آخرکار سائنسدانوں نے اس کا جواب تلاش کرلیا ہے— شٹر اسٹاک فوٹو
آخرکار سائنسدانوں نے اس کا جواب تلاش کرلیا ہے— شٹر اسٹاک فوٹو

کیا آپ نے کبھی سوچا یا حیرت ہوئی کہ کھانے کی کوئی مزیدار چیز دیکھ کر منہ میں پانی کیوں آجاتا ہے؟

تو آخرکار سائنسدانوں نے اس کا جواب تلاش کرلیا ہے۔

جی ہاں جاپان سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے مطابق غذا کو دیکھ کر منہ میں پانی بھر آنے کا تعلق دماغ سے جڑا ہے جس کی جڑیں انسانی ارتقاءمیں چھپی ہیں۔

نیشنل انسٹیٹوٹ آف جینیٹکس کی تحقیق کے مطابق غذا کو دیکھنا اور اس کو کھانے کی خواہش کے درمیان براہ راست تعلق ہے۔

اس تحقیق کے دوران زیبرا فش کی دماغی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا، اس جاندار کا دماغی نیٹ ورک انسانوں سے ملتا جلتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے رویے اور بھوک کو دماغ کا وہ حصہ کنٹرول کرتا ہے جسے ہیپو تھالمیوس کہا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق انسانوں کی طرح زیبرا فش بھی اپنی غذا کو شناخت کرنے کے لیے اکثر نگاہ کا استعمال کرتی ہے اور کھانے کی چیز کو دیکھ کر ہیپو تھالمیوس میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔

ان کے بقول ہم نے دریافت کیا کہ کھانے کو دیکھنے سے وہ دماغی نیورون حرکت میں آتے ہیں جو کہ ہیپو تھالمیوس میں پیٹ بھرنے کے حصے کے مرکز میں ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کا ارتقائی فائدہ یہ ہے کہ جب ہم کھانے کو دیکھتے ہیں تو بھوک کا احساس ہونے لگتا ہے جبکہ انسانوں اور دیگر جانوروں کے بچوں میں یہ دماغی حصہ ہی بھوک کے اظہار میں مدد دیتا ہے۔

اسی وجہ سے ان کے اندر خوراک کو شناخت کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ورنہ دوسری صورت میں وہ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں۔

تحقیق کے مطابق اسی ردعمل کے نتیجے میں بچے اکثر چھوٹی چیزوں کو خوراک کے طور پر لے کر منہ میں ڈال کر اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس عمل کو سمجھنے سے مستقبل میں زیادہ کھانے یا بسیار خوری کے عارضے پر قابو پانے کے لیے طریقہ کار تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔