افسانہ 'سیلن'

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2017

ای میل

ڈان نیوز کے قارئین کے لیے افسانوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے جس میں سب سے پہلا افسانہ 'سیلن' ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کے دل کی کیفیت ہے جو یورپ میں اپنی محبت کو چھوڑ کر واپس برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں آ بسا ہے۔ اپنی آراء اور تجاویز سے ہمیں [email protected] پر ضرور آگاہ کیجیے۔


(پہلی قسط)

پردیس میں سات برس گزارنے کے بعد میں اپنے شہر لوٹ آیا۔

ریو ڈی جینرو، جسے سب ریو پکارتے ہیں۔

یہ گرمیوں کی بات ہے۔ گھر کا حال کیا بتاؤں؟ نمی سے دیواروں میں سیلا اتر آیا ہے۔

فرنیچر بھی دیمک کی چاٹ سے بودا ہو رہا ہے۔ جب چھوڑ کر گیا تھا، تب بھی تقریباً یہی حال تھا۔ دیواروں میں سیلن کے ساتھ بارش کے گدلے پانی کی لکیریں اور سبزہ نہ اترا ہوتا تو کون کہہ سکتا ہے کہ میں سات برس دور رہا؟ لگتا کہ میں کبھی گیا ہی نہیں تھا۔

گھر کے اندر سیلے پن کی اس قدر تیز بو تھی کہ دماغ سن ہو گیا۔ اتنی زور کی ابکائی آئی کہ دوڑ کر باہر نکلنا پڑا۔ پھر جلد ہی یہ سوچ کر لوٹ آیا کہ ارے، یہ بو کوئی نئی تو نہیں ہے۔ آہستہ آہستہ، باس کی پھر سے عادت ہونے لگی۔

میں نے سوٹ کیس باہر ہی چھوڑ دیا ہے۔ کمرے کی کھڑکی کھولی، جو اب تک مٹی اور کچرے میں جم کر سختی سے بند ہو چکی تھی۔ زور لگا تو لکڑی چرچرائی اور کھڑکی ہلکے سے باہر کی طرف کھل گئی۔ غور سے دیکھا تو بوسیدہ کھڑکی پر سفید روغن کے پارچے نکھڑ کر اتر رہے تھے۔

گھر کے اندر تو سیلا تھا ہی مگر باہر بھی حالات کچھ مختلف نہ تھے۔ کھڑکی کھلتے ہی باہر کی گھٹی ہوئی حبس زدہ ہوا کا جھونکا منہ پر تھپیڑا مار گیا۔ ریو کی ہوا میں ٹھنڈک کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ موسم گرم اور مرطوب، میں پہلے سے زیادہ پسینے میں نہانے لگا۔ کئی برس بعد یوں پسینے سے شرابور ہوا تھا۔ پسینہ نچڑا تو واقعی خیال آیا کہ سات سال گزر گئے ورنہ کچھ عرصے سے وقت کا احساس بھی جیسے مر گیا تھا۔ اب تو یہ بھی یاد نہیں کہ آخری دفعہ میری قمیض پسینے سے کب جسم سے چپکی تھی۔ پسینہ تھا کہ جیسے میں بارش میں بھیگ رہا ہوں۔

بہتیری کوشش کر لی، یاد ہی نہیں آیا۔

نہ جانے کیوں، میں اس بات کو سوچتا ہی رہا۔ ذہن پر پھر سے زور ڈالا تو وہ یاد واپس نہ لوٹی مگر یہ ضرور ہوا کہ ایک بات کھل کر سمجھ آ گئی۔ پتہ یہ چلا کہ آخر میں نے پردیس ترک کر کے واپس چلے آنے کا بے وجہ فیصلہ کیوں کیا تھا؟

میرا جسم فوراً بھانپ گیا۔ اتنے برس یورپ میں گزارنے کے بعد ریو میں پسینے سے شرابور ہوا تو سمجھ آیا کہ دراصل وہاں کا سخت موسم مجھے کبھی راس ہی نہیں آیا تھا۔ جسم کی پور پور سات برس تک بے کیف موسم سے لڑتی رہی۔

اس قدر مشقت اٹھائی کہ ٹانگوں میں سے جان نکل گئی، بال پتلے ہو کر جیسے تنکا بن چکے تھے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ہر وقت دل میلا رہنے لگا تھا۔

طبیعت پر بد حواسی چھائی رہتی اور سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ اس طویل لڑائی نے جسم کو بے سدھ کر دیا تھا۔ لیکن یہاں پہنچتے ہی پسینہ اتنا کھل کر بہا کہ سارے مسام کھل گئے۔ میں اپنے آپ کو پھر سے پہچاننے لگا۔ یہ میری توقعات سے بہت بڑھ کر تھا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنی جلدی خود کو ڈھونڈ نکالوں گا۔

جی اتنا خوش ہوا کہ خون جوش مارنے لگا اور یک دم گرم موسم نے اپنائیت سے خود میں لپیٹ لیا۔ میں دھڑام سے پاس ہی پڑے صوفے پر گر گیا۔ صوفہ حبس زدہ نمی سے گیلا ہو رہا تھا۔ بیٹھتے ہی میں بھی نم ہو گیا تو دل بھی کھل گیا۔ رہا نہ گیا کہ با آواز بلند خود سے پوچھوں، میں کیوں لوٹ آیا؟ کیونکہ ریو میرا گھر تھا۔

یہ کچھ دن پہلے کا واقعہ ہے۔ ایک دن صبح میں سو کر جاگا تو جسم بوجھل ہو رہا تھا۔ بد دلی کے ساتھ گرم بستر سے اٹھا تو باہر موسم یخ اور بے کیف تھا۔ طبیعت گڑ بڑا رہی تھی اور ایسے میں، سامنے ڈرائنگ روم میں تم پر نظر پڑی۔ تم مزے سے پڑی سو رہی تھیں اور سینے پر کوئی کتاب دھری ہوئی تھی۔ بوجھل جسم، یورپ کا بے کیف موسم اور تم ۔ ۔ ۔

میں نے فوراً ہی کھڑے کھڑے واپس ریو چلے جانے کا فیصلہ کر لیا۔

'سب خیریت ہے؟' تم نے پوچھا ۔

'نہیں، سب ٹھیک نہیں ہے۔ مجھے گھر کی یاد آ رہی ہے' میں نے جواب دیا۔

'میں کچھ عرصے کے لیے واپس لوٹ جانا چاہتا ہوں۔' تم نے سرد آہ بھری تھی۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ تمہارے چہرے پر پھیلی طمانیت ایک دم نچڑ کر رہ گئی ہے۔ تم نے کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا ہوگا۔ اسی لیے سگریٹ سلگایا اور کمرے میں بے چینی سے چکر کاٹنے لگیں۔

ہم دونوں وقت کے نام پر ڈگمگائے اور وقت کے ہی نام پر سنبھل بھی گئے تھے۔ تم سوچ رہی تھیں کہ یہ جدائی، کچھ عرصے، تھوڑے سے وقت کی ہی تو بات تھی۔ بعد اس صبح کے، خاموشی نے ہمارے گھر کی راہ دیکھ لی۔

یہاں تک کہ میری رخصت کے وقت بھی ہم دونوں پر چپ طاری رہی۔ یاد آیا، وداع کے وقت ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے تھے۔ ایسا ظاہر کیا جیسے دوبارہ ملنے، پھر سے اکٹھا ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔

اب میں اپنے آبائی گھر میں اس نم زدہ صوفے میں دراز بیٹھا، پسینے سے شرابور ہوں۔ دیکھو، میں تم سے کیا کہوں کہ یہ محبت کا بیو پار کیسی بُری چیز ہے؟ تمہیں کیا پتہ کہ ایک محبت کو چھوڑ کر دوسری محبت خریدنا، کس قدر مشکل کام ہے۔

سات برسوں میں ایک بار، صرف ایک بار ہم اکٹھے ریو آئے۔ مجھے وہ چند دن اچھی طرح یاد ہیں۔

تم شہر کی دل ربائی میں کھو گئی تھیں۔ چھوٹی چھوٹی بات، ہر ایک تفصیل پر اتنا چہکتیں کہ بیان کرنا مشکل ہے۔

ان دنوں میں ریو کے ذکر سے ہی سخت نالاں ہوا کرتا تھا جبکہ تم ہر وقت شاد اور نہال رہا کرتی تھیں۔

ہم پھر دوبارہ اکٹھے یہاں کیوں نہیں آئے؟ تمہارے بغیر میرا یوں یہاں چلے آنا، بے وفائی ہے؟

کیا تم یہ سوچتی ہو کہ میں تمہیں دغا دے رہا ہوں؟

دیکھو، میں جس قدر بھی چاہوں۔ جتنا دھیان جتا لوں، وہ لفظ کبھی نہیں مل سکتے جو تمہیں میرے بارے میں اپنے اس خیال سے نجات دلا سکیں۔

میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ سب گوشہ نشینی کی چاہ کا کیا دھرا ہے۔

کیا کروں؟ مجھے تمہارے شہر میں خلوت نہیں ملی۔ ہاں، یہی بات ہے۔

پھر یوں ہوا کہ اچانک رات کی رات میں ایک دن اکیلا پن تنگ آ کر باہر نکل ہی آیا۔ ہر وقت آنکھوں کے سامنے ناچتا رہتا اور کچوکے لگاتا کہ بھلا یہ کیسی زندگی جی رہا ہوں؟

تن تنہائی کا سرے سے کوئی وجود ہی باقی نہیں رہا؟

دیکھو تو، یہ کتنی عجیب بات ہے۔ میں وہ شخص ہوں جس نے ہمیشہ اپنے گرد بھیڑ لگائے رکھی۔ لوگوں کو ہی اپنا گھر سمجھا۔

کیا ہوا کہ مجھ جیسے آدمی کو ہی اس انوکھے خیال نے آ لیا؟

اچانک ہی، دم کے دم میں مجھے اس شہر کی آوازیں سائیں سائیں کرتی، پاس بلاتے ہوئے یوں سنائی دینے لگیں کہ جیسے کوئی گم گشتہ محبوب ایک دم پھر سے زندہ ہو کر سامنے آن کھڑا ہو جاتا ہے۔

ساری کمی بیشی، زندگی بھر کا سود و زیاں میرے سامنے ڈھیر ہو گیا۔ میں سوچتا رہ گیا کہ آخر یہ سب اب تک نظروں سے نہ جانے کیسے اوجھل رہا؟

میں چلا تو آیا ہوں مگر اس کے ساتھ یہ ہول بھی اٹھتے ہیں کہ اگر کل کلاں مجھے اس فیصلے، ہڑبونگ میں ریو لوٹ آنے پر پشیمانی شروع ہو گئی تو پھر کیا ہو گا؟

کیا تم میرا انتظار کرو گی؟ کیا تم میری راہ دیکھتی رہو گی؟

(جاری ہے)