ای میل

موہڑہ مُرادو: تین سو برس قائم رہنے والی ٹیکسلا کی آخری یونیورسٹی

ابوبکر شیخ

زندگی کو سمجھنے کے کئی فلسفے ہیں، ہر ایک سوچ اور تخیل کی اُڑان کا اپنا آسمان ہے۔ غلط یا صحیح ثابت کرنے کے لیے ایک زمانہ چاہیے، اس لیے ہم یہ سارے فیصلے وقت کے ہاتھوں سونپ دیتے ہیں کہ وہ ہی بہتر منصف ہے۔

اس وقت جب ہم انسان کی محنت و جستجو کی بدولت ایک ترقی یافتہ زمانے کے دہانے پر کھڑے ہیں تو اس بات پر ہم سب متفق ہیں کہ، موجودہ ترقی اُس علم کی وجہ سے ہی ممکن ہو پائی ہے جس کا سلسلہ کئی صدیوں پہلے جنما اور اُس کا تسلسل آج تک کسی آبشار کی طرح جاری ہے۔ یہ علم کی آبشار ہی ہے جس نے ہمیں تہذیب یافتہ انسان کا اعزاز بخشا ہے۔

ٹیکسلا، بالخصوص بُدھ مت اور دیگر علوم اور فلسفوں کے حوالے سے تیسری قبل مسیح سے پانچویں صدی عیسوی تک علم کا مرکز بنا رہا۔ ہم اگر سرکپ نامی قدیم شہر جائیں تو ہمیں وہاں موجود جین دھرم کے سوا مذہبی فلسفوں کے بحث و مباحثوں کا ذکر تاریخ کے اوراق میں پڑھنے کو مل جاتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیکسلا درسگاہوں کا ایک عظیم شہر تھا۔ جہاں دھرماراجیکا جیسی درسگاہ بھی تھی جو اس شہر کے ابتدائی شاندار دنوں کا پتہ دیتی ہے اور موہڑہ مرادو کی درسگاہ بھی ہے جو اس کے آخری دنوں کی شاہد ہے۔

موہڑہ مُرادو کا مرکزی اسٹوپا— تصویر ابوبکر شیخ
موہڑہ مُرادو کا مرکزی اسٹوپا— تصویر ابوبکر شیخ

مہاتما بدھ کے سہہ لفظی فلسفہ 'سروم دکھم دکھم' نے ایک زمانے سے مروجہ روایات کو بدل کر رکھ دیا۔ ’سدھارتھ‘ جو اس فلسفہ کا بانی تھا وہ ایک شہزادے کی زندگی جی رہا تھا۔ ساکیہ قوم کے سربراہ کا اکلوتا بیٹا، جس کی راجدھانی ’کپل وستو‘ کی شمالی سرحد پر تھی، یہ ایک چھوٹی ریاست تھی اور سدھارتھ اُس کا شہزادہ تھا۔

19 برس کی عُمر میں اُس نے اپنا راج محل چھوڑا اور ایک اَن دیکھی منزل کی تلاش میں نکل گیا۔ کہتے ہیں کہ پہلے اس کی یہ تشنگی رشی الاراکلاما کے پاس لے گئی جہاں اُس نے ’اُپنشدھ‘ کا درس لیا مگر وہ اَن دیکھی پیاس ان اُپنشدھوں سے بُجھ نہ سکی۔ وہ جنگلوں اور ویرانیوں میں بھٹکتا رہا۔ پھر شاید وہ منزل کے قریب پہنچ ہی گیا۔

’گیا‘ شہر کے قریب ایک گاؤں کی عورت 'شوجا' نے اُسے بھیک میں چاول کی کھیر دی۔ کھیر کھا کر سدھارتھ پیپل کے ایک درخت کے نیچے گیان دھیان میں گم ہو گیا، محویت کے اس عالم میں اُسے پہلی بار معرفت ہوئی اور وہ بُدھ (عارف) بن گیا۔ گوتم بدھ نے پہلا وعظ بنارس کے قریب ’سارناتھ‘ کے مقام پر ایک باغ میں دیا، وہ جہاں جاتا غریب اور چھوٹی ذات والے افراد ان کے پیرو بن جاتے۔ گوتم بدھ 80 برس تک جیے۔اور ’کشی نگر‘ کے مقام پر 484 قبل مسیح میں سفرِ زندگی اختتام پذیر ہوا۔

دھرماراجیکا اور سرکپ کے آثاروں سے جو ’ہتھیال‘ پہاڑوں کا سلسلہ نکلتا ہے وہ موہڑہ مُرادو تک بھی چلا آتا ہے۔ میں جب لنک روڈ سے اس درسگاہ کی طرف جا رہا تھا تو، انتہائی زرخیز زمینیں لنک روڈ کے اطراف پھیلی ہوئی تھیں۔ دُھوپ کی وجہ سے درختوں پر ہریالی اس چاہ سے آئی ہوئی تھی کہ جہاں جہاں نگاہ جاتی ایک عجیب قسم کی ٹھنڈک اور سکون کا احساس روح کی گہرائیوں میں اُتر سا جاتا۔ مئی کا مہینہ تھا، دوپہر ڈھل چکی تھی مگر گرمی تھی۔

موہڑہ مرادو کے آثار سے پہلے ٹھنڈے پانی کی ایک چھوٹی سی نہر آئی جس میں نوجوان اور بچے نہا رہے تھے۔ سامنے ایک پہاڑی سلسلہ تھا اور اس کی گود میں وہ آثار تھے جہاں تین سو برس تک ہزاروں علم کے پیاسوں نے یہاں اپنی پیاس بُجھائی۔

موہڑہ مُرادو کا نقشہ — تصویر ابوبکر شیخ
موہڑہ مُرادو کا نقشہ — تصویر ابوبکر شیخ

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ، ٹیکسلا وہ شہر تھا جس کے آسمان نے کبھی دھواں نہیں دیکھا۔ وہاں کبھی کوئی ہتھیار نہیں بنا۔ بازاروں میں جو بیوپار ہوتا وہ بھی برسوں کے واعدوں کے اعتبار پر ہوتا۔ یہاں دکانیں کم اور یونیورسٹیاں زیادہ تھیں۔ سلمان رشید لکھتے ہیں، "موئن جو دڑو اور ہڑپہ، جنہوں نے قدیم عراق کے شہر 'اُر' اور 'نینوا' کو آج سے 6 ہزار برس پہلے بہت کُچھ سکھایا، کو اگر چھوڑ بھی دیں اور صرف ٹیکسلا کی بات کریں تو اس کے مُتعلق سکندر کے تاریخ دانوں سے بہت کُچھ پتہ چلتا ہے۔

اُن میں کچھ تو وہ تھے جو سکندر کے ساتھ آئے تھے اور انہوں نے یہاں کے بارے میں بہت کُچھ لکھا، جس کو بنیاد بنا کر بعد میں ماخذ تواریخ بھی قلم بند کی گئیں، ان میں ایک نمایاں نام سکندر کا جرنیل 'نیارکس' (Nearchus) کا ہے جن کی تصنیف کے کُچھ حصے ہم تک پہنچے، اس کے علاوہ یونانی سفارتکار 'میگاستھینیز' (Megasthenes) کام نام بھی نمایاں ہے، جو سکندر سے محض پچیس برس بعد 'چندرگپت موریا' کے دربار میں سفیر بن کر آئے اور یہاں 15 برس تعینات رہے، اس طویل عرصے میں انہوں نے یہ خطہ گھوم پھر کر بہت ہی قریب سے دیکھا اور اپنے ملک واپسی پر Indika نامی کتاب لکھی جو ٹکسلا کے بارے میں ایک خزانہ ہے۔ ۔ ۔"

موہڑہ مرادو کی تعمیر دوسری صدی میں ہوئی، یہ درسگاہ اُس علم کا تسلسل تھی جو یہاں ٹیکسلا کی زمین پر جنما اور جوان ہوا۔ اس خانقاہ کا تعلق ’کشن سلطنت‘ کے دور سے تھا۔ اشوک کے بعد 'موریا سلطنت' پر زوال آیا تو باختر کے یونانی نژاد بادشاہوں نے وادئ سندھ پر قبضہ کرلیا لیکن پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔

یونانیوں کے اقتدار کا سورج پہلی صدی میں ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔ 'ساکاؤں' کی آخری یلغار میں انہوں نے یونانیوں کو شکست دے کر گندھارا پر قبضہ کرلیا اور رفتہ رفتہ اُن کی سلطنت پنجاب، سندھ سے متھرا تک پھیل گئی (90 ق م سے 25 ع) ان کا جُھکاؤ بدھ مت کی طرف تھا، مگر دوسرے مذاہب سے بھی ان کا برتاؤ کافی روادار اور نرم مزاج رہا۔ ساکاؤں کو ٹیکسلا میں راج کرتے سو سال گذرے تھے کہ 'پارتھیوں' کا ریلہ آیا اور ساکاؤں کے اقتدار کو بہا کر لے گیا۔

پہاڑوں کی ایک قدرتی حفاظتی دیوار میں گھری ہوئی یہ درسگاہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کی ابتدائی کھدائی سر جان مارشل نے 1914 سے 1915 تک کی تھی۔ آپ جیسے اس مقام پر پہنچتے ہیں تو ایک مرکزی اسٹوپا آپ کا استقبال کرتا ہے۔ ساتھ میں ایک خوبصورت ہتھیال پہاڑیوں کا سلسلہ اور مرکزی اسٹوپا کے مشرق میں کھڑا کیکر کا درخت آپ سے حال چال پوچھتا ہے۔

ایک سحر انگیز اسٹوپا جس کی قدامت بھری خوبصورتی میں آپ گم سے ہو جاتے ہیں۔ اُس کے بعد وہ منتی اسٹوپا (Votive Stupa) ہے جہاں آپ کو گول اور مربع میناری ستون دیکھنے کو ملتے ہیں جو بدھ مت کے اسٹوپاؤں کا خاصہ رہا ہے۔ یہاں اچھے کرموں کے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ اس اسٹوپا میں آپ کو گندھارا آرٹ دیکھنے کو ملتا ہے۔

گندھارا آرٹ کا ایک نمونہ — تصویر ابوبکر شیخ
گندھارا آرٹ کا ایک نمونہ — تصویر ابوبکر شیخ

سبط حسن لکھتے ہیں، "ایرانی نژاد پارتھین نہایت مہذب لوگ تھے، چنانچہ گندھارا آرٹ کی ابتدا انہی کے دور میں ہوئی، پارتھیوں نے یہاں 53 برس تک حکومت کی، اس کے بعد ’کُشن‘ قوم نے سر اُٹھایا اور وادئ سندھ پر قبضہ کر لیا، کُشنوں نے دو سو برس تک حکومت کی، سلطنت کا مرکز چونکہ گندھارا کا علاقہ تھا اس لیے گندھارا کو ترقی کے خوب مواقع ملے، گندھارا آرٹ اس تہذیبی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔"

’گندھارا آرٹ‘ آریا، یونانی، ساکا، پارتھین اور کشن تہذیبوں کا نچوڑ ہے، اس آرٹ کا مرکز یوں تو ٹیکسلا تھا لیکن اس فن کی جڑیں دور پشاور، مردان، سوات، افغانستان حتیٰ کہ وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس شاندار کام کو دیکھنے کے لیے یہ ایک شاندار اسٹوپا ہے۔ سدھارتھ ہے جو کئی کیفیتوں میں بیٹھا اور گیان میں گُم نظر آتا ہے۔

اسٹوپا کے بعد آپ اُس شاندار درسگاہ کے مرکزی دروازہ پر آتے ہیں۔ جہاں ماضی کی شان و شوکت کی مشعلیں اب بھی جگمگ جگمگ جلتی ہیں۔ آپ جیسے اس مرکزی گزرگاہ سے گزر کر اندر داخل ہوتے ہیں تو سامنے پہاڑ ہیں اور ان کی گود میں موجود اس درسگاہ کے کمروں کے بیچ صحن میں پانی کا تالاب ہے اور اس تالاب کے کنارے طالب علموں کے لیے 27 کمرے ہیں۔

درسگاہ کا مرکزی دروازہ— تصویر ابوبکر شیخ
درسگاہ کا مرکزی دروازہ— تصویر ابوبکر شیخ

درسگاہ کے کمرے اور پس منظر میں ہتھیال پہاڑی سلسلہ— تصویر ابوبکر شیخ
درسگاہ کے کمرے اور پس منظر میں ہتھیال پہاڑی سلسلہ— تصویر ابوبکر شیخ

یہ تالاب مستطیل ہے اور اس کے اندر بارش سے حاصل ہونے والا پانی مذہبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہاں کھانا پکانے کے لیے وسیع و عریض باورچی خانہ بھی ہوتا تھا۔ جبکہ غسل خانہ اور ساتھ میں ایک کنواں اب بھی بہتر حالت میں موجود ہے۔ ایک تحقیقی تحریر کے مطابق یہ ایک دو منزلہ درسگاہ تھی، دوسری منزل تک جانے کے لیے زینے جاتے تھے، دیواروں کی چوڑائی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شاید تیسری منزل بھی بنی ہوگی۔

پھر باورچی خانہ کے نزدیک اسیمبلی ہال ہے، جہاں طلبا کی روحانی اور علمی تشنگی دور کی جاتی تھی۔ جس طرح دھرماراجیکا اپنے زمانے کی بڑی جامعہ تھی اسی طرح ٹیکسلا کے زوال کے دنوں میں موہڑہ مُرادو بھی ایک بڑی جامعہ تھی جہاں چہار سُو فطرت اپنی خاموشی میں اپنی خوبصورتی کے رنگ بکھیرتی۔ سرکپ جو اُس زمانہ کا بڑا شہر تھا وہ یہاں سے 25 کلومیٹر سے زیادہ دور نہیں تھا۔

پھر ایک چونا مٹی کا بنا ہوا ایک یادگار اسٹوپا بھی ہے جو اسمبلی ہال کے ایک کمرہ نمبر 9 میں اصلی شکل میں موجود ہے جو شاید کسی اُستاد کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہوگا۔ اور وہ شاید اسی کمرے میں رہتا ہوگا، اس نازک یادگار اسٹوپا کی لمبائی 4 میٹر کے قریب ہے، اس کی نقل آپ ٹیکسلا کے عجائب گھر میں دیکھ سکتے ہیں۔

ایک اسٹوپا جو شاید کسی استاد کی یاد میں بنایا گیا ہوگا— تصویر ابوبکر شیخ
ایک اسٹوپا جو شاید کسی استاد کی یاد میں بنایا گیا ہوگا— تصویر ابوبکر شیخ

تین صدیوں تک قائم رہنے والی یہ درسگاہ ٹیکسلا کی شاید آخری درسگاہ تھی۔

460 میں ظالم، وحشی اور بے رحم ’ہنوں‘ نے اپنی وحشتوں سے شہروں اور بستیوں کو مسمار کر دیا، اسٹوپاؤں اور وہاروں میں آگ لگا دی۔مشہور چینی سیاح ’ہوانگ سانگ‘ حُنوں کے آخری دنوں میں 629 آیا، سوات کا ذکر کرتے وہ لکھتا ہے کہ یہاں کسی زمانے میں 18 ہزار بِھکشو رہتے تھے لیکن اب ’وہار‘ اور ’اسٹوپا‘ ویران پڑے ہوئے ہیں۔ ٹیکسیلا کا حال بھی کُچھ اسی طرح کا بیان کیا گیا ہے۔

سبط حسن لکھتے ہیں، "حقیقت یہ ہے کہ پانچویں، چھٹی اور 7 ویں صدی کا زمانہ اس تہذیب کا تاریک ترین دور ہے، ان تینوں صدیوں میں علم و فن نے کوئی ترقی نہیں کی۔" 10 ویں صدی میں ’کتاب الہند‘ کے مصنف ابو ریحان البیرونی (1048-973) نے ٹیکسیلا کو دیکھا تھا تب تک یہ شہر ویران ہو چکا تھا۔

البیرونی کی بیان کردہ ویرانی اب بھی ان آثاروں کی جڑوں میں بستی ہے۔ یہاں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آثار قدیمہ کے مقامات کو بڑے اپنے پن سے سنبھالا جا رہا ہے اور اپنے ماضی سے یہ اُنسیت اور اپنائیت کا خوبصورت تقاضا بھی یہی ہے۔


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔

ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔