اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک میں جاری حالیہ مردم شماری کے فارم پر سکھ مذہب کے خانے کو شامل کرنے کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کردیا۔

پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پاکستان کے محکمہ شماریات (پی بی ایس) کے چیف کمشنر مردم شماری آصف باجوہ کی دائر کردہ پٹیشن کی سماعت کی، جس میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کیا گیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں پی بی ایس کو ہدایات جاری کی تھیں کہ مردم شماری کے فارم میں تبدیلی کرکے اس میں سکھ مذہب کے اندراج کیلئے ایک کالم کا اضافہ کیا جائے۔

مردم شماری چیف کمشنر آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں مذکورہ فارم میں اس قسم کی کوئی چیز شامل نہیں کی گئی ہے، جس کی وجہ سے بینچ نے فارم میں مذکورہ ممکنہ اضافے کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں جبکہ مردم شماری جاری ہے۔

مزید پڑھیں: مردم شماری:دوسرے مرحلے میں سکھ مذہب کا خانہ شامل کرنےکا حکم

ان کا کہنا تھا کہ 1981 میں ملک میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 0.003 فیصد تھی، مردم شماری کے دوران اور خاص طور پر اس موقع پر فارم میں اس قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے بینچ نے دلائل سننے کے بعد پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کا حکم جاری کیا اور کیس کی سماعت کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مردم شماری 63 اضلاع میں مکمل ہونے جارہی ہے اور اس موقع پر مردم شماری کے فارم میں اس قسم کی تبدیلی کرنا نا ممکن ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے سندھ اور پشاور ہائی کورٹس کی جانب سے مردم شماری فارم میں اقلیتوں کیلئے علیحدہ کالم کے اضافے کے فیصلے کو بھی معطل کردیا۔

خیال رہے کہ 22 مارچ 2017 کو پشاور ہائی کورٹ نے محکمہ شماریات کو مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں سکھ مذہب کا خانہ شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 'مردم شماری والوں نے سکھوں کی پہچان کو ہی مٹا دیا'

سکھ برادری کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی تھی۔

محکمہ شماریات کی جانب سے ممبر حبیب اللہ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت عالیہ کو بتایا کہ مردم شماری کا پہلا مرحلہ جاری ہے جس کے باعث سکھ مذہب کا کالم فارم میں شامل نہیں کرسکتے۔

خیال رہے کہ پہلے مرحلے میں ملک کے 63 اضلاع میں جاری مردم شماری کے فارم میں سکھوں کی آبادی کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے ’مذہب‘ کے خانے میں ’سکھ‘ کا آپشن نہ رکھنے پر سکھ برادری نالاں نظر آتی ہے۔