یورپی یونین نے 2014 میں واٹس ایپ کو خریدنے کے دوران گمراہ کن معلومات فراہم کرنے پر فیس بک پر 9 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا۔

برطانیہ کے ایک معروف اخبار دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک نے 2014 میں یورپی کمیشن کو بتایا تھا کہ واٹس ایپ کی سروس کو خریدنے پر دونوں سروسز کے صارفین کے اکاؤنٹ لنک نہیں ہوسکیں گے تاہم بعد میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: اب فیس بک اسٹوریز کا فیچر بھی متعارف

کمیشن کو جب یہ معلوم ہوا کہ فیس بک کو 2014 میں اس بات کا علم تھا کہ واٹس ایپ اور فیس بک کے صارفین کی پروفائل کا لنک ہوجانا ممکن ہے لیکن پھر بھی فیس بک نے واٹس ایپ کو خریدتے وقت متضاد بیانات دیئے تھے، جس کے بعد ہی کمیشن نے جرمانہ عائد کیا۔

تاہم فیس بک کی جانب سے سامنے آنے والے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان بیانات میں ہونے والی غلطی ارادی طور پر نہیں تھی جبکہ کمیشن نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا تھا کہ یہ بیانات انضمامی انکوائری کے نتائج پر اثر انداز نہیں ہوئے۔

دوسری جانب کمیشن نے واضح کیا ہے کہ فیس بک پر عائد کیا جانے والا جرمانہ دونوں سروسز کے انضمام پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک میں نئی تبدیلی کیا ہے؟

یورپی یونین کمپٹیشن کمشنر مارگریتھی ویستاگر نے کہا کہ آج کا آنے والا فیصلہ تمام کمپنیوں کو واضح پیغام ہے کہ وہ یورپی یونین کے انضمام کے قوانین کی تمام پہلوؤں کے ساتھ تعمیل کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کمیشن فیس بک پر ایک متناسب اور حوصلہ شکن جرمانہ عائد کرتا ہے جبکہ کمیشن کو حقائق کی مکمل معلومات کے تحت ان کمپنیوں کے انضمام کے اثرات کے بارے میں فیصلہ لینے کے قابل ہونا ضروری ہے۔