جان کوم — رائٹرز فائل فوٹو
جان کوم — رائٹرز فائل فوٹو

بہت کم افراد ایسے ہوں گے جنھیں فیس بک کی حیران کامیابی سے اتنا فائدہ ہوا جتنا واٹس ایپ کے شریک بانی جان کوم کو ہوا۔

مگر اب ساڑھے نو ارب ڈالرز (لگ بھگ دس کھرب پاکستانی روپے) کے مالک 41 سالہ جان کوم جو ٹیکنالوجی کی دنیا کے چند امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں، کے لیے عروج کا حصول آسان نہیں تھا۔

یہ کھرب پتی شخص جس نے اپنے اثاثے واٹس ایپ جیسی مقبول ترین میسجنگ ایپ فیس بک کو فروخت کرکے بنائے، 1976 میں یوکرائن میں ایک انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔

ان کا گھر میں پانی اور بجلی کی سہولیات میسر نہیں تھی اور ان کے اپنے الفاظ میں ' ہمارے اسکول تک میں واش روم نہیں تھا، تصور کریں یوکرائن کے موسم سرما کا جب درجہ حرارت منفی 20 ڈگری تک گرجاتا اور ننھے بچوں کو پارکنگ لاٹ کو کھلے آسمان تلے واش روم کے طور پر استعمال کرنا پڑتا، یوکرائنی معاشرہ انتہائی گھٹا ہوا تھا اور وہاں زندگی آسان نہیں تھی'۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جب جان کوم 16 سال کے ہوئے تو وہ اور ان کی والدہ امریکا چلے آئے جہاں انہوں نے کیلیفورنیا میں ماﺅنٹین ویو کے علاقے میں ایک چھوٹے اپارٹمنٹ میں رہائش اختیار کی، اس زمانے میں انہیں گزر بسر کے لیے حکومتی فلاحی اداروں سے امداد لینا پڑی۔

غربت اور دیگر مشکلات کے باوجود تعلیم کے حصول کے دوران جان کوم نے خود کمپیوٹرز کے بارے میں جانا جس کے لیے انہوں نے ایک مقامی دکان سے کمپیوٹر گائیڈز لیں اور پڑھنے کے بعد انہیں واپس بھی کیا۔

جان کوم خود کو تعلیمی میدان کے حوالے سے اچھا طالبعلم تصور نہیں کرتے تھے مگر پھر بھی سان جوز اسٹیٹ یونیورسٹی مین داخلہ مل گیا اور ایک کمپنی ارنسٹ میں سیکیورٹی ٹیسٹر کے طور پر کام کرنے لگے، وہیں ان کی ملازمت یاہو کے ایک ابتدائی ملازم برائن ایکٹن سے ہوئی اور وہ انہیں اپنے ادارے میں سیکیورٹی ٹیسٹر کے طور پر لے گئے۔

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

نو سال تک جان کوم یاہو میں کام کرتے رہے اور انفراسٹرکچر انجنیئرنگ کے شعبے کے منیجر بن گئے مگر 2007 میں وہ اور برائن ایکٹن کمپنی چھوڑ کر چلے گئے اور دونوں نے فیس بک میں ملازمت کے حصول کی کوشش کی مگر انہیں مسترد کردیا گیا۔

مزید پڑھیں : ‘فیس بک کا انکار جس شخص کو ارب پتی بناگیا'

دونوں دوستوں نے ہمت نہیں ہاری اور اسی زمانے میں جان کوم کے ذہن میں خیال آیا کہ لوگوں کو اپنے فونز میں اسٹیٹس اپ ڈیٹ کا فیچر دیا جائے اور انہوں نے اپنی سالگرہ کے دن 24 فروری 2009 کو واٹس ایپ کی بنیاد رکھی اور چند مہینوں میں اسے میسجنگ ایپ کی شکل دے دی۔

جان ایکٹن — رائٹرز فائل فوٹو
جان ایکٹن — رائٹرز فائل فوٹو

دلچسپ بات یہ واٹس ایپ کا پہلا 'دفتر' ایک گودام کے احاطے میں قائم کیا گیا جہاں کام کرنے والوں کو کمبل اوڑھ کر بیٹھنا پڑتا تھا تاکہ خود کو گرم رکھ سکیں۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

واٹس ایپ کے دونوں بانیوں کا یہ فلسفہ تھا کہ اشتہارات کسی صورت ایپ کا حصہ نہیں بننے چاہئے۔

جان کوم کے مطابق 'ہم اپنے صارفین کے بارے میں کم سے کم جاننا چاہتے تھے، ہمیں اشتہارات کی کوئی پروا نہیں تھی اور ہمیں ذاتی ڈیٹابیس کی بھی ضرورت نہیں تھی'۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

پبلسٹی یا مارکیٹنگ کیے بغیر بھی واٹس ایپ بہت تیزی سے مقبول ہوئی خاص طور پر ان ترقی پذیر ممالک میں جہاں ایس ایم ایس پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا تھا اور 2012 میں یہ ایپ فیس بک کی توجہ کا مرکز بنی۔

یہ بھی پڑھیں : 12 آئیڈیاز جن کے مالک ارب پتی بن گئے

2 سال تک بات چیت کے بعد فروری 2014 کو جان کوم نے اپنی ایپ مارک زکربرگ کو فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کردی اور اس کی قیمت 19 ارب ڈالرز قرار پائی۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

اس معاہدے کے حتمی دستاویزات کے لیے جان کوم نے اس ویلفیئر آفس کو چنا جہاں وہ کسی زمانے میں حکومتی امداد لیا کرتے تھے جسے انہوں نے ایک علامت قرار دیا۔

فوٹو بشکریہ مارک زکربرگ فیس بک پیج
فوٹو بشکریہ مارک زکربرگ فیس بک پیج

اس کے بعد سے ان کے اثاثے 6.8 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے جبکہ وہ فیس بک بورڈ کا حصہ بھی بن گئے جہاں ان کی سالانہ تنخواہ صرف ایک ڈالر جبکہ دیگر اسٹاک الگ ہیں۔

کھرب پتی ہونے کے باوجود جان کوم میں نوجوانی سے کفایت شعاری کی جو عادت پڑی تھی وہ ختم نہیں ہوسکی اور یہی وجہ ہے کہ جب فیس بک نے ان کی ایپ خریدی تو انہوں نے فیس بک پر دباﺅ ڈالا کہ اس پر دستخط ان کے بارسلونا کی پرواز سے پہلے کیا جائے اور وہاں جانے کے لیے ٹکٹ بھی انہوں نے رعایتی اسکیم میں لیا تھا جسے ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔