مردم شماری:پانچ بڑی بیماریوں کا ڈیٹا حاصل کرنے کی تجویز

18 فروری 2017

ای میل

کراچی: صحت سے متعلق تحقیقی کام کرنے والی تنظیموں نے حکومت کو آئندہ مردم شماری کے دوران 5 بڑی بیماریوں سے متعلق ڈیٹا حاصل کرنے کی تجویز دی ہے۔

حکومت کو ذیابیطس، بلڈ پریشر، موٹاپے، ہیپاٹائٹس اور عارضہ قلب سے متعلق بیماریوں کے اعداد وشمار اکٹھے کرنا کا مشورہ دیا گیا ہے۔

تنظیموں کے مطابق ان بیماریوں سے متعلق آئندہ مردم شماری کے دوران ڈیٹا حاصل کرنے سے مستقبل میں ان سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔

پاکستان ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ (پی ایچ آر اے بی) اور پاکستان کارڈیاک سوسائٹی( پی سی ایس) کی جانب سے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ آئندہ ماہ منعقد ہونے والی مردم شماری 5 اہم ترین بیماریوں سے متعلق ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ہمارے پالیسی سازوں کے لیے اہم ترین موقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اگلے ماہ مردم شماری ہوگی

پی ایچ آراے بی کے ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا کہ انہوں نے 2 ہفتے قبل وفاقی سیکریٹری برائے صحت سے اسلام آبا د میں ملاقات کے دوران مردم شماری کے دوران 5 اہم بیماریوں سے متعلق ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے مشورہ دیا تھا، تاکہ ان بیماریوں کے بوجھ کا اندازہ لگاکر قومی سطح پر مستقبل کے لیے ان سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔

ان کے مطابق اس وقت ہمارے پاس ذیابیطس، بلڈ پریشر، موٹاپے، ہیپاٹائٹس اور عارضہ قلب سے متعلق بیماریوں سے متعلق کوئی بھی معلومات دستیاب نہیں ہے، اس لیے ہم ان بیماریوں سے بچنے کے لیے کوئی بھی حکمت عملی تیار نہیں کرسکتے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت حتمی طور پر کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ ان بیماریوں کے کتنے مریض ملک میں موجود ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹرز کے مطابق ہسپتال میں آنے والا ہر تیسرا یا چوتھا شخص ذیابیطس کا مریض ہوتا ہے، اسی تناسب سے ملک کی 25 سے 33 فیصد آبادی ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ افراد دل کی بیماریوں سمیت ذیابیطس سے منسلک صحت کے دیگر مسائل میں مبتلا رہے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: ذیابیطس کی 10 خاموش علامات

ان کے مطابق ملک میں ایک کروڑ کے لگ بھگ بچے موٹاپے کا شکار ہیں، جن کے آئندہ 10 سال کے دوران ذیابیطس یا دل کی بیماریوں کے مریض ہونے کے خدشات ہیں، یہ ایک خطرناک صورتحال ہے، حکام کو اس طرف توجہ دینی چاہئیے۔

پی سی ایس کے نو منتخب صدر پروفیسر ڈاکٹر نعیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈاکٹرز مریضوں کا ریکارڈ رکھنے کے عادی نہیں ہیں، اگر ڈاکٹرز بیماریوں، تجویز کردہ علاج اور دوسری معلومات اپنے پاس رکھیں تو یہ ڈیٹا بہت ساری بیماریوں کی روک تھام اور ان کا بوجھ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

پروفیسر افروز میمن کا کہنا تھا کہ عارضہ قلب کی بیماریاں ملک میں ہونے والے اموات کی ایک بڑی وجہ ہیں، مگر حکام کے پاس اس متعلق کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے، جس سے احتیاطی تدابیر مرتب کرنے میں مدد لی جاسکے۔


یہ خبر 18 فروری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی