صرف فوجی آپریشن تمام مسائل کا حل نہیں ہے

02 مارچ 2017

ای میل

ماہِ فروری میں پورے ملک میں ہونے والے خود کش دھماکوں کے بعد ملک سے دہشتگردی کا صفایا کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز غالباً ایک دوسرے آپریشن کا آغاز کر چکی ہیں، جس میں چاروں میں سے ایک بھی صوبے کو استثنیٰ نہیں دیا گیا۔

تازہ ترین آپریشن میں فوج کے ماتحت، نیم عسکری ادارے رینجرز کو پنجاب بھر میں کارروائیاں کرنے کے بھی اختیارات دیے گئے ہیں؛ دیگر صوبوں میں رینجرز کے جارحانہ کردار کے برعکس یہ صوبہ گزشتہ کافی عرصے سے نیم عسکری فورسز کی کارروائیوں سے محفوظ تھا۔

ایسا مانا جا سکتا ہے کہ چوںکہ آئندہ سال عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں، لہٰذا مسلم لیگ ن کو خدشات لاحق تھے کہ کہیں رینجرز اس کے ممبران یا شدت پسند مذہبی جماعتوں میں موجود اتحادیوں کو نشانہ نہ بنا دیں، جن کی حمایت نہایت اہم، اور انتخابی حلقوں کے حساب سے سب سے زیادہ اکثریت رکھنے والے صوبہ پنجاب میں فتح دلوانے کے لیے اشد ضروری محسوس ہوتی ہے۔

مگر حالیہ بم دھماکوں سے بگڑتی ہوئی صورتحال نے حکومت کو متحرک کرنے پر مجبور کر دیا کیوں کہ اب زیادہ خاموش رہنے کا کوئی آپشن نہ تھا۔ حکومت کو اس بات کی تسلی ہوگئی کہ اب فوج کی کمان ایک غیر سیاسی شخص کے ہاتھوں میں ہے، سو اس نے کارروائی کی اجازت دے دی۔

ایسے ہر آپریشن کا آغاز امیدیں پیدا کرتا ہے کہ آپریشن کے ختم ہونے کے ساتھ اس ملک میں موجود وحشیانہ دہشتگردی کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ آپ کسی بھی سیکیورٹی ماہر سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ ایسی توقعات، خاص طور پر ملک کو درپیش کثیر الجہتی دہشتگردی کو دیکھا جائے تو حقیقت میں تبدیل نہیں ہو پاتیں۔

بہتر عمل یہ ہوگا کہ پہلے سے بہتر انٹیلیجنس اور بہتر تربیت رکھنے والی انسداد دہشتگردی فورسز سے کسی حد تک دہشتگردی پر قابو پا لیا جائے اور دہشگردی واقعات اور ان میں ہونے والی اموات میں کمی واقع ہو جائے، مگر اس مقام پر پہنچنے میں ابھی کافی سال ہیں۔

راحیل شریف کی سربراہی میں شمالی وزیرستان میں ہونے والے آپریشن کے بعد دہشتگردی کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی، اس آپریشن نے دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور ان کے منصوبہ کاروں اور گروہوں کو پاکستان کی سر زمین پر قائم ان کی آخری پناہ گاہ سے دھکیل دیا۔

یوں لگتا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے ساتھ قانونی رٹ سے عاری ایک بڑے علاقے میں نئے ٹھکانے بنا کر دہشتگرد اپنی مرضی سے ہمارے ملک کے ہر علاقے میں کارروائی کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں موجود ان کے نظریاتی اتحادی یا پھر ان کے اس جبر و بربریت میں شراکت دار یا تو ان سے رابطے میں ہوتے ہیں یا پھر خود کو دوبارہ پیدا کر چکے ہیں۔

اس چیلنج کی سنگینی کا اندازہ سیکیورٹی حکام کی جانب سے بتائی گئی دہشتگردوں کے کامیاب حملوں کی تعداد اور ناکام بنا دیے جانے والے حملوں کی تعداد کا موازنہ کر کے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کوئی مخصوص تعداد تو نہیں بتائی، مگر افسران کا کہنا ہے کہ درجنوں دہشتگرد حملے ناکام بنائے جاتے ہیں تو ہی کوئی ایک واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔

اور اگر یقینی طور پر ہماری مخالف بیرونی طاقتیں بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہی ہیں اور کشمیر جیسے اہم معاملات پر راولپنڈی و اسلام آباد کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں لانے کی خاطر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تو پھر یہ مسئلہ اور بھی بڑی نوعیت کا ہے۔

ایسی صورتحال میں بھی، ہماری اپنے ہاتھ سے بنائی گئی فالٹ لائنز کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے جن پر ہماری توجہ نہ ہونے کے باعث وہ ہر دن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہیں، اور جو کسی بھی آپریشن کی وجہ سے سیکیورٹی صورتحال میں ہونے والی بہتری کو ختم کرتے ہوئے ممکنہ طور پر بڑی تباہی لا سکتی ہیں۔

جی ہاں موجودہ سیکیورٹی آپریشن ایک حد تک واضح طور پر اور درست طور پر ان گروہوں کے خلاف ہیں، جو ایمان کے نام پر قتل کرتے ہیں اور یہاں تک کہ خود سے مختلف کسی بھی عقیدے کی پیروی کرنے والے مسلمانوں کو موت کا حقدار سمجھتے ہیں۔

دیکھا جائے تو یہ نظریہ اس اسلام کی روح کے خلاف ہے جس پر ملک میں موجود ایک بڑی اور پر امن اکثریت یقین رکھتی ہے۔ اگر اس سوچ کے نمائندہ طالبان اور ان کے اتحادیوں کو شکست دے دی جائے تو کیا پھر یہ حکومت، سیکیورٹی فورسز اور معاشرے کو مطمئن ہو کر بیٹھنے کے لیے کافی ہوگا؟

میرے نزدیک ایک بڑی جنگ کا تعلق اس معاشرے کو موجودہ عدم برداشت اور شدید متعصب ماحول سے نکال کر کسی طرح ’جیو اور جینے دو’ کی حالت میں لانے سے ہے۔ مجھے یہاں پانچ سوشل میڈیا کارکنان کی حالیہ خوفناک جبری گمشدگی یاد آتی ہے (جن میں سے ایک اب بھی غائب ہے)۔

انہیں بدنام کرنے والوں نے عوامی حلقوں میں ایک دو باتیں گھڑ دیں کہ گمشدہ افراد توہینِ مذہب کے مرتکب تھے، بس پھر کیا تھا، دین کے خود ساختہ محافظ ان کے خون کے پیاسے ہو گئے۔

کیا ان میں سے ایک نے بھی خود سے اس بات کی تصدیق کرنے کی زحمت گوارا کی — جس طرح کسی بھی مہذب معاشرے، قانون اور تمام مذاہب کا یہ تقاضا ہوتا ہے — کہ آیا ’گمشدگان’ پر لگائے جانے والے الزمات حقائق کی بنیاد پر ہیں بھی یا نہیں؟ نہیں۔ جناب ٹھہر کر اور حقائق کا جائزہ لینے سے زیادہ آسان تو بے لگام پاگل دوڑتے جانوروں کے کسی جھنڈ میں شامل ہونا ہے۔

میں نے ان چند مذہبی رہنماؤں کے حالیہ خوفناک خطبات دیکھے جنہوں نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری (جنہیں بعد میں پھانسی دی گئی) کو انتہا پسندی کی جانب مائل کیا تھا۔ وہ اب بھی اس سلسلے کو زبردست انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خیر اب تو ان کے پاس مارکیٹنگ کے لیے اپنا ہیرو بھی ہے۔

گزشتہ ہفتے سیہون میں لال شہباز قلندر کی مزار پر ہونے والے حملے کے بعد ایک اہم مذہبی رہنما اور روہت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمان نے خودکش بم حملے کی مذمت تو کی تھی مگر ان کے دیگر ریمارکس اتنے ہی یا اس سے بھی زیادہ اہم تھے۔

حیدرآباد میں اس ہفتے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی صاحب نے کہا کہ دھمال اور مزار پر گھنٹی بجانا بزرگان کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہوں نے رائے دی کہ مزار پر مرد و خواتین کے لیے علیحدہ انتظام کیا جائے، جس میں ہفتے کے دوران ایک دن ’صرف خواتین’ کے لیے مختص ہو۔

بلاشبہ ایک بڑے مفتی کے احترام میں کسی صحافی نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ اپریل 2006 میں کراچی میں منعقد بریلوی اور سنی تحریک کے علما کے اجتماع میں دھماکہ کیوں ہوا حالانکہ اس میں صرف مرد ہی موجود تھے، یا پورے ملک میں نماز کے صرف مردوں والے اجتماعات یا شیعہ مجالس پر حملے کیوں ہوئے۔

آپ ایسی لاتعداد مثالیں دے سکتے ہیں۔ اس بات کا کوئی مطلب نہیں۔ مفتی منیب الرحمان جن لوگوں کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ تعداد اس تعداد سے کہیں زیادہ بڑی ہے جس کی نمائندگی میں کرتا ہوں۔

آپ ایسی لاتعداد مثالیں دے سکتے ہیں۔ اس کا کوئی مطلب نہیں۔ مفتی منیب الرحمان جن لوگوں کی سوچ کو نمائندگی کرتے ہیں، وہ تعداد اس تعداد سے کہیں زیادہ بڑی ہے جس کی نمائندگی میں کرتا ہوں۔ اسی کے ساتھ بارہا انتخابات بھی یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ پاکستانی مذہبی جماعتوں کو بڑی تعداد میں ووٹ نہیں ڈالتے۔

لہٰذا منتخب ہونے والوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قدم بڑھائیں اور یقینی بنائیں کہ قائد اعظم کا تکثیری پاکستان ایک حقیقت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کو اپنے متبادل، غیر ریاستی عناصر کو ترک کرنا ہوگا۔ کوئی فوجی آپریشن یہ ہدف پورا نہیں کر سکتا۔

یہ مضمون 25 فروری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔