دہشت گردی کے الزام میں اوبر کا پاکستانی ڈرائیور معطل

اپ ڈیٹ 01 مئ 2017

ای میل

ٹیکسی سروس اوبر نے آسٹریلیا میں شدت پسند تنظیم داعش سے تعلق کے شبے میں ایک پاکستانی ڈرائیور کو معطل کردیا،ڈرائیورپر الزام ہے کہ وہ آسٹریلوی پارلیمنٹ کو دھماکے سے تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

ایک خاتون مسافر نے اپنی شناخت ظاہرنہ کرتے ہوئے بتایا کہ اتوار کی صبح انہوں نے اپنے گھر جانے کی غرض سے اوبر ٹیکسی کو بلایا جس کے ڈرائیور نے اس خاتون کو بتایا کہ اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مسافر خاتون نے مزید بتایا کہ ڈرائیور نے دوران سفر بتایا کہ وہ کینبرا شاپنگ مال اور آسٹریلوی پارلیمنٹ کو دھماکے سے اڑانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا واقعی اوبر نے گوگل کا فارمولہ چوری کیا؟

اس گمنام خاتون نے پاکستانی ڈرائیور پر اغوا کرنے کی کوشش کا بھی الزام لگایا، اس خاتون کہنا تھا کہ ڈرائیور اسے کینبرا کے مضافات میں اس کے گھر نہیں بلکہ 100 کلومیٹر جنوب میں موجود ایک علاقے کوما کی جانب لے کر جارہا تھا۔

خاتون نے بتایا کہ اس نے ڈرائیور سے پیٹرول پمپ پر رکنے کی استدعا کی جہاں اس خاتون نے پولیس کو فون کر کے بلایا۔

خاتون کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ ’کیا آپ نے کبھی انسان کا گوشت کھایا ہے‘؟

اس سلسلے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس کار کی تلاشی لی اور اس کار سے کسی قسم کی مشکوک شے برآمد نہیں ہوئی بعد ازاں خاتون کو اس کے گھر پہنچا دیا تاہم ڈرائیور کو گرفتار نہیں کیا گیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نژاد نوجوان امریکا میں دھماکے کرنا چاہتا تھا،ایف بی آئی

پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے ابتدائی پس منظر کی جانچ پڑتال کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔

دوسری جانب اوبر حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی کو جیسے ہی واقع کا علم ہوا تو انہوں نے مشتبہ ڈرائیور کی اوبر ایپ تک رسائی پر پابندی عائد کردی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم الزامات کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے پولیس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔