اے باخبر ترین صحافی!

اپ ڈیٹ 01 مئ 2017

ای میل

مزدوری تو مزدوری ہوتی ہے ہاتھ کی ہو یا زبان کی، ذہن کی ہو یا جسم کی۔ یوں مزدوری کا درد اگرچہ labor pain تو نہیوں ہوتا مگر کسی طور اس سے کم بھی نہیں ہوتا۔

مزدوری کی کئی قسمیں ہیں مگر قلم کی مزدوری کا درد نئی زندگی تخلیق کرنے کے درد سے یقیناً ملتا جلتا ہے۔ نئی زندگی تخلیق کرنے کے عمل کا حصہ بن کر ایک عورت ماں کا رتبہ پاتی ہے تو قلم کا 'مزدور' اسٹوری کی تخلیق کے بعد اعلی پائے کا صحافی قرار پاتا ہے۔

اگر یہ پوچھا جائے کہ کیا نئی زندگی تخلیق کرنے کا عمل ٹھیکیداری سے جوڑا جا سکتا ہے تو جواب دینے سے قبل ہی زبان پر کڑواہٹ رقص کرنے لگتی ہے۔ مگر یہی کڑواہٹ اس وقت آئییں بائیں شائیں کے چٹخارے میں بدل جاتی ہے جب قلم کی مزدوری کو ٹھیکیداری کے مقام پر پہنچا دیا جائے۔ کیا آج کا صحافی ان زندوں میں شامل ہے جو قلم کی مزدوری سے اپنی دنیا آپ پیدا کر رہا ہے؟

یہ Haves اور Have Nots کی لڑائی تھی اور وہ قلم کا 'مزدور' تھا، Have Nots کے ساتھ کھڑا، Haves پر تابڑ توڑ مکے برسا رہا تھا کہ اچانک کسی 'کمزور لمحے' میں ایک Have نے اسے اپنی جانب کھینچ لیا، اور اس کا منہ پھیر کر اسے Have Nots کے سامنے کھڑا کر دیا۔

اس کے دیکھنے کا 'اینگل' بدلا تو تھوڑی دیر قبل Have Nots کے ساتھ کھڑے ہو کر Haves کی جانب مکے اچھالنے والے کے دل و دماغ کے حالات بدل گئے، اب وہ Haves کے ساتھ کھڑا، Have Nots پر مکے برسا رہا ہے۔

اپنے مالی حالات بدلیں تو دوسروں کو دیکھنے کا زاویہ نگاہ بھی بدل جاتا ہے۔ 90 کی دہائی تک صحافی کا سرکاری اسکولوں، سرکاری اسپتالوں اور محلے کے نکڑ پر موجود تھڑے ہوٹلوں میں آنا جانا بھی تھا اور Have Nots کے ساتھ رابطہ بھی۔

گزشتہ دس سے پندرہ برسوں میں پبلک ٹرانسپورٹ والا صحافی پہلے موٹر سائیکل اور پھر چھوٹی گاڑی سے ہوتا ہوا بڑی گاڑی تک آن پہنچا ہے۔ بچے اب سرکاری اسکولوں کے بجائے سٹی، بیکن ہاوس، فروبلز، روٹس بلکہ اس سے بھی بڑے 'برانڈڈ اسکولوں' میں پڑھتے ہیں۔

وہ اب سرکاری اسپتال نہیں، مہنگے پرائیویٹ اسپتالوں میں جانے کے قابل ہو چکا ہے۔ تھڑے ہوٹلوں کی دودھ پتی کی جگہ، اب 'چائے خانہ' کی ورائٹی ٹی اور 'گلوریا جینز' کی کافی نے لے لی ہے۔

یوں Have Nots سے Haves کے کیمپ میں پہنچتے ہی ہر "لال" اور "ہرے" صحافی کو "ہری ہری" سوجھ رہی ہے۔ اسے ہر دوسرے Haves کی طرح Have Nots کیڑے مکوڑے اور جاہل مطلق دکھ رہے ہیں۔

اب کوئی بھٹو کا جیالا ہے، کوئی شریف کا متوالا ہے اور کوئی خان کا کھلاڑی، کوئی مولانا کی 'ذہانت' کا قائل ہے تو کوئی بھائی کی 'ظرافت' کا۔ کسی کو ولی کی 'حکمت' لبھاتی ہے اور کسی کو اچکزئی کی 'تقریر' بہلاتی ہے۔

بس نہیں بچا تو عوام کا صحافی۔

وہ ماننے کو تیار نہیں کہ 90 کی دہائی میں خط غربت سے نیچے ایڑیاں رگڑنے والے 25 فیصد اب 50 فیصد ہوچکے۔ اپنی 'حالتِ زار' بدلنے سے اس کے دیکھنے کا اینگل بدل چکا، یوں وہ سمجھ رہا ہے کہ پاکستان میں عوام کی حالت بھی بدل چکی ہے۔

کسی کمزور لمحے، Have Nots کے کیمپ سے Haves کے کیمپ پہنچ جانے والے 'باخبر' صحافی! ایک دن، صرف ایک دن اپنی گاڑی گیراج میں بند کر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر تو تجھے پتہ چلے کہ اندرون پنجاب کے کسی 'تنگ محلے' میں تایا شریفے کی بیٹی مریم کے بالوں میں کب کی چاندی اتر چکی۔

لاڑکانہ کے گاؤں گڑھی خدا بخش میں ایک بانس کی جھونپڑی میں رہنے والے ماما آصف کا بیٹا بلاول ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے بے روزگاری کی چکی میں پس رہا ہے۔

اسلام آباد کے مضافات کی کسی کچی بستی میں ایک خان صاحب کے بیٹوں قاسم اور سلمان کو سرکاری اسکول میں داخلہ نہیں مل رہا۔ اندرونِ نوشہرہ میں لالہ ولی، اندرون ڈیرہ میں مولوی فضل، اندرون کراچی میں بھائی الطاف اور اندرون کوئٹہ میں بابا اچکزئی کے گھر والے دو مرلے کے کرائے کے گھروں میں دوا دارو کو بھی ترس رہے ہیں۔