2012 سے ہر سال اس رپورٹ کو مرتب کیا جاتا ہے—فوٹو: اسکرین گریب
2012 سے ہر سال اس رپورٹ کو مرتب کیا جاتا ہے—فوٹو: اسکرین گریب

دنیا بھر میں عالمی یوم مسرت 20 مارچ کو منایا جاتا ہے، اسی روز اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی خوشی کا اشاریہ بھی جاری ہوتا ہے جس میں دنیا بھر کے ممالک کو وہاں بسنے والے لوگوں کے جذبات کے مطابق خوش اور ناخوش ممالک میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

2012سے لگاتار جاری ہونے والے اشاریے کی پانچویں رپورٹ میں دنیا کے سب سے زیادہ خوش ملک کا اعزاز ناروے کے نام رہا۔

اس سال ناروے نے پہلی پوزیشن ڈنمارک کو شکست دے کر اپنے نام کی ہے، خیال رہے کہ ڈنمارک گذشتہ تین سال سے عالمی خوشی کے اشاریے میں پہلے نمبر پر براجمان تھا۔

ناروے کے پہلے نمبر پر آجانے کے بعد ڈنمارک دنیا کا دوسرا جب کہ آئس لینڈ دنیا کا تیسرا سب سے خوش ملک قرار پایا۔

فہرست میں چوتھی پوزیشن سوئٹزرلینڈ، پانچویں پوزیشن فِن لینڈ، چھٹی پوزیشن نیدرلینڈز جبکہ ساتویں پوزیشن کینیڈا کے نام رہی۔

نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور سویڈن کو بالترتیب آٹھویں، نویں اور دسویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

—اسکرین گریب
—اسکرین گریب

دنیا کا سب سے طاقتور ملک امریکا گذشتہ سال کی نسبت ایک درجہ تنزلی کے بعد اب 14ویں نمبر پر آگیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طاقت اور خوشی آپس میں کوئی تعلق نہیں رکھتے۔

خیال رہے کہ ناروے تیل سے مالامال ملک ہے اور گذشتہ کچھ عرصے کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئی ہیں، اس کے باوجود پہلے نمبر پر ناروے کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ خوشی کا تعلق زائد آمدن سے بھی نہیں۔

عالمی یومِ مسرت کے موقع پر جاری ہونے والی اس خصوصی رپورٹ میں خوشی کی معاشرتی بنیاد کو خصوصی طور پر واضح کیا گیا ہے، جس میں دفاتر اور دیگر کام کی جگہوں پر لوگوں کی خوشی اور ناخوشی کو شامل کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے کاروباری اسکول کے پروفیسر جین ایمینؤل ڈی نیو کہتے ہیں کہ 'لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ کام کرتے ہوئے گزارتے ہیں لہٰذا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لوگوں کی خوشی میں روزگار اور بےروزگاری کا کتنا حصہ ہے'۔

رپورٹ میں خوشی کے جذبات پر اثرانداز ہونے والی نجی معاملات کو بھی اجاگر کیا ہے۔

رپورٹ میں شامل ایک ماہر پروفیسر رچرڈ لایارڈ کے مطابق، 'خوشحال ممالک کے افراد میں لاچاری کی سب سے بڑی وجہ ذہنی بیماریاں ہے'۔

اقوام متحدہ کے ادارے کی جاری کردہ اس رپورٹ میں 155 ممالک شامل ہیں جن میں پاکستان کا نمبر 80 واں ہے، بھارت 122ویں پوزیشن پر جبکہ چین 79ویں نمبر ہے۔

اشاریے میں دنیا کا سب سے ناخوش ملک جمہوریہ وسطی افریقا کو قرار دیا گیا ہے، ناخوش ممالک میں دوسرے نمبر پر برونڈی، تیسرے نمبر پر تنزانیہ جبکہ چوتھے نمبر پر شام کا نام ہے۔


زیادہ پڑھی جاٰنے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

LARGE_RECTANGLE_BOTTOM - /1029551/Dawn_ASA_Unit_670x280


تبصرے (0) بند ہیں