لاہور: بھارت میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے ویزوں کے اجراء کے باوجود بھارتی حکام نے سکھ یاتریوں (زائرین) کو اٹاری ریلوے اسٹیشن پر ’تکنیکی بنیاد‘ کو وجہ بناتے ہوئے پاکستان میں داخل ہونے سے روک دیا۔

سکھ یاتری ’ارجن دیو جی‘ کی یاد میں پاکستانی صوبے پنجاب کے علاقے حسن ابدال میں منعقدہ 10 روزہ ’جوڑ میلہ‘ میں شرکت کرنا چاہتے تھے جس کا آغاز آج (9 جون) سے ہورہا ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق لاہور ریلوے اسٹیشن سے سمجھوتہ ایکسپریس بھارتی ریلوے اسٹیشن اٹاری بھیجی گئی جہاں سے اسے روزانہ کی بنیاد پر آنے والے مسافروں کے علاوہ 80 سکھ یاتریوں کو بھی پاکستان لانا تھا جو کہ خالی پاکستان لوٹ آئی۔

اسی دوران 14 سکھ یاتری واہگہ بارڈر سے پاکستان میں داخل ہوئے اور متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) کے حکام نے یاتریوں کا پر جوش استقبال کیا، بعد ازاں ان سکھ زائرین کو ایک اسپیشل بس کے ذرریعے سخت سیکیورٹی میں حسن ابدال میں موجود ’گردوارا پنجا صاحب‘ روانہ کر دیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں: مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد

متروکہ وقف املاک بورڈ کے ڈپٹی سیکریٹری عمران گوندل کا کہنا تھا کہ پاکستان ہائی کمیشن نے وزارت داخلہ سے کلیئرنس ملنے کے بعد تقریباً 80 سکھ زائرین کو 7 جون کو ویزوں کا اجراء کیا تھا جن میں سے 14 افراد کو واہگہ باڈر سے پیدل چل کر پاکستان میں داخل ہونا تھا جبکہ دیگر تمام زائرین کو ’اسپیشل ٹرین‘ کے ذریعے پاکستان آنا تھا جبکہ اس ٹرین کو پاکستان نے ہی زائرین کو لانے کے لیے بھارت بھیجا تھا۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی سمجھوتہ ایکسپریس اپنے شیڈول کے مطابق بھارت پہنچی تو وہاں موجود پاکستانی حکام نے سکھ زائرین سے درخواست کی کہ وہ اس ٹرین سے واہگہ کی جانب روانہ ہو جائیں۔

عمران گوندل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ریلوے حکام نے بھارتی ریلوے حکام سے سکھ یاتریوں کو لانے کے لیے ایک اسپیشل ٹرین روانہ کرنے کی اجازت چاہی جسے بھارتی ریلوے حکام نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی وزارت کی جانب سے اس سلسلے میں اب تک اجازت دینے کا حکم نہیں ملا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کی ٹرین روک لی گئی

عمران گوندل نے بتایا کہ اس جواب کے بعد پاکستانی حکام نے سکھ زائرین کو سمجھوتہ ایکسپریس سے سفر کرنے کی درخواست کی تھی لیکن بھارتی حکام نے زائرین کو اس ٹرین میں سوار ہونے سے روکتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرین ان (زائرین) کے لیے نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایسے زائرین جن کے پاس واہگہ باڈر سے پاکستان میں داخل ہونے کا ویزا تھا، وہ لاہور پہنچ گئے اور پھر انہیں حسن ابدال کی جانب روانہ کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ زائرین کو پاکستان نہ بھیجنے کے باوجود پاکستانی ریلوے حکام نے بھارتی حکام سے ایک مرتبہ پھر (اٹاری کی جانب) اسپیشل ٹرین بھیجنے کی درخواست کی جسے بھارت نے دوبارہ مسترد کر تے ہوئے کئی زائرین کو اس اہم مذہبی تہوار میں شرکت سے محروم رکھا۔


یہ خبر 9 جون 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی