— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

ہم میں سے بیشتر افراد کے دن کا آغاز چائے یا کافی کے بغیر نہیں ہوتا کیونکہ ہمارا جسم اس وقت ان گرم مشروبات میں موجود کیفین کی طلب کررہا ہوتا ہے۔

کیفین والے مشروبات صحت پر مختلف انداز سے اثرانداز ہوتے ہیں، جیسے ایک نئی تحقیق کے مطابق کافی پینا زندگی لمبی کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

درحقیقت چائے یا کافی میں موجود کیفین کے چند مثبت اور منفی اثرات ہوتے ہیں جو لگاتار استعمال کرنے پر جسم اور دماغ پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔

یہاں آپ جان سکتے ہیں کہ یہ گرم مشروبات جسم اور دماغ پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں : چائے اور کافی کس حد تک فائدہ مند؟

کیفین سائیکو ایکٹو دوا ہے

جس چیز کا ذکر نہیں کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کیفین درحقیقت ایک دوا ہے بلکہ دنیا میں سب سے زیادہ عام استعمال کی جانے والی دوا ہے، جس کے بارے میں ہم سوچتے بھی نہیں کہ وہ دوا ہے۔ اس پر مبنی مشروبات لوگوں کے اندر محسوسات کے انداز اور ارگرد کی دنیا سے تعلق میں تبدیلیاں لاتے ہیں۔

ذہنی طور پر ہوشیار کرتے ہیں

دن بھر کے کاموں کے دوران تھکاوٹ ہوجانا ایک عام معمول ہے، ہمارا دماغ قدرتی طور پر ایڈنوسائن نامی مالیکیول اس وقت تیار کرنا شروع کرتا ہے جب ہم بیدار ہوتے ہیں اور سونے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جو کہ نیند کے لیے بھی اہم ہے۔ کیفین اس قدرتی عمل کو ہتھیانے والا جز ہے کیونکہ یہ دماغی مالیکیول کی طرح کام کرتا ہے، جس کے باعث ہم ذہنی طور پر زیادہ ہوشیار اور بیداری محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صبح اٹھتے ہی اکثر افراد کو گرم مشروبات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

مزاج خوشگوار بنائے

یہ گرم مشروبات صرف ذہن کو ہی نہیں جگاتے بلکہ مزاج کو بھی خوشگوار بناتے ہیں، جس کی وجہ دماغی مالیکیول ایڈنوسائن کے اثرات کو کیفین کی جانب سے بلاک کرنا ہے، کیفین ڈوپامائن اور گلیوٹامائن نامی کیمیکلز کو دماغ میں حرکت میں لاتا ہے جو کہ زیادہ الرٹ، مزاج کو بہتر بناتے ہیں۔ آسان الفاظ میں یہ گرم مشروبات ڈپریشن کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

یاداشت میں بہتری

کیفین مخصوص اقسام کی یاداشت کو بھی بہتر بناتا ہے، خصوصاً نمبروں کی فہرستوں کو یاد رکھنا یا عام معلومات وغیرہ۔ طبی سائنس کے مطابق ان گرم مشروبات سے یادیں دماغ سے 'چپک' جاتی ہیں اور انہیں بعد میں یاد رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سبز چائے پینے کے یہ فائدے جانتے ہیں؟

توجہ کی صلاحیت بڑھاتی ہے

چائے یا کافی کے ذریعے کیفین کو استعمال کرنے کی عادت کی بڑی وجہ کسی کام پر توجہ مرکوز کرنا ہوتا ہے اور یہ حیران کن نہیں کہ کیفین توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے، خاص طور پر ذہنی تھکاوت کے بعد، طبی سائنس کے مطابق چائے، کافی یا کسی بھی طرح کیفین کے استعمال کے بعد طویل سفر کرنے کے بعد ذہن پر تھکاوٹ طاری نہیں ہوتی، تاہم بہت زیادہ کیفین توجہ مرکوز کرنا مشکل بنادیتی ہے۔

فوائد صرف مسلسل استعمال سے

کچھ طبی رپورٹس کے مطابق کیفین کے فوائد درحقیقت ان گرم مشروبات کی لت پیدا کرنے کے لیے ہوتے ہیں، آسان الفاظ میں جو لوگ چائے یا کافی کے شوقین ہوتے ہیں، وہ ان مشروبات کے بغیر تھکاوٹ کے شکار اور کاموں پر توجہ مرکوز کرنے سے قاصر محسوس کریں گے۔ ان کو پینے کے بعد ہی ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، جس کی وجہ جسم اور دماغ کو کیفین کی عادت ہوجانا ہے۔

بھوک اڑائے

کیفین والے مشروبات کچھ وقت کے لیے کھانے کی خواہش کو ختم کردیتے ہیں، مگر یہ واضح نہیں کہ کیفین کو مسلسل عادت بنالینا کس حد تک جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے۔

کھیلوں میں کارکردگی بڑھائے

کیفین کھیلوں میں کارکردگی بڑھانے والی سب سے عام ادویات میں سے ایک ہے، کچھ ماہرین کے مطابق اگر انسانی جسم اسے برداشت کرسے تو کیفین کی مدد سے اپنی کارکردگی بہتر بناسکتا ہے، یعنی درست مقدار میں استعمال زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

نیند میں کمی کا باعث

کیا آپ کو کبھی حیرت ہوتی ہے کہ چائے یا کافی کا استعمال نیند کیوں بھگا دیتا ہے؟ تو سائنس کے مطابق اس کی وجہ کیفین کا بہت سست روی سے جسم میں جذب ہونا ہے، چائے کے مقابلے میں کافی نیند بھگانے کے لیے زیادہ بہتر یا بدتر مشروب ہے، کیونکہ اس کے اثرات پانچ سے چھ گھنٹے تک برقار رہتے ہیں۔

سینے میں جلن

گرم چائے یا کافی تھکاوٹ یا نزلہ زکام کے دوران اچھا خیال ہے، مگر اس میں موجود کیفین معدے میں ایسڈ کی سطح بڑھاتی ہے جس کے نتیجے میں کچھ افراد کو سینے میں جلن کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے۔