Email


Your Name:


Recipient Email:


2 پاکستانیوں کو جوئے کے تنازع پر اپنے ایک ہم وطن کو قتل کرکے لاش کے ٹکرے کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سنگاپور کی ایک عدالت نے سزائے موت سنادی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سڑکوں پر ٹشو فروخت کرنے والے 45 سالہ رشید محمد اور 28 سالہ رمضان رضوان کو اپنے ایک پاکستانی ساتھی محمد نور کو 2014 میں اپنے گھر میں قتل کے بعد لاش کو آری سے کاٹنے کا مجرم قرار دیا گیا۔

59 سالہ مقتول محمد نور کے جسمانی اعضاء دو الگ الگ بیگز میں شہر سے ملے تھے۔

ہائی کورٹ کے جج چو ہین ٹیک نے اس کیس کا فیصلے سنایا۔

رشید اور رمضان مئی 2014 میں سنگاپور آئے تھے اور گزر اوقات کے لیے ٹشو پیکٹس فروخت کیا کرتے تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق تنازع کا آغاز اُس وقت ہوا، جب دونوں نے جوے میں ہاری گئی 11 سو سنگاپوری ڈالر (776 ڈالرز) کی رقم مقتول سے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

دستاویزات کے مطابق مقتول کا گلا گھونٹنے کے بعد دونوں نے اس کے جسم کے ٹکرے کرنے کے لیے آری خریدی، ایک بیگ میں موجود مقتول کا جسم ایک 81 سالہ شخص نے دیکھا جبکہ گرفتاری کے بعد رشید نے پولیس کو دوسرے بیگ کی نشاندہی کی، جس میں مقتول کی ٹانگیں موجود تھیں۔

ان کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیئے کہ ان کے موکل قتل کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔

رشید اور رمضان کو اپنی سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے، رشید کے 8 جبکہ رمضان کے 3 بچے ہیں۔

سنگاپور میں قتل کی سزا موت ہے اور اس کے لیے پھانسی کے طریقہ کار پر عملدرآمد کیا جاتا ہے، جس پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے سنگاپور کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جاٰنے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

LARGE_RECTANGLE_BOTTOM - /1029551/Dawn_ASA_Unit_670x280


تبصرے (0) بند ہیں