وینزویلا:صدر کےحامیوں کا پارلیمنٹ پرحملہ،متعدد اپوزیشن ارکان زخمی

اپ ڈیٹ 06 جولائ 2017

ای میل

وینزویلا کی پارلیمنٹ پر حملے اور ہنگامہ آرائی کا ایک منظر—۔فوٹو/ اے پی
وینزویلا کی پارلیمنٹ پر حملے اور ہنگامہ آرائی کا ایک منظر—۔فوٹو/ اے پی

وینزویلا میں صدر نکولس مدورو کے حامیوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کردیا اور بندوقوں، ڈنڈوں اور دھماکا خیز مواد سے لیس افراد نے اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ سمیت کئی افراد کو لہولہان کردیا۔

اپوزیشن ارکان حکومت کے حامیوں کے حملے کے بعد جان بچا کر بھاگ رہے ہیں—۔فوٹو/ اے پی
اپوزیشن ارکان حکومت کے حامیوں کے حملے کے بعد جان بچا کر بھاگ رہے ہیں—۔فوٹو/ اے پی

ونیزویلا میں سڑکوں کا جھگڑا اُس وقت پارلیمنٹ تک پہنچ گیا، جب دارالحکومت کاراکس میں حکومت کے حامی 100 کے قریب افراد پارلیمنٹ کے باہر جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف اپوزیشن کی احتجاجی تحریک پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

نعرے بازی کے بعد بموں، پائپوں اور ڈنڈوں سے لیس مظاہرین اسمبلی کی عمارت میں گھس گئے اور اپوزیشن ارکان کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور اسمبلی ملازمین پر بھی تشدد کیا۔

واقعے کے بعد متعدد اراکین اسمبلی کو زخمی حالت میں باہر نکالا گیا، جبکہ کئی اراکین نے چھپ کر جان بچائی، اس دوران ساڑھے 300 کے قریب افراد کئی گھنٹوں تک اسمبلی میں محصور رہے۔

مزید پڑھیں:وینزوویلا: سیاسی کشیدگی میں اضافہ

ابتداء میں پولیس نے مداخلت نہیں کی، تاہم بعدازاں پولیس ایکشن میں آئی اور قانون سازوں کو عمارت سے نکالا گیا۔

واضح رہے کہ وینزویلا میں گذشتہ 3 ماہ میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران 70 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مظاہرین صدر نکولس مدورو پر معاشی بحران اور خوراک اور ادویات کی کمی کا الزام عائد کرتے ہیں، جبکہ صدر اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اس بحران کی ذمہ دار 'امریکی حمایت یافتہ اپوزیشن سازش' ہے۔

یہ بھی دیکھیں: وینزویلا مظاہروں پر ایک نظر

اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ صدر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور ملک میں نئے الیکشن کروائے جائیں۔

پارلیمنٹ پر حملے کے واقعے کے بعد وینز ویلا کے صدر نکولس مدورو نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔