واشنگٹن: امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے وسطی ایشیا اور اس کے اطراف کے خطوں میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو 'شکست' دینے کے لیے سعودی کوششوں کو سراہا ہے۔

واشنگٹن میں موجود امریکی محمکہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے تدارک کے لیے بنایا جانے والا مسلم ممالک کا اتحاد ایک مثبت قدم ہے۔

انہوں نے کہا، 'ہم دیکھ رہے ہیں کہ خطے کے ممالک ایران کی جانب سے پیدا کی جانے والی رکاوٹ اور عدم استحکام کی روک تھام کی کوشش کر رہے ہیں'۔

پینٹا گون کے مطابق سعودی ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز السعود اور وزیر دفاع محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے علاقائی سیکیورٹی، یمن کے ساتھ امن مذاکرات اور خطے میں ایرانی اثرو رسوخ کو ختم کرنے کے حوالے سے سعودی کردار کی تعریف کی۔

مزید پڑھیں: کیا اسلامی اتحاد کی قیادت سے راحیل شریف متنازع بن جائیں گے؟

امریکی سیکریٹری دفاع نے سعودی عرب کی جانب سے اردن میں موجود شامی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال، انہیں فراہم کی جانے والی روزمرہ اشیاء اور مصر کو دی جانے والی امداد کو سراہا۔

انہوں نے کہا، 'یہ واضح ہے کہ ایک اہم موقع پر سعودی عرب دنیا کے اس اہم خطے میں استحکام لانے کے لیے کردار ادا کر رہا ہے'۔

ایران کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں جیمز میٹس نے کہا، 'ایران کا اثر پورے خطے میں محسوس کیا جارہا ہے جیسا کہ اس نے لبنان میں ایک ملیشیا تیار کی، شام میں اپنی فوجیں اتاریں اور بشار الاسد کو اقتدار میں رکھنے کے لیے مدد فراہم کر رہا ہے'۔

ان کا کہنا تھا، 'آپ دیکھیں کہ اگر خطے میں کہیں بھی پریشانی ہے تو آپ وہاں ایران کو پائیں گے'، اسی وجہ سے سعودی عرب اور دوسرے ممالک اس طاقت کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’اسلامی فوجی اتحاد یمن میں مداخلت نہیں کرے گا‘

واضح رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے 34 ملکی اتحاد فوجی کو امریکا کی حمایت حاصل ہے، اسلامی فوج کے اس اتحاد کی سربراہی پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کر رہے ہیں۔

تاہم یمن کے خلاف جنگ میں سعودی فوجیوں کی شمولیت نے اس اتحاد کو متنازع بنا دیا ہے جبکہ امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مقصد کو سراہا ہے۔

یمن کے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں جیمز میٹس نے کہا کہ ہمارا مقصد اس تنازع کو اقوام متحدہ کے ثالثی مذاکرات کی طرف لے جانا ہے تاکہ اس کے حل کو یقینی بنایا جائے۔

تاہم انہوں نے ایران کو یمن میں مشکلات پیدا کرنے کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔

ان کا کہنا تھا، 'ایرانی اثرو رسوخ، اس کی امداد اور فرانسیسی، امریکی اور آسٹریلوی نیوی کی جانب سے پکڑے جانے والے ہتھیاروں سے ظاہر ہے کہ ایران نے ایک مرتبہ پھر مدد کی ہے'۔

امریکی سیکریٹری دفاع نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ ایران کی جانب سے ایک اور ریاست کو غیر مستحکم کرنے اور حزب اللہ جیسی تنظیم بنانے سے روکنے کے لیے مل کر کام کریں۔

یہ خبر 21 اپریل 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی