امجد صابری کے اہلخانہ کا ملک چھوڑنے کا فیصلہ

10 اپريل 2017

ای میل

معروف قوال امجد صابری  کے بیٹے مجدد اور عون — فوٹو/ وائٹ اسٹار
معروف قوال امجد صابری کے بیٹے مجدد اور عون — فوٹو/ وائٹ اسٹار

گزشتہ برس کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں جان کی بازی ہارنے والے معروف قوال امجد صابری کے اہلخانہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے ملک چھوڑنے پر غور کررہے ہیں۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے 40 سالہ مرحوم امجد صابری کے بھائی عظمت صابری نے بتایا کہ وہ اور ان کے اہلخانہ پاکستان چھوڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'ہم خود کو اب یہاں محفوظ تصور نہیں کرتے، ہمارا پورا خاندان برطانیہ منتقل ہونا چاہتا ہے، لندن میں ہمارا ایک بھائی موجود ہے'۔

مزید پڑھیں: معروف قوال امجد صابری قاتلانہ حملے میں ہلاک

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو برطانیہ منتقل ہونے میں مدد فراہم کی جائے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا 'ہم کل ہی یہاں سے جانے کو تیار ہیں اگر ہمیں ویزا دے دیا جائے'۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مرحوم امجد صابری کے اہلخانہ سے تعزیت کے لیے ان کے گھر کا دورہ کیا۔

اس موقع پر مرحوم امجد صابری کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹوں کی حفاظت کے لیے کافی فکر مند ہیں اور خاندان کے لوگ ملک چھوڑ کر باہر جانے پر غور کررہے ہیں، جس کے لیے حکومت ان کی مدد کرے۔

اس حوالے سے جسٹس افتخار چوہدری کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امجد صابری کی والدہ اب یہاں رہنے میں مطمئن نہیں، اس لیے ان کے باہر جانے کا مطالبہ کافی مضبوط ہے۔

خیال رہے کہ 22 جون 2016 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد نمبر 10 میں موٹر سائیکل سوار ملزمان نے امجد صابری کی گاڑی پر فائرنگ کرکے انہیں قتل کردیا تھا۔

جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حکیم اللہ محسود گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امجد صابری قتل: گرفتار ملزمان کے چونکا دینے والے انکشافات

امجد صابری معروف قوال صابری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور غلام فرید صابری کے صاحبزادے تھے۔

وہ 23 دسمبر 1976 کو پیدا ہوئے، انھوں نے 1988 میں فنی سفر کا آغاز کیا اور اپنے والد کی مشہور زمانہ قوالی 'تاجدار حرم' کو یوں پیش کیا کہ سننے والے جھوم گئے۔