وادی ہنزہ کے آخری گھڑ سوار

اپ ڈیٹ 18 مئ 2017

Email


ہنزہ: پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں تیزی سے روایتی کھیل اور ثقافتیں دم توڑتی جارہی ہیں جس میں ایک بزکشی کا کھیل بھی شامل ہے جس کے اب پاکستان میں بس دو درجن کھلاڑی ہی رہ گئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق قدیم بزکشی کا یہ کھیل برف سے ڈھکی چوٹیوں میں گھرے پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ میں کھیلا جاتا ہے۔

— فوٹو اے ایف پی
— فوٹو اے ایف پی

گھوڑے پر سوار ہوکر کھیلا جانے والا یہ کھیل پہلے اس علاقے میں بہادری کی ایک آزمائش کے طور پر کھیلا جاتا تھا جو اب اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔

گہری مونچھوں والے 52 سالہ بزرگ اس تقریبا 2000 افراد پر مشتمل علاقے میں بزکشی کے کھیل کے دو درجن کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔

مزید پڑھیں: ایک بار پھر ہنزہ چلیں

بزکشی سے کھلاڑیوں کی گھڑ سواری کی مہارت اور بہادری کا مظاہرہ ہوتا ہے اس کے علاوہ اس میں انعامات اور انعامی رقوم بھی دی جاتی ہیں۔

— فوٹو اے ایف پی
— فوٹو اے ایف پی

بخش دل خان نے اس کھیل میں 4 ہزار روپے کے انعام کے علاوہ تین سگریٹ کے ڈبے اور ایک موبائل فون جیتا جس کے بعد بخش دل خان نے کہا کہ میں تو سگریٹ نوشی بھی نہیں کرتا لیکن پھر بھی میں نے ان تین سگریٹ کے ڈبوں کے لیے اپنی گردن کو تقریبا توڑ ہی ڈالا تھا۔

بخش دل خان نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھیل پاکستان میں اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے جس کے بس ایک آدھ درجن ہی کھلاڑی باقی رہ گئے ہیں۔

انہوں نے نوجوان نسل سے شکواہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل اس کھیل میں دلچسپی نہیں لیتی بس ہم چند ہی کھلاڑی یہاں باقی رہ گئے ہیں جبکہ اس کے بر عکس افغانستان اور وسطی ایشیا میں یہ کھیل اب بھی متحرک ہے۔

— فوٹو اے ایف پی
— فوٹو اے ایف پی

یہ بھی پڑھیں: شندور سے کالاش: کشور حسین شاد باد

اس کھیل کے ایک اور کھلاڑی تاج محمد نے کہا کہ اب تو علاقے میں گھوڑوں کی تلاش بھی ایک چیلنج ہوسکتا ہے کیونکہ لوگوں نے جدید آرام دہ سواریاں خریدنے کے لیے اپنے ان گھوڑوں کو فروخت کردیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بزکشی اب ماضی کا ایک حصہ اور ہمارے بچوں کے لیے ایک کہانی ہے۔

ایک ماہر عمرانیات عزیز علی داد نے کہا کہ اس کھیل کی تنزلی پاکستان کے وسطی ایشیا کے ساتھ ختم ہوتے ثقافتی تعلقات کی دلیل ہے جہاں یہ کھیل وجود میں آیا تھا۔

— فوٹو اے ایف پی
— فوٹو اے ایف پی

اس کھیل میں مناسب اقدامات ہنزہ کی واخی قوم کے لیے عرصہ دراز سے اہم رہے ہیں اور یہ قوم افغانستان، تاجکستان اور چین کے علاقے سنکیانگ میں بھی بستی ہے۔

تاہم عزیز علی داد کہتے ہیں کہ موجودہ دور میں ان مختلف علاقوں کے افراد میں عدم تعاون کی وجہ سے بزکشی آج پاکستان میں تباہی کے دہانے پر ہے۔

— فوٹو اے ایف پی
— فوٹو اے ایف پی

تاہم بخش دل خان نے اس کھیل کو زندہ رکھنے اور گھڑ سواری کرنے کے عزم اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں اس علاقے میں بطور آخری کھلاڑی بھی باقی رہ گیا تب بھی میں اس کھیل کو کھیلنا جاری رکھوں گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کھیل کم از کم میری زندگی کے اختتام تک باقی رہنا چاہیئے۔