اسلام آباد: پاکستان نے کابل حملے کی مذمت کرتے ہوئے افغانستان کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نوازشریف کی صدارت میں کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں ملکی اور خطے کی سیکیورٹی کے معاملات زیر غور آئے۔

اجلاس کے شرکاء نے گذشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے دہشت گردی حملے کی مزمت کی اور افغان عوام کو اپنی حمایت کا یقین دلوایا۔

مزید پڑھیں: 'افغانستان الزام تراشیوں کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکے'

شرکاء نے افغانستان کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس حوالے سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

اس موقع پر یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ خطے میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے بڑے مالی اور جانی نقصان اور محدود وسائل کے باوجود دہشت گردی کے خلاف واضح کامیابی حاصل کی۔

پاکستان نہ صرف ایک مستحکم افغانستان کیلئے پُر عزم ہے بلکہ وہ اس حوالے سے خطے اور دنیا کی جانب سے آغاز کے گئے عمل پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ اسی دوران پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال کی گئی ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ’غیر اعلانیہ جنگ‘ مسلط کررہا ہے، افغان صدر

اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود پاکستان مقامی، خطے اور عالمی امن کیلئے اقدامات جاری رکھنے کیلئے پُر عزم ہے۔

اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف ایئر اسٹاف ایئر مارشل سہیل امان، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل نوید مختار اور دیگر سینئر سول اور ملٹری حکام موجود تھے۔