شریف خاندان نے جے آئی ٹی کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا دیے

اپ ڈیٹ 24 مئ 2017

ای میل

اسلام آباد: شریف خاندان نے وزیراعظم نواز شریف کے اہل خانہ کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کیلئے سپریم کورٹ کی ہدایت پر بنائی گئی 6 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے کچھ اراکین پر اعتراضات اٹھادیئے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کے بڑے بیٹے حسین نواز کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ انھوں نے جے آئی ٹی کے کچھ افسران کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے ہیں جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ تحقیقات پر مبینہ طور پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما طلال چوہدری نے یہ بات گذشتہ روز سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران بتائی، ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے جے آئی ٹی کے حوالے سے اپنے خدشات سپریم کورٹ تک پہنچا دیئے ہیں۔

اس سے قبل انھوں نے زور دیا تھا کہ نواز شریف کے دونوں بیٹے حسین نواز اور حسن نواز غیر رہائشی پاکستانی ہیں اور وہ مستحق ہیں کہ ان سے دیگر تارکین وطن کی طرح کا سلوک کیا جائے۔

مزید پڑھیں: جے آئی ٹی شریف خاندان کے اثاثوں کی تفتیش کیلئے تیار

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ حسین نواز نے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ایک درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ حکمران خاندان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کو غیر جانبدارانہ اور منصفانہ بنانے کیلئے چھ افسران کو خود کو جے آئی ٹی سے علیحدہ کرلیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں شامل ایک افسر سابق صدر (ر) جنرل پرویز مشرف کے قریبی دوست ہیں اور وہ اِس وقت انتہائی سرگرم تھے جب خصوصی عدالت میں غداری کیس کی سماعت جاری تھی۔ اس کے علاوہ ٹیم کے ایک رکن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پنجاب کے سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے رشتہ دار ہیں، جو پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے بانی ہیں جو اس وقت پی ٹی آئی کے اتحادی ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) افسر امیر عزیز اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال رسول وہ دو افسران ہیں جن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیف عمران خان کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی کہ انھوں نے کہا ہے کہ وہ شریف خاندان کی جانب سے جے آئی ٹی کے دو افسران پر اٹھائے گئے اعتراضات سے واقف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما لیکس پر جے آئی ٹی تشکیل، ارکان کا اعلان

انھوں نے تحقیقات کے دوران وزیراعظم کا عہدہ نہ چھوڑنے پر نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایس بی پی اور دیگر مالی اداروں کو دیکھنے والے موجودہ وزیر کو خود منی لانڈنگ کے کیس کا سامنا ہے۔

حسین نواز کے خدشات کے علاوہ یہ افواہیں بھی گردش کررہی ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف کے کزن طارق شفیع نے جے آئی ٹی کی جانب سے ان کے ساتھ ممکنہ طور پر رواں رکھے جانے والے سلوک پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

طارق شفیع نے پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں ایک اقرار نامہ جمع کرایا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے 1980 میں گلف اسٹیل مل کی فروخت کے بعد قطری حکمرانوں کو 1 کروڑ 20 لاکھ یو اے ای درہم نقد دیے تھے۔

20 جنوری 2017 کو جمع کرائے گئے اقرار نامے میں طارق شفیع کا کہنا تھا کہ انھوں ںے یہ رقم دبئی کی ایک اسٹیل مل کے مالک محمد عبداللہ قائد سے قسطوں میں موصول کرکے قطر کے شیخ فہد بن جاسم بن جبار التھانی کو نقد ادا کی تھی، دبئی کی مذکورہ اسٹیل مل میں شفیع کے 25 فیصد شیئرز تھے۔

یہ رپورٹ 24 مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی