ای میل

ہم 'جنڈی' کے کاریگر ہیں

اختر حفیظ

سندھ میں جہاں صدیوں پرانی دستکاری کی گونا گوں مثالیں پائی جاتی ہیں، وہاں جنڈی کا کام ایک الگ انفرادیت کا حامل ہے۔ اس میں لکڑی کو بڑی مہارت و نفاست کے ساتھ رنگین نقوش سے آراستہ کر کے دلکش روپ دے کر تیار کیا جاتا ہے۔ کاریگروں کے ان شاہکارنمونوں کو دیکھ کر ان ہاتھوں کو خراج پیش کرنے کو دل کرتا جو صدیوں سے اس ہنر کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

جنڈی لفظ جنڈ سے اخذ کیا گیا ہے، جس کی معنی چکر لگانا یا گھومنے والے سے ہیں۔ جنڈ سندھی میں ہاتھ سے چلنے والی چکی کو کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اس کام میں لکڑی کو تراش خراش کر گھما کر پھر مخلتف چیزیں بنائی جاتی ہیں، اس لیے اس ہنر کو جنڈی کا ہنر کہا جاتا ہے۔ جنڈی سے بننے والی چیزوں میں لکڑی سے جھولے، چارپایاں، موڑے، ڈریسنگ ٹیبل اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ ان پر ہاتھ سے نقش و نگار بنائے جاتے ہیں، رنگوں کے حسین امتزاج اور پھولوں کے نقوش بنا کر یہ کاریگر اپنے فن کے عمدہ نمونوں کو مارکیٹ میں بھیج دیتے ہیں۔

جنڈی کا کاریگر—اختر حفیظ
جنڈی کا کاریگر—اختر حفیظ

jجنڈی کے جھولے، فرنیچر، چارپائی اور دیگر سامان علاقے میں کافی مقبول عام ہے —تصویر اختر حفیظ
jجنڈی کے جھولے، فرنیچر، چارپائی اور دیگر سامان علاقے میں کافی مقبول عام ہے —تصویر اختر حفیظ

جنڈی کا ایک کم عمر کاریگر— تصویر اختر حفیظ
جنڈی کا ایک کم عمر کاریگر— تصویر اختر حفیظ

جنڈی پر بنا ہوا جھولا— تصویر اختر حفیظ
جنڈی پر بنا ہوا جھولا— تصویر اختر حفیظ

یہ کام آسان ہر گز نہیں بلکہ یہ ان ہاتھوں کی محنت اور تکلیف کا نتیجہ ہوتا ہے جو لکڑی کو رنگ چڑھا کر بے رنگ لکڑی کو خوبصورتی بخشتے ہیں۔اس کام میں کئی مراحل ہیں۔ جنڈی کا کام کرنے والے کاریگر کو وگھامل کہا جاتا ہے، جبکہ یہ لکڑی کا کام کرنے والے لوگوں کا قبیلہ بھی کہلاتا ہے۔ سندھ میں جنڈی کا کام ہالا، کھانوٹھ اور بھٹ شاہ میں کیا جاتا ہے۔

“ہم نے خود کو ٹھیکیداروں کے ہاں گروی رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ہاتھ جکڑے ہوئے ہیں”۔ یہ وہ پہلا جملہ تھا جو میرے کانوں تک پہنچا جو جنڈی کے کاریگر غلام عباس نے کہا تھا۔ میں نے ابھی اس سے بات چلی ہی تھی کہ وہ تو اپنی داستان سنانے لگ گئے۔

بھٹ شاہ میں قائم جنڈی کی ورکشاپ ان کاریگروں سے بھری ہوئی، جہاں پر بکھری لکڑیاں، آرا مشین، لکڑیوں کے چھلکے، آنکھوں کو موہ لینے والے رنگ اور رنگیں لکڑیوں پر نقش و نگار بنانے والے مزدور اپنے کام میں مصروف عمل تھے۔ اس کام کے لیے قدیم طریقے کو ہی استعمال کیا جاتا ہے، زیادہ تر اس کام کے لیے ہاتھوں کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی بھی مشین کے ذریعے جنڈی کا کام نہیں کیا جاتا، بلکہ جنڈی کا کام تحمل طلب ہے، کیونکہ جتنا آرام سے یہ کام کیا جائے گا اتنے ہی شاندار نتائج ملیں گے۔

آرا مشین سے مختلف حصوں میں کٹ کر لکڑیوں کے یہ ٹکڑے اس کاریگر تک پہنچتے ہیں جو انہیں چھیل کر لکڑیوں کا کھردرا پن ختم کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ان لکڑیوں کو ایک خاص صورت دی جاتی ہے۔ اس کام کے لیے زیادہ تر شیشم کی لکڑی استعمال کی جاتی ہے۔ اس وقت بھٹ شاہ کی ورکشاپ میں زیادہ سے زیادہ چار پایاں اور جھولے بنائے جاتے ہیں، جن کی تیاری میں خاصا وقت لگ جاتا ہے۔

جنڈی کے کام کا آغاز آرا مشین کے مرحلے سے ہوتا ہے — تصویر اختر حفیظ
جنڈی کے کام کا آغاز آرا مشین کے مرحلے سے ہوتا ہے — تصویر اختر حفیظ

ایک مزدور جنڈی کے لیے لکڑیوں کو شکل دے رہا ہے — تصویر اختر حفیظ
ایک مزدور جنڈی کے لیے لکڑیوں کو شکل دے رہا ہے — تصویر اختر حفیظ

ایک کاریگر جنڈی پر لکڑی کو لگا رہا ہے — تصویر اختر حفیظ
ایک کاریگر جنڈی پر لکڑی کو لگا رہا ہے — تصویر اختر حفیظ

جنڈی کا کاریگر لکڑی پر نقوش بنا رہا ہے — تصویر اختر حفیظ
جنڈی کا کاریگر لکڑی پر نقوش بنا رہا ہے — تصویر اختر حفیظ

صرف چار پائی کے پائے تیار کرنے میں 5 سے 6 دن کا وقت لگ جاتا ہے۔ جنڈی کی چیزیں بنانے کے لیے جو سب سے زیادہ ضروری چیز رنگ اور لاکھ ہوتے ہیں۔ لاکھ ببول کے پیڑ سے پیدا ہوتی ہے۔ جسے رنگوں کو تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے بنا جنڈی کے کام میں استعمال ہونے والے رنگ کسی بھی طرح ٹک نہیں سکتے اور نہ ہی پائیدار بن سکتے ہیں، لہٰذا یہ جنڈی کا ایک اہم ترین جز ہے۔

کسی زمانے میں جنڈی کے ہنر میں چھوٹے چھوٹے بکسے بنانے کا کام کافی زیادہ کیا جاتا تھا، جو کہ ایک دوسرے کے اندر رکھے جاتے تھے۔ انہیں “گنج” کہا جاتا تھا۔ ان پر سرخ، پیلا، نیلا اور سبز رنگ کیا جاتا تھا۔

چارپائی بنانے کے لیے سب سے پہلے چارپائی کے پائے تیار کیے جاتے ہیں، انہیں ایک کچا رنگ دے کر پھر پکے رنگ دیے جاتے ہیں۔ یہ عمل بھی کافی مشکل ہے کیونکہ رنگوں کو برقرار رکھنے کے لیے آگ کے شعلوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ ایک خاص سانچے میں فٹ کرنے کے بعد اس پائے کو لاکھ کے ساتھ رنگنا شروع کیا جاتا ہے اور اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ آگ کے شعلوں سے رنگوں کو گرمائش ملتی رہے تاکہ یہ رنگ پکے ہوتے رہیں اور بکھرنے سے محفوظ رہیں۔ ان رنگوں میں ایک ہی وقت میں مختلف رنگوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ سرخ، جامنی اور دیگر میں سے جو بھی درکار ہو وہ لکڑی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔

جنڈی کے کام میں استعمال ہونے والا لاکھ— تصویر اختر حفیظ
جنڈی کے کام میں استعمال ہونے والا لاکھ— تصویر اختر حفیظ

جنڈی پر ہونے والی رنگائی، تصویر میں شعلوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے — تصویر اختر حفیظ
جنڈی پر ہونے والی رنگائی، تصویر میں شعلوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے — تصویر اختر حفیظ

جنڈی پر ہونے والی رنگائی، تصویر میں شعلوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے — تصویر اختر حفیظ
جنڈی پر ہونے والی رنگائی، تصویر میں شعلوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے — تصویر اختر حفیظ

جنڈی پر مختلف رنگ چڑھائے جاتے ہیں — تصویر اختر حفیظ
جنڈی پر مختلف رنگ چڑھائے جاتے ہیں — تصویر اختر حفیظ

جنڈی کے کام کو تین اہم مرحلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، پہلے مرحلے میں جنڈی کا سادہ سا کام کیا جاتا ہے۔ جس میں مختلف رنگوں سے رنگے ہوئے رول کی مدد سے جنڈی سے گھڑی ہوئی لکڑی کی مدد سے سیدھی لیکیریں مختلف رنگوں سے کھینچ کر کمانی کی مدد سے گھما کر رنگائی کی جاتی ہے۔ یہ لکیریں مختلف رنگوں کے امتزاج سے دیدہ زیب ڈیزائن بن جاتے ہیں۔

ایک بار رنگ جانے کے بعد لکڑیاں ان کاریگروں کے ہاتھوں میں آ جاتی ہیں جو ان پر نقش و نگار بناتے ہیں۔ یہ نقش و نگار ایک مخصوص اوزار سے تیار کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی صفائی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ پھر ان لکڑیوں کو ترتیب میں جوڑ کر جھولے یا چارپائی کی صورت دی جاتی ہے۔

مگرلکڑیوں کو رنگنے والوں کے ہاتھوں میں غریبی کے داغ واضح نظر آتے ہیں، وہ ایک ورکشاپ میں کام بھی کر رہے ہیں، یہی ان کا ایک ٹھکانہ بھی ہے مگر انہیں نہ تو بہتر اجرت ملتی ہے اور نہ ہی دیگر سہولیات۔

جنڈی کا کاریگر— تصویر اختر حفیظ
جنڈی کا کاریگر— تصویر اختر حفیظ

جنڈی کا کاریگر لکڑی پر نقوش بنا رہا ہے — تصویر اختر حفیظ
جنڈی کا کاریگر لکڑی پر نقوش بنا رہا ہے — تصویر اختر حفیظ

جنڈی کاریگر لکڑی کے گول ٹکڑے کو گھماتے رہتے ہیں — تصویر اختر حفیظ
جنڈی کاریگر لکڑی کے گول ٹکڑے کو گھماتے رہتے ہیں — تصویر اختر حفیظ

جنڈی کے کاریگروں کی اپنی زندگی مایوسیوں سے بھری ہوئی ہے — تصویر اختر حفیظ
جنڈی کے کاریگروں کی اپنی زندگی مایوسیوں سے بھری ہوئی ہے — تصویر اختر حفیظ

غلام عباس کی عمر کا کافی حصہ اس کام کو کرتے کرتے گزر گیا مگر آج بھی اسے یہی شکایت ہے کہ جنڈی کے کام سے ان کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

“میرے ہاتھوں نے کئی چیزیں بنائی ہیں مگر پھر بھی میرے لیے یہ کام زندگی کے سکھ نہیں لایا۔ یہ ورکشاپ جو کہ ہمیں حکومت نے دی ہے مگر اس میں سہولیات نہیں ہیں، آپ اس کی چھت کو دیکھیں”۔ وہ مجھے ورکشاپ کی چھت دکھانے لگا جس میں چھید ہی چھید تھے۔

“تو کیا آپ نے یہ شکایت نہیں کی ہے کہ آپ کو یہاں پر کون کون سے مسائل کا سامنا ہے”۔ میں نے کہا

“ہماری شکایت سننے والا کوئی بھی نہیں ہے یہاں، ہم سے رابطے میں رہنے والے ٹھیکیدار ہیں، جنہیں صرف اپنے آرڈر پر تیار کیا جانے والا مال چاہیے، ہم ان سے شکایت کرتے ہیں تو وہ ہم سے مال کی تیاری کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ ہم سے ایک چارپائی پندرہ سو میں لی جاتی ہے مگر مارکیٹ میں اسے پانچ ہزار میں بیچا جاتا ہے”۔

جنڈی کے کاریگروں کے لیے بنائی گئی ورکشاپ— تصویر اختر حفیظ
جنڈی کے کاریگروں کے لیے بنائی گئی ورکشاپ— تصویر اختر حفیظ

جنڈی کے کام میں استعمال ہونے والے رنگ — تصویر اختر حفیظ
جنڈی کے کام میں استعمال ہونے والے رنگ — تصویر اختر حفیظ

جنڈی کا رنگ پکا رکھنے والا مصالحہ — تصویر اختر حفیظ
جنڈی کا رنگ پکا رکھنے والا مصالحہ — تصویر اختر حفیظ

جنڈی کے کام کا ایک نمونہ — تصویر اختر حفیظ
جنڈی کے کام کا ایک نمونہ — تصویر اختر حفیظ

غلام عباس کی بات سن کر مجھے یہی لگا کہ آج بھی مزدورں کے استحصال کا عمل ہر جگہ جاری ہے۔ وہ ہنر مند ہاتھ جو اتنی نفاست سے کام کرتے ہیں، انہیں اتنی بھی اجرت میسر نہیں ہے کہ وہ بہتر زندگی گزار سکیں۔

غلام عباس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک کوآپریٹو سوسائٹی بھی رجسٹرڈ کرا رکھی ہے، جوکہ یہاں کام کرنے والے کاریگروں کی ہے مگر وہ غیر فعال ہے اس لیے ان کے حقوق کے لیے کوئی بھی آواز اٹھانے والا نہیں، لہٰذا آج بھی وہ ایک ایسے ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کر رہے ہیں، جہاں وہ صبح سے شام تک اپنا پیسنہ بہاتے ہیں مگر اس ہہتے پسینے کی قدر ان ٹھیکیداروں کو نہیں جنہوں نے انہیں چند پیسوں کی عیوض جکڑ رکھا ہے۔

ٹھیکیداری نظام میں کوئی بھی مزدور اپنے کام کا مالک نہیں ہوتا، بلکہ اس کی ساری کمائی ٹھیکیدار کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، نہ تو وہ اپنی مرضی سے یہ کام کرکے اپنے مالی حالات بہتر کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اتنی آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزوں کو مارکیٹ میں خود بیچ سکیں۔ اس لیے ان کے حالات آج بھی وہی ہیں جو ان سے قبل کام کرنے والے کاریگروں کے تھے۔

اس نظام کے تحت یہ تمام کاریگر برسوں سے اپنے ہاتھوں اور جسم کو تکلیف دے کر اپنے فن کو تو زندہ رکھے ہوئے ہیں مگر ان کے لیے ٹھیکیداری نظام کسی عذاب سے کم نہیں۔ یہاں کام کرنے کے لیے مخصوص اوقات بھی مقرر نہیں ہیں بلکہ جب تک روز کا دیا ہوا کام ختم نہیں ہوتا تب تک یہ کاریگر گھر نہیں جاسکتے۔ ایسی حالت میں اگر کوئی ان سے زیادہ خوشحال ہو رہا ہے تو بس وہ ٹھیکیدار ہی ہیں، جنہوں نے ان کے پاؤں میں دہاڑی کی وہ بیڑیاں ڈالی ہوئی ہیں کہ جنہیں یہ کاریگر خود نہیں توڑ سکتے ہیں۔

جنڈی کا کام ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا رہتا ہے — تصویر اختر حفیظ
جنڈی کا کام ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا رہتا ہے — تصویر اختر حفیظ

جنڈی پر تیار ہونے والا فرنیچر کے مختلف حصوں کو ملا کر مختلف اقسام کا فرنیچر تیار کیا جاتا ہے — تصویر اختر حفیظ
جنڈی پر تیار ہونے والا فرنیچر کے مختلف حصوں کو ملا کر مختلف اقسام کا فرنیچر تیار کیا جاتا ہے — تصویر اختر حفیظ

یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ان مزدوروں کو غلام رکھنے کے مترادف بھی ہے۔ اس نظام کے تحت وہ دہائیوں تک بھی کام کرتے رہیں تب بھی ان کے شب و روز نہیں بدلیں گے اور نہ ہی یہ لوگ آنے والے وقت میں خود کو بہتر حالت میں دیکھ پائیں گے۔

“ہمارا کام پورے ملک میں مشہور ہے مگر اس کام کا سب سے زیادہ نفع ان تاجروں کا ملتا ہے جو ہم سے یہ تمام چیزیں کم داموں پر خرید کرتے ہیں، ہمارے پاس اتنے وسائل بھی نہیں ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے اس کام کو جاری رکھ سکیں”۔ وہ پھر سے بول اٹھے۔

جمیل جونیجو انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور پاکستان فشر فوک فورم ( پی ایف ایف) میں کام کر رہے ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ “یہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے کہ بلکہ ایک جبری مشقت کی بھی ایک صورت ہے، جس میں ایک کاریگر یا مزدور کی مزدوری کا سارا دار و مدار ٹھیکیداروں پہ ہوتا ہے۔ وہ انہیں سامان خرید کر دیتے ہیں مگر یہ محنت کرنے والا مزدور ٹھیکیدار کے سود کے پیسے تک ادا نہیں کر پاتا۔ آج کے زمانے مٰیں بھی ہمارے ہاں ٹھیکیداری نظام کے تحت ان مزدوروں کو جکڑ کر رکھا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ مزدوروں کے حقوق (لیبر رائیٹس) کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اصولی طور پہ ان کے لیے ایسے لنکس بنانے چاہئیں کہ ٹھیکیدار کا بیچ میں کوئی عمل دخل نہ ہو۔ اس نظام سے انہیں روزگار کا مسئلہ ہوتا ہے۔ وہ بہتر طور پر زندگی نہیں گزار سکتے ہیں۔

اس حوالے سے حکومتی سطح پر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے لیے دیہی اور شہری سطح پر فیسٹیول کروائے جائیں انہیں اوپن مارکیٹ فراہم کی جائے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے کام سے فائدہ اٹھا سکیں۔ کیونکہ ان کی مالی حالت میں آج تک کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس لیے انہیں اپنے کام کا مالک خود بنانے لیے اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت ہے۔”

جنڈی کا کام سندھ ایک ایسا ہنر ہے، جو کہ یہاں کے چند شہروں کی پہچان بن چکا ہے اور یہ سندھ کی ثقافت کی بھی علامت ہے، مگر کیا ان کاریگروں کا اتنا حق نہیں بنتا کہ وہ جس کام کو دہائیوں سے کرتے آ رہے ہیں، اس کام کے مالک بھی وہ ہوں۔ لیکن جس طرح سے اس ان ہنرمندوں کو ٹھیکیداری نظام کے ذریعے غلام بنایا گیا ہے، اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ آنے وقتوں میں اس کام کو مزید کر نہیں پائیں گے۔

شاید تب موجودہ دور میں بننے والی لکڑی کی اتنی خوبصورت اشیاء بھی ہمیں کم دیکھنے کو ملیں۔ اس لیے غلام عباس جیسے کاریگروں کی شکایت کو سننے کی ضرورت ہے اور انہیں اس کام کو زندہ رکھنے کے وہ تمام تر سہولیات ملنی چاہییں جو ان کا حق ہے۔


اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں، اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر ریے ہیں۔ ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔