اسلام آباد: سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کو سعودی عرب کی سربراہی میں اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کے لیے این او سی جاری کردیا گیا، جس کے بعد وہ سعودیہ روانہ ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل (ر) راحیل شریف کو لینے کے لیے سعودی عرب سے خصوصی طیارہ لاہور پہنچا تھا، ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور والدہ بھی سعودیہ روانہ ہوئیں۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی چینل جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 'جنرل (ر) راحیل شریف کو قانون کے مطابق این او سی دیا گیا'۔

دوسری جانب ملٹری ذرائع نے ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جنرل (ر) راحیل شریف کو این او سی جاری کرنے کی منظوری جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کی جانب سے بھی دے دی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی مدت ملازمت 3 سال کے لیے ہوگی۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا یا نہیں، کیونکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ یہ فوجی اتحاد ایران کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: 39 ملکی فوجی اتحاد:'راحیل شریف کی سربراہی اصولی طور پر طے'

واضح رہے کہ دسمبر 2015 میں سعودی عرب کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد مسلم ممالک کے درمیان سلامتی کے حوالے سے تعاون سمیت فوجیوں کی تربیت اور انسداد دہشت گردی کا بیانیہ وضع کرنا تھا۔

ابتداء میں اس اتحاد میں 34 ممالک شامل تھے بعد ازاں مزید ممالک کی شمولت سے اس کی تعداد 41 ہو گئی تاہم ایران سمیت کئی مسلم ممالک اس کا حصہ نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فوجی اتحاد:’راحیل شریف سربراہ بنے تو متنازع ہوجائیں گے‘

پاکستان ابتداء میں اس اتحاد میں شمولیت سے متعلق مخمصے کا شکار رہا، تاہم ابہام دور ہونے کے بعد پاکستان نے اس اتحاد میں اپنی شمولیت کی تصدیق کردی، لیکن کہا گیا کہ اتحاد میں اس کے کردار کا تعین سعودی حکومت کی طرف سے تفصیلات ملنے کے بعد کیا جائے گا۔

نومبر 2016 میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے مسلسل یہ بات زیر بحث رہی کہ وہ اسلامی اتحادی افواج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالیں گے، لیکن ابتداء میں سرکاری سطح پر کسی نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔

بعدازاں گزشتہ ماہ یعنی مارچ کے آخر میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جنرل (ر) راحیل شریف کو اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کا کمانڈر بنائے جانے کی تصدیق کی تھی۔

مزید پڑھیں: اسلامی فوجی اتحاد کسی ملک کے خلاف نہيں، تہمینہ جنجوعہ

واضح رہے کہ نومبر 2013 میں پاک فوج کی کمان سنبھالنے والے راحیل شریف کی مدت ملازمت گذشتہ برس نومبر میں ختم ہوئی۔

جنرل (ر) راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کافی قیاس آرائیاں کی گئیں تاہم آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا تھا کہ آرمی چیف مقررہ تاریخ پر ریٹائر ہوجائیں گے۔