پاناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے اثاثوں اور مالی معاملات کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے 2 ارکان سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم الثانی کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے قطر روانہ ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق قطر جانے والے جے آئی ٹی ارکان میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے عرفان نعیم منگی اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے بریگیڈیئر کامران رشید شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جے آئی ٹی کے دونوں ارکان ایمریٹس ائرلائن کی پرواز ای کے 615 کے ذریعے صبح 3 بجے اسلام آباد سے دبئی کے لیے روانہ ہوئے جہاں سے وہ دوسرے ملک سے ہوتے ہوئے دوحہ جائیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جے آئی ٹی ارکان کی قطر روانگی کی خبریں اس وقت گردش کرنے لگیں جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ 6 رکنی جے آئی ٹی ٹیم کے صرف 4 ارکان ہی وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز سے تفتیش کررہے ہیں، جو آج چھٹی مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاناما کیس: سابق قطری وزیراعظم کا ایک اور خط پیش کردیا گیا

سابق قطری وزیراعظم کے معاملے نے اُس وقت سر اٹھایا تھا جب نومبر 2016 میں سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے سامنے شریف خاندان کے وکلا نے حمد بن جاسم الثانی کا خط پیش کیا تھا۔

عدالت عظمیٰ میں پیش کیے گئے حمد بن جاسم بن جابر الثانی کے تحریری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ 'میرے والد اور نواز شریف کے والد کے درمیان طویل عرصے سے کاروباری تعلقات تھے، میرے بڑے بھائی شریف فیملی اور ہمارے کاروبار کے منتظم تھے۔'

خط کے مطابق '1980 میں نواز شریف کے والد نے قطر کی الثانی فیملی کے رئیل اسٹیٹ بزنس میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش ظاہر کی، میرے خیال میں 12 ملین درہم نواز شریف کے والد نے ہمارے کاروبار میں لگائے، جو انھوں نے دبئی میں اپنے بزنس کو فروخت کرکے حاصل کیے تھے۔'

یہ بھی پڑھیں:’سابق قطری وزیراعظم کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں‘

حمد بن جاسم بن جبر الثانی نے خط میں مزید کہا کہ 'لندن کے 4 فلیٹس (16، 16اے ، 17 اور 17 اے ایون فیلڈ ہاؤس، پارک لین ، لندن) دو آف شور کمپنیوں کے نام رجسٹرڈ تھے، ان آف شور کمپنیوں کے شیئر سرٹیفکیٹ قطر میں موجود تھے، لندن کے فلیٹس قطر کے رئیل اسٹیٹ بزنس کے منافع سے خریدے گئے اور دونوں خاندانوں کے تعلقات کی بناء پر یہ فلیٹس شریف خاندان کے زیر استعمال تھے جس کا وہ کرایہ دیتے تھے۔'

جس کے بعد حمد بن جاسم الثانی کے خط پر تنقید کا آغاز ہوگیا اور یہ کہا گیا کہ شریف خاندان پاناما کیس سے بچنے کے لیے قطری خط کے پیچھے چھپ رہا ہے۔

بعدازاں جنوری 2017 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لاجر بینچ کے سامنے وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز نے دیگر دستاویزات کے ساتھ حمد بن جاسم الثانی کا ایک اور خط بھی پیش کیا تھا۔

22 دسمبر 2016 کو لکھے گئے مذکورہ خط میں شہزادہ جاسم کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے پہلے خط پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں دوسرا خط تحریر کیا۔

مزید پڑھیں:سابق قطری وزیراعظم کا خط اور وزیراعظم کا موقف مختلف: سپریم کورٹ

خط کے متن کے مطابق میاں شریف نے 1980 میں ایک کروڑ 20 لاکھ درہم کی سرمایہ کاری کی، یہ سرمایہ کاری نقد کی صورت میں کی گئی، 2005 میں اس سرمایہ کاری کے ضمن میں ان پر شریف خاندان کے 80 لاکھ ڈالر واجب الادا تھے، جنھیں نیلسن اور نیسکول کمپنی کے شیئرز کی صورت میں ادا کیا گیا، نیلسن اور نیسکول کے بیرئیر سرٹیفیکیٹ کی ادائیگی لندن کے کاروباری شخصیت وقار احمد کے ذریعے کی گئی۔

تاہم قطری خطوط کے حوالے سے شریف خاندان پر ہونے والی تنقید میں کمی نہ آئی جبکہ معروف قانون دانوں نے خیال ظاہر کیا کہ قطری شہزادہ حمد بن جاسم بن جابر الثانی کو سپریم کورٹ میں ’مطلوبہ شواہد‘ پیش کرنے ہوں گے اور پاناما پیپرز کیس میں خود کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا ورنہ ان کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

پاناما پییر کیس اور جے آئی ٹی کی تشکیل

یاد رہے کہ رواں برس 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حکمراں جماعت کو جے آئی ٹی میں فوجی اہلکاروں کی شمولیت پر اعتراض

اس کے بعد 6 مئی کو سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی میں شامل ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔

جے آئی ٹی کا سربراہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ دیگر ارکان میں ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے بریگیڈیئر کامران خورشید، انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے بریگیڈیئر نعمان سعید، قومی احتساب بیورو (نیب) کے گریڈ 20 کے افسرعرفان نعیم منگی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز شامل ہیں۔


تصحیح: ابتداء میں اس خبر میں حمد بن جاسم الثانی کو قطری شہزادہ لکھا گیا تھا، جسے تبدیل کرکے سابق قطری وزیراعظم کردیا گیا ہے، جو درست ہے۔