں ہونے والے مختلف ٹریفک حادثات میں 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

رواں ماہ 3 فروری کو ایک حادثے میں 3 خواتین جاں بحق اور ایک زخمی ہوگئی تھی، جبکہ 9 فروری کو ایک نامعلوم شخص اور جامعہ اردو کی 3 طالبات رابعہ بتول، آمنہ بتول اور کرن شیرازی بیت المکرم مسجد کے قریب قائم ایک بس اسٹاپ پر بس الٹ جانے کے باعث ہلاک ہوگئی تھیں۔

دوسری جانب ٹریفک پولیس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے ان حادثات کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر ڈالتے ہوئے ترقیاتی کاموں کی خراب منصوبہ بندی اور شہر کے ٹرانسپورٹ کے نظام پر تنقید کی تھی۔