حسین فریدون نے صدر کے مشیر کے طورپر کام کیا—فوٹو:اے ایف پی
حسین فریدون نے صدر کے مشیر کے طورپر کام کیا—فوٹو:اے ایف پی

ایرانی صدر حسن روحانی کے چھوٹے بھائی حسین فریدون کو مالی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عدلیہ کے ڈپٹی چیف غلام حسین محسنی اژہ ای نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 'اس شخص کے حوالے سے کئی مرتبہ تفتیش کی گئی جبکہ دیگر افراد کی بھی تفتیش ہوئی جن میں سے چند جیل میں ہیں'۔

غلام حسین محسنی اژہ ای نے ضمانت حاصل کرنے کی صورت میں رہا کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ 'گزشتہ روز ان کے لیے ضمانت جاری کی گئی تھی لیکن وہ اس پر پورا اترنے میں ناکام ہوئے اس لیے انھیں قید میں بھیج دیا گیا'۔

حسین فریدون ایرانی صدر روحانی کے اہم مشیر اور معان کے طور پر کام کرچکے ہیں۔

یاد رہے کہ ایک سال قبل ایران کے جنرل انسپکشن آرگنائزیشن کے سربرا نصیر سیراج کی جانب سے ان پرمعاملی بدعنوانیوں کا الزام عائد کیا تھا تاہم ایک سال بعد انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

ایران کے اعتدال پسندوں نے فریدون کے خلاف ٹرائل کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ بلاسود قرضے حاصل کرتے رہے ہیں جبکہ ایک بینک کے ڈائریکٹر کو مقرر کرنے میں اپنا اثر رسوخ استعمال کیا تھا۔

امریکی شہری کو 10 سال کی قید

ایرانی عدلیہ کے ڈپٹی چیف غلام حسین محسنی اژہ ای نے مزید کہا کہ ایک امریکی شہری کو مبینہ طور پر 'دراندازی' پر دس سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔

انھوں نے سزا پانے والے شخص کی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا کہ وہ دوہری شہریت کا حامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ شخص پر ملک میں 'دراندازی' اور معلومات اکھٹی کرنے کا بھی الزام تھا۔

غلام حسین محسنی اژہ ای کا کہنا تھا کہ دوہری شہریت کا حامل شخص سزا کے خلاف اپیل کرسکتا ہے۔