اعظم طارق قتل کیس، تحقیقات کمیٹی کی کارروائی کا آغاز

اپ ڈیٹ 16 مئ 2017

ای میل

اسلام آباد: کالعدم سپاہِ صحابہ (موجودہ اہلِ سنت والجماعت) کے سربراہ مولانا اعظم طارق قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنے پہلے اجلاس میں کیس کی اب تک کی تفتیش پر غور کیا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) انویسٹیگیشن حسن اقبال کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) صدر، سی آئی ڈی انسپیکٹر، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) گولڑہ اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کا نمائندہ شامل ہے۔

اجلاس کے دوران جے آئی ٹی نے قتل کے مرکزی ملزم سبطین کاظمی سے بھی پوچھ گچھ کی.

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کالعدم سپاہِ صحابہ (موجودہ اہلِ سنت والجماعت) کے سربراہ مولانا اعظم طارق کے قتل کیس کے مرکزی ملزم سبطین کاظمی کو بیرون ملک فرار ہوتے ہوئے اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا۔

جے آئی ٹی حکام کا کہنا تھا کہ ملزم سبطین کاظمی کا چالان مکمل کرکے رواں ہفتے عدالت میں پیش کردیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد: مولانا اعظم طارق قتل کیس کا مرکزی ملزم گرفتار

جے آئی ٹی کے پہلے اجلاس میں مقدمے کی اب تک کی تفتیش کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں سابقہ جے آئی ٹی کے ممبران، ڈی ایس پی، سی آئی اے اور سابق ایس ایچ او محبوب احمد بھی شریک تھے۔

بعد ازاں تفتیش مکمل ہونے پر سبطین کاظمی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

یاد رہے کہ مولانا اعظم طارق کو 6 اکتوبر 2003 کو اسلام آباد میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

مولانا اعظم طارق کے قتل کی ایف آئی آر ان کے بھائی کی مدعیت میں اسلام آباد کے گولڑہ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔

ایف آئی آر میں سبطین کاظمی کو مرکزی ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

حکومت نے ان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام بھی مقرر کر رکھا تھا۔

1990 کی دہائی میں حق نواز جھنگوی کے قتل کے بعد اعظم طارق سپاہِ صحابہ (موجود اہل سنت والجماعت) کے سربراہ بن گئے تھے، 1993 کے انتخابات میں وہ جھنگ کے حلقہ این اے 68 سے 55,004 ووٹ لے کر فتح یاب ہوئے، تاہم 1997 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے ہاتھوں یہ نشست کھو بیٹھے۔

2002 کے انتخابات میں جھنگ کے حلقہ این اے 89 کی نشست جیت کر اعظم طارق ایک بار پھر قومی اسمبلی میں لوٹ آئے۔ انہوں نے طاہر القادری کو شکست دی تھی۔

تاہم ایک سال بعد ہی مولانا اعظم طارق کو قتل کر دیا گیا۔