چینی خاتون کا عزم اور پاکستان-چین کا نیا بندھن

اپ ڈیٹ 22 اپريل 2017

ای میل

کبھی کبھار ایک واحد انسان ہی اپنی ہمت سے پورے معاشرے کو جگا دیتا ہے۔ شاید یی ہیان کے کیس میں بھی ایسی ہی بات ہے، جو چین میں خواتین کے حقوق کی کارکن ہیں، جو اپنے ملک کے اندر موجود جسم فروش خواتین کی حالت زار پر توجہ دلوانے کے لیے تقریباً اپنا سب کچھ ہی قربان کر چکی ہیں۔

یی ہیان دیہی چین میں ایک غربت زدہ چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئیں، انہوں نے بطور ایک جسم فروش کام کرنا شروع کیا اسی طرح وہ چین میں موجود ایسی کئی ہزاروں خواتین کی تکالیف اور استحصال کو منظر عام پر لا سکیں۔ انہوں نے جن کیسز کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ان میں سے ہی ایک کیس میں ایک اسکول پرنسپل شامل تھا جو اپنے اسکول میں داخل کم عمر لڑکیوں اس مقصد کے لیے استعمال کرتا تھا۔

وہ چاہتی تھیں کہ وہ گرفتار ہو اور اسے سزا ملے۔ اس متنازع مسئلے پر آواز بلند کرنے کے لیے، یی ہیان کو اپنا گھر کھونا پڑا اور اپنے ابائی گاؤں میں پناہ لیے جانے تک ایک سے دوسرے شہر پیچھا کیا جاتا رہا۔

یی ہیان کی کہانی فلم ساز ننفو وانگ کی بنائی ہوئی ڈاکیومنٹری کا موضوع ہے جس کا عنوان ہولیگن اسپیرو ہے۔ وانگ نے یی ہیان اور ان کی ساتھی کارکنان کی جانب سے اسکول کے باہر احتجاجی مظاہرے کے موقعے پر ان کے ساتھ گئیں اور چین میں جنسی کاروبار میں خواتین کی حالت زار کو ظاہر کرنے والے دیگر پر امن مظاہروں کو بھی کور کیا۔

وانگ کو خود بھی لوگوں کی جانب سے فلم فوٹیج چھیننے کی کوشش کرنے والے لوگوں کے ساتھ بار بار مزاحمت کرنی پڑی۔ اکثر تو وہ صرف مائیک کو کپڑوں میں چھپا کر صرف آواز ہی ریکارڈ کر پاتیں۔ کئی بار تو، ساتھی کارکن کے بھیس میں بھی لوگوں نے یہ کہتے ہوئے ان سے فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی کہ وہ فوٹیج کو سنبھال کر رکھیں گے اور بعد میں چینی حکومت یا چینی جنسی کاروبار کے باسز کی نظروں سے بچا کر وانگ کو لوٹا دیں گے۔

ہیان کی طرح، وانگ بھی کارکن یا چینی حکام بن کر آنے والے لوگوں کے جھوٹے واعدوں کے جھانسے میں نہیں آئیں۔ نتیجہ: یہ ڈاکیومنٹری، جو چینی زندگی اور سماج کے ایک ایسے پہلو کی ایک غیر معمولی اور دلچسپ تصویر ہے جس کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں تھا۔ کئی (مجھ سمیت) لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک مستحکم کا ریاست ہونے کا مطلب خواتین کو مساوی تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔

ثقافتی انقلاب کے کارناموں میں سے ایک کارنامہ خواتین کو افرادی قوت میں شامل کرنا اور انہیں صنفی عدم برابری کی بنیادوں پر روایتی غلامی سے آزاد کروانا ہے۔ چنانچہ، لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اگر خواتین کو دیگر کام کرنے کے آپشنز دستیاب ہوں گے تو وہ زندہ رہنے کے لیے جسم فروشی نہیں کریں گی۔

ایسی بات نہیں ہے، جس طرح فلم انکشاف کرتی ہے کہ نہ صرف اسکول پرنسپل جیسے مردوں کی جانب سے کم عمر لڑکیوں کا غلط استعمال اور ان کی ٹریفکنگ کی جاتی ہے بلکہ بعد میں خواتین کو ان کے باسز کی جانب سے بلیک میل کیا جاتا ہے اور ان کے مطالبے نہ ماننے پر لڑکیوں کو حکام کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

انہیں ان مردوں کے ہاتھوں جبری طور پر استحصال کا شکار رہنا پڑتا ہے جو اس کام کی قیمت ادا کرتے ہیں اور ان مردوں کے بھی استحصال کا شکار رہتی ہیں جو انہیں اس کام کے لیے اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ چینی ریاست ان کی فلاح کے بارے میں نہ ہونے کے برابر فکر مند دکھائی دیتی ہے؛ ایسی خواتین یا وہ نواجوان لڑکیاں، جنہیں اس کام میں جبری طور پر دھکیلا جاتا ہے، چینی ریاست کے لیے سب سے آخری ترجیح نظر آتی ہے۔

پاکستان میں، باقی دنیا ہی کی طرح، چین کا یہ چہرہ شاید ہی کبھی دیکھا گیا ہو۔ دونوں ملکوں کی بے مثال دوستی کافی پرانی ہے۔ حتیٰ کہ سی پیک بنانے کے منصوبوں سے بھی پہلے، بچپن میں مجھ جیسے اسکول کے بچوں کو دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کی شان میں گیت یاد کروائے جاتے تھے۔ چین کی ہندوستان کے ساتھ تلخی یعنی دشمن کا دشمن دوست مطلب چینیوں سے پکی دوستی۔

پاکستانی بازاروں میں چینی مصنوعات کی طوفان ہے اور پاکستانی اخبارات اور ٹی وی اینکرز روزانہ ہمیشہ مشکل گھڑی میں کام آنے والے پڑوسی کی شان میں قصیدے پڑھے ہیں.

خواتین مخالف ایسی روش کو اب ایسی چیزوں کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے جن میں پاکستان اور چین مساوی ہیں. پاکستان کی ہی طرح، یوں لگتا ہے کہ چین بھی قابل عزت ہونے کا ایک لبادہ اوڑھنا چاہتا ہے اور یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ استحصال کا شکار خواتین، خاص طور پر وہ خواتین جنہیں جنسی کاروبار میں جبری طور پر دھکیلا جاتا ہے، وجود ہی نہیں رکھتیں۔

یہ غیر اخلاقیات ان خواتین کو بری طرح متاثر کرتی ہے جنہیں اس کام میں زبردستی دھکیلا جاتا ہے؛ انہیں پکڑے جانے پر گرفتاری اور سزا کا ڈر رہتا ہے۔ اس صورتحال میں خواتین خود کو خاموش اور پوشیدہ رکھنے پر مجبور ہو جاتی ہیں اور یوں یہ مردوں کے ہاتھوں استحصال کے لیے دستیاب ہو جاتی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا ہے کہ وہ کس طرح زندگی گزارتی ہیں اور جب مر جاتی ہیں تو بھی کسی کو پرواہ نہیں ہوتی۔

ان تمام وجوہات کی وجہ سے، ہولیگن اسپیرو، ایک خاتون سماج کی خاموشی اور شرم و حیا کے آگے کھڑے ہونے کی تاریخ ساز بہادرانہ کوشش ہے، یہ ایک ایسی فلم ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ جس طرح زمین مالکان ہیان کا سامان سڑک پر پھنکتا ہے وہ نہایت ہی دلسوزی کا منظر ہوتا ہے۔ یہ دیکھنا کافی حوصلہ بخش ثابت ہوتا ہے جس طرح وہ کسی گائے کی طرح اپنی بیٹی کے ساتھ ایک سے دوسرے شہر بھٹکنے سے انکار کرنے کی ہمت جٹاتی ہیں اور اپنی آواز بلند کرنے سے برآمد ہونے والے نتائج کی ایک بار پھر شکایت نہیں کرتیں۔

ایک منظر میں وہ بتاتی ہیں، جو پاکستان کے لیے بھی درست ہے، کہ کس طرح ان کے گاؤں میں خواتین اپنے گھروالوں کے لیے سب کچھ قربان کر دیتی ہیں، حالات میں ذرا برابر بہتری کے لیے بھی انہیں اپنی زندگیوں اور مستقبل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔ پاکستانی خواتین کی بھی قسمت، چاہے کسی بھی طبقے سے ہوں، بھی کافی حد تک ایسی ہی ہے، جہاں ان کی طلب اور خواہشات اور خواب ان مردوں کی تلوار تلے ہوتے ہیں، جن کے نزدیک یہ خواتین محض کسی کھیل کے مہروں کی طرح ہیں۔

پاکستان میں حقوق نسواں کی کارکن، خاص طور وہ جو مالی اور خاندانی تحفظ کے بغیر اپنی آواز بلند کرتی ہیں، اس کہانی میں ایک مختلف بنیاد پر پاک چین یکجہتی کو تلاش کر سکتی ہیں۔ جہاں پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تعلقات بنائے جانے کے لیے کافی اقدامات کیے جا رہے ہیں وہاں شاید اس تعلق کو بھی مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔

یی ہیان اور ان کی کئی ساتھی کارکنان کو اپنی تحریک کے لیے جیل میں سزا کاٹنی پڑی؛ وہ وکیل جس نے ان کا دفاع کیا وہ بھی مقدمے کے بغیر جیل میں قید رہنا پڑا۔ امید کرتے ہیں کہ ان کا حوصلہ پاکستان اور چین کے درمیان ایک مختلف بندھن قائم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ مضمون 19 اپریل 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔