فیصلے کے بعد سامنے آنے والی جولین اسانج کی تصویر —  فوٹو: جولین اسانج ٹوئٹر اکاؤنٹ
فیصلے کے بعد سامنے آنے والی جولین اسانج کی تصویر — فوٹو: جولین اسانج ٹوئٹر اکاؤنٹ

سویڈش پراسیکیوٹرز نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے خلاف جاری ریپ کیس کی تحقیقات سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا، جس پر جولین اسانج کے وکلاء کا ماننا ہے کہ اس سے جولین کی اخلاقی فتح ہوئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جولین اسانج 2012 سے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں مقیم ہیں، تاہم برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ جولین اسانج کو اب بھی گرفتار کیا جائے گا کیونکہ انہوں نے 2012 میں جاری ہونے والے وارنٹ پر گرفتاری نہ دے کر اپنی ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی تھی۔

برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس کا کہنا ہے کہ اس جرم کی سزا ایک سال تک قید یا پھر جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ جمعہ کو سویڈن میں موجود سرکاری پراسیکیوٹر کو ڈیڈ لائن دی گئی تھی کہ یا تو جولین اسانج کے خلاف جاری ہونے والے اس کل یورپی وارنٹ گرفتاری کی تجدید کریں یا پھر اس وارنٹ کو ختم کریں۔

مزید پڑھیں: 'آسانج پھیپھڑوں کی تکلیف میں مبتلا'

پراسیکیوٹر آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ڈائریکٹر پبلک پراسیکیوشن ماریانے نئے نے آج جولین اسانج کے خلاف ہونے والی مبینہ ریپ کیس کی تحقیقات کو ختم کرنے کا اعلان کردیا، جس کے کچھ دیر بعد ہی جولین اسانج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ایک تصویر شائع کی جس میں وہ مسکراتے ہوئے دکھائی دیئے۔

اس موقع پر جولین اسانج کی قانونی ٹیم کے ایک وکیل پار سموئلسن نے سویڈش ریڈیو کو بتایا کہ یہ فیصلہ ان کے موکل کی اخلاقی فتح ہے جس سے جولین اسانج یقیناَ خوش اور مطمئن ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’وکی لیکس کو حساس ڈیٹا دینے والے فوجی کی سزا معاف‘

سموئلسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مطلب ہے کہ اب جولین اسانج کسی بھی وقت ایکواڈور سفارتخانے کو چھوڑنے کے لیے آزاد ہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اسانج کس وقت سفارتخانہ چھوڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اب بس اتنا جانتا ہوں کہ سویڈن، جولین اسانج کو سفارتخانہ چھوڑنے سے روک نہیں سکتا، سویڈن اب اس کھیل سے باہر ہوگیا ہے۔‘

جولین اسانج کے ایک اور وکیل کرسٹوفی مارچنڈ نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ہم اس فیصلے کا کافی عرصے سے انتظا کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جولین اسانج اس بدسلوک عمل کا شکار رہے ہیں تاہم ہم اس فیصلے سے خوش ہیں اور یہ فیصلہ تمام ڈراؤنے خوابوں کے اختتام کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں: وکی لیکس کو راز فراہم کرنے کا اعتراف

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ جولین اسانج نے ہمیشہ اپنے اوپر لگائے جانے والے ریپ کے الزامات کو مسترد کیا ہے کیونکہ انہیں اس بات کا خدشہ تھا کہ ان کو حراست میں لیے جانے کے بعد امریکا کے حوالے کیا جاسکتا ہے اور ان پر لاکھوں امریکی فوجی اور سفارتی دستاویزات کو لیک کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔