وزیراعظم نواز شریف—فوٹو: رائٹرز
وزیراعظم نواز شریف—فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: پاناما پیپرز کیس کے حوالے سے طویل انتظار کے بعد سامنے آنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف متعدد ایجنسیوں کو تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

تاہم صرف دو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے علاوہ دیگر متعلقہ ادارے ماضی میں ہی اس معاملے پر تحقیقات کے لیے غیررضامندی کا اظہار کرچکے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کو ہدایات دی ہے کہ وہ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے اپنے نمائندے مقرر کریں۔

لیکن یہ بھی واضح رہے کہ ان اداروں کے سربراہان پہلے ہی پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کو آگاہ کرچکے ہیں کہ پاناما گیٹ کیس کی تحقیقات ان کے اختیار سے باہر ہیں۔

چیئرمین پی اے سی سید خورشید شاہ کی دعوت پر چیئرمین نیب، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایف آئی اے، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایس ای سی پی واضح طور پر کمیٹی کے سامنے اپنی بےبسی کا اظہار کرچکے ہیں اور بتا چکے ہیں کہ متعلقہ قوانین میں موجود پابندیاں انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ پاناما پیپرز میں عائد الزامات کی تحقیقات کی جاسکے۔

اُس وقت نیب چیئرمین قمرزمان چوہدری کا نقطہ نظر تھا کہ قومی احتساب آرڈیننس کے تحت نیب کرپشن کے الزامات پر کسی بھی مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کا اختیار دیتا ہے لیکن عملی طور پر سول پروسیجر کوڈ کے تحت پاناما پیپرز میں شامل افراد کے خلاف تحقیقات وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) سرانجام دے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایف بی آر کسی جرم کی نشاندہی کرتا ہے جو مجرمانہ کارروائی میں شمار ہوتی ہو، تو تب ہی قانون کے تحت نیب ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے۔

چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ یہ اسکینڈل صرف لیکس پر مبنی ہیں اور اس میں کوئی واضح ثبوت موجود نہیں لہذا نیب ان افراد کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا۔

ڈی جی ایف آئی اے عملیش خان نے بھی اس معاملے پر بےبسی کا اظہار کرتے ہوئے توجیہہ پیش کی تھی کہ یہ ٹیکس چوری سے جڑا معاملہ ہے۔

منی لانڈرنگ کے حوالے سے عائد الزامات پر ان کا کہنا تھا کہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں متعارف کروایا گیا جبکہ رقوم کی منتقلی کے الزامات اس ایکٹ کے نافذ ہونے سے قبل کے ہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایجنسی کو سرکاری دفاتر سنبھالنے والے افراد کے خلاف تحقیقات کا اختیار حاصل نہیں اور قانون ادارے کو صرف سرکاری ملازمین سے جڑے معاملات کی تحقیقات کی اجازت دیتا ہے۔

دوسری جانب ایس سی سی پی کے چیئرمین ظفر حجازی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزارت خزانہ نے 29 اپریل کو پاناما پیپرز کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، کمیشن نے اس بات کا پتہ لگایا کہ پاناما پیپرز میں شامل 155 افراد پاکستان کی 39 رجسٹرڈ کمپنیوں سے وابستہ ہیں لیکن الزامات کی تحقیقات اس لیے ممکن نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان افراد نے ذاتی حیثیت میں آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہو اور سی ای سی پی ایسی سرمایہ کاری کے بارے میں تحقیقات نہیں کرسکتا۔

گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرا کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک اس لیے اس حوالے سے تحقیق کرنے سے قاصر ہے کیونکہ وہ صرف بینکنگ ذرائع سے مشتبہ لین دین حاصل کرسکتے ہیں اور تحقیق کرکے ایجنسیوں کو رپورٹ پیش کرسکتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک، جو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اب جے آئی ٹی تشکیل دی جا چکی ہے، لہذا اسے اب عدالت کے احکامات کے مطابق کام کرنا ہوگا۔

دوسری جانب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ایک اور رکن اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں اور متعلقہ اداروں کے سربراہان جب کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے تو ان کا ردعمل ’غیر رسمی‘ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاہم اب عدالت عظمیٰ نے تحقیقات کا ایک روڈ میپ تشکیل دے دیا ہے اور سوالات فریم کردیئے ہیں۔


یہ خبر 21 اپریل 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

زیادہ پڑھی جاٰنے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

LARGE_RECTANGLE_BOTTOM - /1029551/Dawn_ASA_Unit_670x280


تبصرے (0) بند ہیں