میرے بیٹے رونے میں کوئی برائی نہیں ہے

08 مارچ 2017

ای میل

ایک مرد کو کبھی خوف محسوس نہیں ہوتا۔ ایک مرد کبھی ڈرتا نہیں ہے۔ ایک مرد کبھی بھی روتا نہیں ہے۔ چاہے جیسے بھی سیاسی، طبقاتی، ذات پات یا ثقافتی حالات ہوں، پاکستانی لڑکے ان جملوں کی سرگوشیاں سنتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں۔ ٹین ایجر اور پھر جوان ہونے تک یہ جملے ان کے ذہنوں میں پختہ گھر کر جاتے ہیں۔

ان اقسام کی شرائط سے مشروط مرد مانتے ہیں کہ جذبات کو اندر ہی اندر دبا دینا چاہیے اور تمام دن اپنے کردار میں ایک کھوکھلی بہادری کا دکھاوا لازمی ہے۔ ان شرائط پر عمل اور اس کے نتائج زہر آلود ہوتے ہیں؛ وہ مرد جو رویا نہیں کرتے وہ نہ صرف سہمی ہوئی اور استحصال کی شکار مخلوق ہوتے ہیں، بلکہ ہر کسی پر بوجھ ہوتے ہیں۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والی زیادہ تر گفتگو کا محور خواتین کو اپنے گھروں میں، سڑک پر اور اپنی کام کی جگہوں، یعنی تقریباً ہر جگہ پر ہی تشدد اور ہراساں کیے جانے جیسے موضوعات ہوتے ہیں۔

تقاریب، ریلیوں اور گفتگو کے اختتام پر تبدیلی لانے کے عہد کیے جاتے ہیں۔ تبدیلی کے چند عزائم تو حاصل ہو جاتے ہیں؛ مگر ہر شخص دیگر عزائم کو درست قرار نہیں دیتا، ہر شخص خواتین کو ہی حقیقی تبدیلی لانے کے قابل نہیں سمجھتا۔ ان کھوکھلی یاد دہانیوں کا سلسلہ توڑنے کا ایک طریقہ اس بیج کو زمین سے نکال دینا ہے جس سے پدرسری کے درخت اگنا شروع ہوئے، ان کی کاشت ہوئی اور تناور درخت بن گئے۔ مختصراً کہیں تو وہ بیج یہ عام مروج سوچ ہے جو یہ تبلیغ کرتی ہے کہ مرد سب سے طاقتور ہیں، کبھی خوفزدہ نہیں ہوتے اور انہیں ہی ہمیشہ حاوی ہونا چاہیے۔

اس طرح خواتین کو پہنچنے والی تکلیف چونکہ زیادہ تر پاکستانیوں کے نزدیک ہمیشہ ایک قابل غور نکتہ نہیں ہوتی، لہٰذا ہمیں اس بات پر غور شروع کرنا چاہیے کہ کس طرح مردانگی سے جڑے خیالات، کہ کبھی نہیں رونا اور ہمیشہ حاوی رہنا، خود مردوں کے لیے باعث اذیت ثابت ہوتے ہیں۔

اسے ثابت کرنے کی بھی ایک سائنس ہے: دی برٹش جرنل آف کرمنولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، بے خوف مردوں اور خوفزدہ خواتین کے صنفی بنیادوں پر بنے فرسودہ خیالات مردوں میں جسمانی اور زبانی جارحیت کو بڑھاوا دیتا ہے جس کے باعث ان کی جانب سے مجرمانہ اقدام اٹھانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگرچہ جو مرد اس حد تک نہیں جاتے تو بھی مردانہ بے خوفی کا رویہ ایک جذباتی ناپختگی کو فروغ دیتا ہے جس کی وجہ سے ایسے مرد خود اپنی کمزوریوں کے بڑے شوق سے منکر بن جاتے ہیں۔

سادہ لفظوں میں کہیں تو، کسی بھی معاشرے میں مردوں پر جتنا زیادہ ’بے خوف‘ شخصیت کو ظاہر کرنے پر دباؤ ڈالا جائے گا تو انفرادی کیسز میں اس دباؤ سے ہونے والے شرح جرم میں اضافے کے امکانات اتنے ہی زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ چوں کہ جرائم پیشہ افراد معمولاً معاشرے کے کمزور ترین شخص کو ہدف کو بناتے ہیں، لہٰذا جارحیت سے سرشار مرد اپنی جھوٹی بہادری جتانے کی خاطر خواتین کو اپنا ہدف بنا لیتے ہیں۔ اور یوں سلسلہ اس انجام کو پہنچتا ہے کہ وہ مرد جو روتے نہیں ہیں وہ خواتین کو رلانا چاہتے ہیں اور ان کے آنسوؤں میں اپنی خود کی طاقت کا عکس تلاش کرتے ہیں۔

پاکستان، جہاں کے معاشرے میں اس قسم کے مرد غالب ہیں، وہاں مردوں کے جارحانہ اقدامات کو غیر مجرمانہ ٹھہرانے سے یہ مسئلے اور بھی بگڑ گیا ہے۔ وہ مرد جو عورتوں کا قتل کر دیتے ہیں انہیں دیگر مردوں کی جانب سے معاف کیا جاسکتا ہے؛ وہ مرد جو خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں انہیں بالکل بھی غلط نہیں سمجھا جاتا؛ وہ مرد کو اپنی غیرت کے لیے قتل کرتے ہیں تو انہیں ان برادریوں کی جانب سے وقار اور عظمت بخشی جاتی ہے جو ایسا کرنے پر راغب کرتی ہیں۔

جبکہ خواتین کا زبانی اور جذباتی استحصال، اپنا چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ خود کرنے کی آزادی دینے سے انکار جیسی چھوٹی موٹی باتوں کو تو خاطر میں ہی نہیں لایا جاتا۔ وہ مرد جو روتے نہیں ہیں ان کے لیے گنجائش، خواتین کے آنسوؤں کو پوری طرح متوقع بنا کر اور بالکل عام چیز سمجھنے اور حالات، جس طرح ہر کوئی چاہتا ہے، جوں کا توں رکھنے سے پیدا ہوتی ہے۔

اس عمل کو ہر کہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستانی ٹی وی ڈرامے، جو کہ ہماری ثقافتی ارتقا کے عکاس ہیں (یا عکاسی سے محروم ہیں)، دونوں فرسودہ خیالات کو بڑی سچائی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ آپ کوئی سا بھی ڈرامہ دیکھ لیں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ پانچ منٹ کے بعد آپ کو ایسا کوئی منظر دیکھنے کو نہ ملے کہ جس میں ایک خاتون رو رہی ہے، یا ایک مرد چلا رہا ہے، تھپڑ مار رہا ہے اور معمولاً طور پر حاکمانہ انداز اپنا رکھا ہے۔ اکثر، چونکہ ان میں سے کوئی ایک بات دوسری بات کا باعث بنتی ہے، لہٰذا ایسے مناظر ایک ساتھ ہی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ روتی ہوئی عورتیں اور ظالم مرد شاید ہی ایک سکے کے دو رخ ہوں، ان کی قسمتیں اور مستقل پیچیدہ طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

اس مضمون کو پڑھنے والے کئی مرد اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے کہ وہ مردانگی کے نظریات کے ہاتھوں کس قدر مقید ہیں اور کس طرح مسلسل بے خوفی اور (بڑی حد تک جھوٹی) بہادری کا دکھاوا کرنے کی ضرورت نے کوتاہیوں اور عدم تحفظ کے مضبوط احساس کو پیدا کیا ہے۔

پاکستانی سماج، اور بڑی حد تک پوری دنیا، ایسی گفتگو یا اعتراف کے لیے لفظوں کا ایک بڑا ہی محدود ذخیرہ ہے۔ جس طرح خواتین دیگر خواتین کی دشمن ہو سکتی ہیں ٹھیک اسی طرح مرد بھی دیگر مردوں کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں، جو اپنے ساتھ کام کرنے والے، بھائی، دوست اور بیٹے میں کمزور کا تھوڑا بھی عنصر پا کر بڑھا چڑھا کر بات کرتے ہیں اور ہر کسی کو ہر وقت ان کمزوریوں کو چھپا کر اور مردانگی جتانے پر دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔

یہاں خواتین کو ایک موقع فراہم ہوتا ہے، بالخصوص ماؤں کے لیے۔ حتیٰ کہ جہاں ایک بیٹا اپنے باپ اور بھائی اور دوست کی جانب سے پوری طرح سے ایک الگ خیالات سنتا ہے وہاں اس کی والدہ اسے یہ بتا سکتی ہے کہ ایک حقیقی بہادری احساسات سے انکاری ہونے میں نہیں بلکہ حقیقت کو تسلیم کرنے میں ہے، جس کا مطلب خوف کو تسلیم کرنے اور اس کا اعتراف کرنے سے ہے۔

اگر پاکستانی مائیں اپنے بیٹوں کو بتاتی ہیں کہ رونا کوئی بڑی بات نہیں، اس میں کوئی مسئلہ نہیں، یوں یہ اس ایک تنگ نظام کو ختم کرنے کی جانب پہلا قدم ہوگا جہاں صنفی بنیادوں پر کردار اس قدر پختہ ہو گئے ہیں کہ تبدیلی کا کوئی امکان نہیں بچا۔ بہرحال ایک قوم جس کے مرد خود اپنے آپ کے ساتھ ہی سچے نہیں ہو سکتے تو اس کا مطلب کہ وہ قوم فریب کی دلدل میں آدھی پھنسی ہے۔

خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر شائع ہونے والے ڈھیروں مضامین جو خواتین کے حقوق پر جائزوں اور مطالبوں کے موضوعات پر مشتمل ہے۔ جن میں ریاست، عدالتی اداروں اور سول سوسائٹی کو مظالبے پیش کیے جاتے ہیں۔ جہاں یہ تمام مطالبے اہم ہیں وہاں اس حقیقت کو محسوس کرنا بھی نہایت ضروری ہے کہ ان میں سے کوئی مطالبہ کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ تبدیلی کے لیے بنیادیں عام لوگوں کی زندگیوں کی زمین میں پیوست نہیں کی جاتیں۔

لہٰذا اس کے لیے تجویز ہے کہ اپنے پاکستانی بیٹوں کو بتائیں کہ رونے میں کوئی برائی نہیں ہے اور یوں آپ کی پاکستانی بیٹیوں کے رونے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔

یہ مضمون 8 مارچ 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔