وزیراعظم کے خلاف مہم: حکومت کا کارروائی کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 13 مارچ 2017

ای میل

اسلام آباد: حکومت نے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم نواز شریف اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’پاناما کیس پر فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے بارے میں منفی مہم چلا کر سپریم کورٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف دنیا کے مقبول ترین وزیر اعظم بن چکے ہیں جبکہ مریم نواز پاکستانیوں کے دلوں میں راج کرتی ہیں۔‘

وزیر مملکت نے کہا کہ ’نواز شریف کی مخالفت پاکستان کی مخالفت ہے، ہم بھی ڈاکومنٹریاں بنا سکتے ہیں اور اداروں پر اثر انداز بھی ہوسکتے ہیں مگر ہم ایسا نہیں کریں گے، مخالفین جتنی مرضی سیاست کریں، جتنی منفی ڈاکومنٹریاں بنائیں، سپریم کورٹ کسی کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کرتی بلکہ قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ایسی مہم کے خلاف سائبر کرائم و دیگر قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی، تاہم اس کو سیاسی انتقام نہ سمجھا جائے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آئین اور قانون کے مطابق جو بھی فیصلہ دے گی ہمیں قبول ہوگا۔

اس موقع پر دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ ’پاناما کیس کا فیصلہ آنے سے قبل فیصلہ دینے کی مہم جاری ہے اور عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف بہت گری ہوئی اور منفی سیاست کر رہی ہے اور ادارے، پارلیمنٹ اور جمہوریت کوئی بھی ان کی زد سے نہیں بچا اور ڈنکے کی چوٹ پر ان کی بے عزتی کی جارہی ہے۔‘