— فوٹو بشکریہ فیس بک
— فوٹو بشکریہ فیس بک

فیس بک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کررہی ہے جس کی بدولت کان کی بجائے اپنی جلد سے لوگوں کی بات سن سکیں گے اور وہ بات چیت خودکار طور پر کسی بھی زبان کے ترجمے کے ساتھ ہوگی۔

یہ ٹیکنالوجی فیس بک کے بلڈنگ ایٹ ریسرچ گروپ کی جانب سے تیار کی جارہی ہے۔

فیس بک کی سالانہ ایف ایٹ ڈویلپر کانفرنس کے دوران اس ٹیکنالوجی کی ایک جھلک پیش کی گئی اور اسے کان کے اندر موجود سوراخ جیسا قرار دیا گیا جو کہ آواز کو دماغ کے پڑھنے کے قابل معلومات میں تبدیل کرتا ہے۔

فیس بک کے مطابق یہ ممکن ہے کہ کان کے اس عمل کو ٹیکنالوجی کی شکل دے کر کسی فرد کی جلد کو اس کے قابل بنادیا جائے۔

فیس بک نے اس حوالے سے زیادہ تفصیلات تو نہیں بتائیں مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس میں جلد آواز سننے کے قابل نہیں ہوگی بلکہ وہ الفاظ کے ارتعاش کو محسوس کرے گی اور وقت کے ساتھ اسے سمجھنے کے قابل ہوجائے گی۔

فیس بک کے مطابق اس حوالے س ایک بنیادی سسٹم تیار کیا جاچکا ہے جو کہ لوگوں کو مختلف آوازوں کے ارتعاش پر ردعمل میں مدد دیتا ہے۔

فیس بک کے عہدیداران کے مطابق بہت جلد ایسا ہوسکتا ہے کہ جیسے کوئی فرد چینی زبان میں سوچیں اور آپ فوری طور پر اسے اطالوی زبان میں سمجھ سکیں یا محسوس کرسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تصور کریں دنیا کے کروڑوں افراد جو پڑھ یا لکھ نہیں سکتے مگر سوچ اور محسوس کرسکتے ہیں۔

یہ واضح نہیں کہ فیس بک اس ٹیکنالوجی کے ساتھ کیا کرے گی اور کب تک یہ مکمل طور پر تیار ہوجائے گی مگر عہدیداران کا کہنا تھا کہ اس میں چند سال لگ سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جاٰنے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

انوکھا روپ سب کی توجہ کا مرکز

انوکھا روپ سب کی توجہ کا مرکز
فلم ’رابطہ‘ کے ٹریلر کو تو شائقین کا ملا جھلا ردعمل موصول ہوا، تاہم ایک کردار کے انوکھے روپ نے سب کو حیران کیا۔
اپ ڈیٹ اپريل 22, 2017 01:20pm

LARGE_RECTANGLE_BOTTOM - /1029551/Dawn_ASA_Unit_670x280


تبصرے (0) بند ہیں